قومی معیشت کی کہانی"چنگھاڑتے بیلوں "کی زبانی

قومی معیشت کی کہانی"چنگھاڑتے بیلوں "کی زبانی
قومی معیشت کی کہانی

  



پیشہ ورانہ زندگی کے آغاز میں لاہور سٹاک ایکسچینج کے شعبہ تعلقات عامہ کی بنیاد رکھی تو سرمائے کی منڈی کے سیٹھ عابد جیسے بڑے بڑے سرمایہ کاروں سے بھی وابستہ پڑا اور ڈاکٹر یاسر محمود، سید عاصم ظفر، حبیب اللہ شیخ جیسے ابھرتے ہوئے نوجوان بروکرز کے ساتھ بھی کام کرنے کا موقع ملا۔ نوے کی دھائی میں ہماری سرمائے کی منڈی میں تبدیلی کا آغاز ہونے جا رہا تھا ”آؤٹ کرائی سسٹم“ کی جگہ کمپیوٹر ائزڈ ٹریڈنگ آنے والی تھی۔اس دور میں گروپ کیپٹن نعیم اے۔خان جیسے وسیع النظر بزرگ بھی فعال تھے اور اکرم ایس محمود جیسے روایتی پرانے بزرگ بھی یہاں سٹاک ایکسچینج کے امور میں دلچسپی لیتے تھے۔ اس وقت پاکستان میں تین جگہ سٹاک ایکسچینج موجود تھے۔ کراچی سٹاک ایکسچینج، لاہور سٹاک ایکسچینج اور اسلام آباد سٹاک ایکسچینج۔ حصص کا کاروبار، بنیادی طور پر کراچی میں ہوتا تھا، یعنی کے ایس سی، پاکستان کا پریمیئر سٹاک ایکسچینج تھا، جبکہ لاہور اور اسلام آباد اس کے خوشہ چیں تھے۔ کراچی سٹاک ایکسچینج ایک مستحکم اور حقیقی مرکزی منڈی تھا، جبکہ لاہور اسلام آباد اس کے نقش قدم پر چلتے تھے،لیکن لاہور کے بڑے بزرگ اور نوجوان بروکر مل جل کر لاہور سٹاک ایکسچینج کے قد کاٹھ میں اضافے کے لئے سوچ بچار کرتے رہتے تھے۔

فیڈریشن آف یورو ایشین سٹاک ایکسچینج والوں کی 3 روزہ سالانہ جنرل میٹنگ کا یہاں لاہور میں اجلاس اسی سوچ اور کاوشوں کا نتیجہ تھا، جس میں ایشیا اور یورپ کے 21/22 سٹاک ایکسچینجوں کے وفود نے شرکت کی، اس طرح ایل ایس ای کا نام اور کام عالمی سطح پر سامنے آیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے بھی ایک سیشن میں شرکت کی اور غیر ملکی وفود کے اعزاز میں دئیے گئے ایک ڈنر میں صدر مملکت بھی بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی کیپٹل مارکیٹ ریفارمز کے نتیجے میں ہماری سٹاک مارکیٹ عالمی مارکیٹوں کا حصہ بنی، اس پراجیکٹ پر بینک نے 250 ملین ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی تھی، یہی وجہ ہے کہ آج ہماری سرمائے کی منڈی، عالمی مارکیٹ میں ایک قابلِ ذکر حیثیت کی حامل ہے۔ جدید خطوط پر استوار پاکستان سٹاک ایکسچینج کا انڈکس ملکی اور عالمی معیشت کے ساتھ اس طرح مربوط ہے کہ اسے ایک قابل بھروسہ اشاریے کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔

سٹاک مارکیٹ، عالمی ہو یا ریجنل اور ملکی، معاشی سرگرمیوں کے اشاریے کا کام کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق مارکیٹ انڈکس کی حرکیات، معیشت اور معاشی صحت کے ساتھ منسلک ہوتی ہے۔ انڈکس کی موومنٹ، یعنی بڑھنااور گھٹناایک دلچسپ میکا نزم ہے۔ مثبت اور منفی تاثر، یعنی (PERCEPTION) انڈکس کو مثبت یا منفی سمت میں لے جاتا ہے۔ مارکیٹ میں منفی خبریں، انڈکس کو منفی اور مثبت خبریں انڈکس کو مثبت سمت میں لے جاتی ہیں۔ ہمارے یہاں سٹاک مارکیٹ انڈکس کو بیان کرنے کا فیشن 90 کی دھائی میں شروع ہوا۔ اشتراکی ریاست کے خاتمے کے بعد سرمایہ دارانہ نظام کی حرکیات میں تبدیلیاں واقع ہونا شروع ہوئیں۔ عالمی امداد کی جگہ غیر ملکی سرمایہ کاری نے لینا شروع کر دی۔ عالمی سیاسی نظام نے انگڑائی لی اور نئے عالمی معاشی نظام نے جگہ بنانا شروع کی، جس میں سرمائے کی منڈی نے کلیدی حیثیت اختیار کی۔ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی کیپٹل مارکیٹ ریفارمز کے بعد ہماری سٹاک مارکیٹ سرمائے کی عالمی منڈی سے باہم مربوط ہو چکی ہے، اس لئے کتابوں میں درج نظریات اور عملی ضوابط کے مطابق پاکستانی سٹاک مارکیٹ کے بارے میں گفتگو کی جا سکتی ہے، گویا اگر ہم پاکستان سٹاک مارکیٹ کی کارکردگی کو قومی معیشت کی صحت و توانائی کے حوالے سے دیکھیں تو غلط نہیں ہو گا…… یعنی ہم اپنی قومی معاشی کارکردگی کو سٹاک مارکیٹ انڈکس کی عینک سے دیکھ سکتے ہیں اور ایسا کرنا ہمیں حقیقت تک لے جائے گا……کہا جاتا ہے کہ موجودہ حکومت اناڑی ہے، اس کی کارکردگی اچھی نہیں ہے، خاص طور پر معیشت جمود کا شکار ہے، قدرِ زر میں شدید گراوٹ کے باعث مہنگائی بڑھتی چلی جا رہی ہے، ذرائع آمدنی گھٹ رہے ہیں، ٹیکسوں کی بلند شرح اور مصارف پیدائش میں اضافے نے پیداواری عمل کو شدید دھچکا لگا یا ہے، اس طرح معیشت دباؤ کا شکار ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ معیشت مشکل دور سے نکل گئی ہے، حالات مثبت سمت میں جانے لگے ہیں، حالات بہتر ہو رہے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان معاملات ایسے ہی چل رہے ہیں۔ اپوزیشن، حکومت کو مکمل طور پر ناکام ثابت کرنے کے لئے کاوشیں کر رہی ہے، جبکہ عامۃ الناس مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔حکومتی کارکردگی بارے عمومی تاثر مثبت نہیں ہے۔بے شمار مسائل ہیں۔ فکری، انتظامی اور شخصی اعتبار سے معاملات میں توازن نہیں پایا جاتا ہے۔ ویسے معاملات ”آدھا گلاس خالی ہے یا آدھا گلاس بھرا ہوا ہے“ جیسے ہیں۔اپوزیشن قومی معاملات کے منفی پہلوؤں کو دیکھ رہی ہے، اسے گلاس کا خالی حصہ نظر آرہا ہے۔ بات وہ بھی درست کہہ رہی ہے، جبکہ حکومت معاملات درست کرنے کی کاوشیں کر رہی ہے، اس لئے وہ آدھا بھرا ہوا گلاس دیکھتی ہے، اس طرح فریقین اپنے اپنے نقطہ نظر سے درست کہہ رہے ہیں …… دیکھتے ہیں سٹاک مارکیٹ انڈکس کیا کہتا ہے؟ دو سال (2017ء۔ 2018ء) میں منفی رجحانات کے بعد سٹاک مارکیٹ نے 2019ء میں مثبت رجحانات ظاہر کئے ہیں۔ 2017ء کے دوران مارکیٹ میں مجموعی طور پر منفی 15 فیصد کارکردگی رہی، جبکہ 2018ء میں اس منفی رجحان میں کمی آئی، لیکن انڈکس میں مجموعی طور پر 8 فیصد گراوٹ دیکھنے میں آئی، مارکیٹ نے 2017ء سے ہی بہتری دکھانا شروع کر دی تھی، اس کی سب سے زیادہ بہتری اور مثبت رجحانات 2019ء کے دوران دیکھنے میں آئے، جب انڈکس میں 9.9 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ مئی 2017ء میں مارکیٹ انڈکس 52 ہزار پوائنٹس کی تاریخی بلندی تک پہنچا، اس کے بعد اس میں بتدریج گراوٹ آتی چلی گئی، حتیٰ کہ اگست 2019ء میں یہ 28 ہزار کی پست ترین سطح پر آگیا۔

بیان کردہ عددی حقائق سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ سٹاک مارکیٹ میں ابتری کا آغاز مسلم لیگ (ن) کے دور میں ہوا جو موجودہ حکومت کے انتہائی عرصہء اقتدار میں بھی جاری رہا، حتیٰ کہ پی ٹی آئی کی معاشی حکمت عملی کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا اور انہوں نے اپنی خون پسینے کی کمائی ایک بار پھر سٹاک مارکیٹ میں ڈالنا شروع کر دی۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ 2019 ء میں مارکیٹ نے بہتری دکھانا شروع کی۔ معاشی نقطہء نظر سے اگر اس صورت حال کا تجزیہ کریں تو بات سمجھ میں آجائے گی۔ پی ٹی آئی حکومت معاشی بدحالی کے لئے اگر سابقہ حکمرانوں کو ذمہ دار قرار دیتی رہی ہے تو یہ بات درست معلوم ہوتی ہے۔ مسلم لیگ(ن) کی حکومت قرضے لے کر جاری اخراجات کو بڑھاتی رہی،جس کے واضح اثرات 2017ء سے سٹاک مارکیٹ انڈکس میں گراوٹ کے ذریعے ظاہر ہوتے رہے ہیں۔ قرضے لے کر قدر ز ر کو بلند سطح پر رکھا گیا، اس سے ہماری برآمدات کا حجم گھٹتا رہا اور درآمدات میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔

یہ عدم توازن 2017ء،2018ء اور 2019ء کے ابتدائی ایام میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ معاشی عدم توازن 2019ء میں جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا تھا، حتیٰ کہ پی ٹی آئی حکومت نے اصلاحاتی پروگرام شروع کیا، روپے کی قدر میں کمی کے ذریعے اصلاحات کا آغاز ہوا، جس سے مہنگائی شروع ہوئی۔ اصلاحاتی ایجنڈا معروف معاشی حکمت عملی کے مطابق تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قومی معیشت میں بہتری کے آثارپیدا ہونا شروع ہوئے، جو اگست 2019ء کے بعد سٹاک مارکیٹ انڈکس میں بہتری سے ظاہر ہونے لگے۔ نیچے جاتی ہوئی،گرتی پڑتی قومی معیشت ایک بار پھر ٹریک پرچڑھنے لگی ہے، لیکن اس اصلاحاتی ایجنڈے کے ذیلی اثرات سے عوام کی مشکلات میں بھی اضافہ ہونے لگا ہے، قدر زر میں کمی کے باعث اور ٹیکسوں میں اضافے کے نتیجے میں عوام کی قوت خرید میں کمی واقع ہو گئی ہے، جس کے باعث مہنگائی کا ایک طوفان کھڑا نظر آرہا ہے۔ عوام کی مشکلات میں اضافہ بھی ایک حقیقت ہے، لیکن قومی معیشت کا بلندی کی طرف سفر بھی ایک حقیقت ہے جو سٹاک مارکیٹ انڈکس کے ذریعے واضح ہے۔ مارکیٹ میں " چنگھاڑتے بیل" یہ بتا رہے ہیں کہ قومی معیشت ترقی و بہتری کی طرف گامزن ہو چکی ہے۔

مزید : رائے /کالم