2019راجن پور کے شہریوں پربھاری، کاغذی پراجیکٹس تعلیمی شعبہ میں کرپشن

  2019راجن پور کے شہریوں پربھاری، کاغذی پراجیکٹس تعلیمی شعبہ میں کرپشن

  



جام(پور نامہ نگار) دوہزاانیس کا سال عوام پر بھاری رہا۔ ضلع راجن پور کے وفاقی وزیر شیرین مزاری۔ ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری۔ صوبائی وزیر ابپاشی سردا ر محسن خان لغاری۔ سردار حسنین بہادر دریشک۔ کے علاوہ ممبر قومی اسمبلی سردار جعفرخان لغاری۔ سردار نصر اللہ دریشک۔ سردار زاہد مزاری۔ ممبر صوبائی سردار فاروق امان اللہ۔ اویس خان دریشک ہونے کے باوجود راجن پور کے جہاں کوئی میگا پروجیکٹ نہ لاسکے وہاں پر تعلیم کے لیے کوئی یونیورسٹی بھی لانہ سکے۔سابق ڈپٹی کمشنر غازی(بقیہ نمبر38صفحہ12پر)

امان اللہ خان۔ سابق سی ای اوتعلیم عبدالغفار لنگاہ۔ سابق ڈی ای او فوزیہ حناء سمیت چھ سو چھیاسی ہیڈ ماسٹرز۔ اے ای او ز سمیت دیگر کے خلاف انٹی کرپشن میں مقدمہ درج ہوا۔ سی ای او ہیلتھ راجن پور ڈاکٹر محبت علی چوہدری نے اپنی مدد اپ کے تحت ٹی ایچ کیو جام پور اور راجن پور۔ روجھان میں ڈائیلاسز یونٹ قائم کرانے کے علاوہ راجن پور کو ہیلتھ ریکنگ میں چھتیس نمبر سے نکال کرکے اکیس نمبر پر لے آیا۔ راجن پور کے ٹیوٹا منجیر ظہور بلوچ نے تیس کروڑ روپے کی لاگت سے انسٹی ٹیویٹ کا قیام روجھان کی بتیس سالہ تاریخ کا ریکارڈ توڑتے ہوئے پہلی مرتبہ خواتین کی ہنرمند تعلیم کے لیے عمارت کا قبضہ ختم کرانے کے علاوہ کلاسز کا اجراء کرایا۔ سابق سی ای او تعلیم مقبول گجر۔ پرنسپل کالج وممتاز شاعر پروفیسر ڈاکٹر شکیل پتافی کو گریڈ بیس مل گیا۔ داجل کے لوگوں کو فوری انصاف کی فراہمی کے لیے الگ سرکل کے قیام۔ روجھان میں بھی سرکل کا قیام شامل ہے۔ پنجاب بھر میں راجن پور کے کسان مہنگی کھاد اور بیج کے علاوہ ڈیڈی دل کے حملہ کی وجہ سے سراپا احتجاج رہے۔

تعلیمی شعبہ

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...