شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال۔ خدمت میں بے مثال

شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال۔ خدمت میں بے مثال
 شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال۔ خدمت میں بے مثال

  

گزشتہ اکیس سال سے شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر عوام کی طرف سے انسانیت کی فلاح و بہبود کیلئے دئیے ہوئے عطیات اور زکوٰۃ سے ہزاروں نادار اور بے سہارا مریضوں کو بلاتفریق کینسر کے علاج کی سہولیات فراہم کررہا ہے اور اپنی انہی اعلیٰ خدمات کی بدولت آج یہ ہسپتال عالمی سطح پر ایک عظیم ادارہ بن گیا ہے۔ جدید مشینوں ، آلات، عالمی معیار اور تجربہ کار سٹاف کی بدولت اس ہسپتال کا مقابلہ ترقی یافتہ ممالک کے کسی بھی بڑے ہسپتال سے کیا جاسکتا ہے۔ ہسپتال کو طب کے میدان میں بہتر کارکردگی کی بدولت ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بھی ایوارڈ سے نوازا ہے۔ اس ہسپتال میں بیشتر مریضوں کا علاج مفت ہورہا ہے۔ اپنے قیام سے اب تک یہ ہسپتال کینسر کے مفت علاج پر اربوں روپے خرچ کرچکا ہے، جس کی مثال دنیا کے کسی بھی پرائیویٹ ہسپتال میں نہیں ملتی۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں کینسر کے علاج کیلئے یہ ہسپتال کسی نعمت سے کم نہیں۔ عمران خان کے مطابق اُن کا شوکت خانم کینسر ہسپتال بنانے کا خواب اللہ تعالیٰ کی امداد سے ہی پایہ تکمیل تک پہنچا اور بلاشبہ اس قوم کے نوجوان طالب علموں اور عوام نے کینسر کے خلاف اس مہم میں اپنی حیثیت کے مطابق اس ہسپتال کی تعمیر کیلئے اپنا حصہ ڈالا۔

پاکستان کی تقریباً اٹھارہ کروڑ سے زائد آبادی کیلئے شوکت خانم کینسر ہسپتال واحد مستند علاج گاہ ہے جہاں مریضوں کیلئے ایک ہی چھت کے نیچے تمام اقسام کی تشخیصی، طبی اور معالجاتی سہبلیات موجود ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد کینسر کے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں کینسر کے مریض اپنے باقاعدہ علاج کیلئے شوکت خانم کینسر ہسپتال کا رُخ کرتے ہیں۔ بیشتر مریض اُس وقت ہسپتال آتے ہیں جب اُن کا مرض کافی بڑھ چکا ہوتا ہے اور قابل علاج نہیں ہوتا، جس کی ایک بڑی وجہ لوگوں کا کینسر کے مرض کے متعلق آگہی نہ ہونا ہے۔ کینسر کے کامیاب علاج کیلئے بروقت تشخیص اور علاج بہت ضروری ہے تاکہ مرض بڑھنے سے پہلے اُس پر قابو پایا جاسکے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنے راہنما اصولوں کو اپناتے ہوئے آج یہ ادارہ کامیابی کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔اگرچہ ہسپتال کی انتظامیہ کی پوری خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا جائے لیکن اپنے محدود وسائل کے پیش نظر ہسپتال صرف اُن مریضوں کو ہی علاج کی سہولت فراہم کرسکتا ہے جن کا مرض قابل علاج ہو۔ اس لئے کچھ مریضوں سے معذرت بھی کرنا پڑتی ہے۔ کسی بھی مریض سے معذرت کرتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ کو بہت تکلیف ہوتی ہے۔ لیکن مجبوری کے تحت ایسا کرنا پڑتا ہے۔ بعض لوگوں کا یہ خیال سراسر غلط ہے کہ اُن کے مریض کا علاج اس لئے نہیں ہوسکتا کہ اُن کے پاس پیسے نہیں تھے۔ پورے ملک میں ایک ہی مکمل کینسر ہسپتال ہونے کی وجہ سے مریضوں کی محدود تعداد کو ہی علاج کی سہولت فراہم کی جاسکتی ہے۔

شوکت خانم ہسپتال میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر ہسپتال انتظامیہ نے پشاور میں ایک اور مکمل کینسر ہسپتال کی تعمیر شروع کی تھی اور دسمبر 2016ء میں اس کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا۔ اس ہسپتال کے بننے سے خیبرپختونخواہ اور اس سے متصل علاقوں سے آنے والے مریضوں کو اُن کے گھر کے نزدیک کینسر کی تشخیص اور علاج کی سہولیات میسر آگئی ہیں۔

کینسر کے مریضوں کو اعلیٰ درجہ کی نگہداشت فراہم کرنا ہسپتال کا مشن ہے۔ قطع نظر اس بات سے کہ مریض علاج کے اخراجات ادا کرسکتا ہے یا نہیں، ہسپتال اپنے مشن کے مطابق، تقریباً دو عشروں سے بیشتر مریضوں کو مفت علاج کی سہولت فراہم کررہا ہے۔ ہسپتال اپنے قیام سے اب تک کینسر کے مریضوں کے علاج پر اربوں روپے خرچ کرچکا ہے۔

شوکت خانم کینسر ہسپتال کا یہ سفر پاکستانی قوم کی بے پناہ محبت اور مدد کے ساتھ کامیابی سے جاری ہے۔ یہ ہسپتال ملک کے دیگر اداروں کیلئے ایک مثال ہے کہ خلوص اور مثبت سوچ سے جو کام بھی کیا جائے وہ ثمر آور ہوتا ہے۔ اس مثالی ادارے کو قائم رکھنے اور بہترین انداز میں چلانے کیلئے اپنا بھرپور کردار جاری رکھیں تاکہ یہ ہسپتال اپنے مشن کے مطابق دُکھی انسانیت کی خدمت کرتا رہے۔ یہ بات شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ شوکت خانم ہسپتال میں کینسر کا علاج بین الاقوامی معیار، طریقہ کار اور ماہر معالجین کی زیرنگرانی کیا جاتا ہے۔ غریب ممالک میں یہ بیماری زیادہ ہے کیونکہ وہاں پر بروقت تشخیص اور علاج کیلئے سہولیات موجود نہیں ہیں۔ جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں صحت کی سہولیات موجود ہوتی ہیں۔ اس وقت اکیلے برطانیہ میں کینسر کے علاج کیلئے جدید سہولیات سے لیس پچاس سے زائد ہسپتال کام کررہے ہیں۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ پاکستان میں کینسر کا صرف ایک جدید ہسپتال شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر کام کررہا ہے۔اب ظاہر ہے کہ اکیلا شوکت خانم ہسپتال ان سب مریضوں کو علاج کی سہولت فراہم نہیں کرسکتا۔ محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے ہر بیماری کا مفت علاج فراہم کرنا ممکن نہیں۔ شوکت خانم کینسر ہسپتال اور اُس کے متعلقہ شعبے جس عظیم کام میں مصروف عمل ہیں وہ خدا کے ہاں عبادت کا درجہ رکھتا ہے۔ یہ ہسپتال اپنے اعلیٰ معیار اور جدید طریقہ علاج کی وجہ سے ایک قابل تقلید ادارہ بن چکا ہے۔ عالمی ادارہ صحت، امریکہ اور یورپ کے طبی ماہرین اس ادارے کو عالمی سطح پر ایک کامیاب ادارہ قرار دے چکے ہیں۔

ماضی میں لوگوں نے عمران خان کی ایک اپیل پر اِس کارِ خیر کیلئے کروڑوں روپے کے عطیات دئیے۔ لوگوں کے تعاون کی بدولت ہزاروں مریضوں کا علاج ہوا اور آج عوام کے تعاون ہی کی بدولت شوکت خانم ہسپتال موجود ہے اور لوگ یہاں سے علاج کروا کر مستفید ہورہے ہیں لوگوں کو چاہئے کہ اس مبارک مہینہ میں ماضی کی طرح اپنی زکوٰۃ اور عطیات بلاتفریق انسانیت کی خدمت کرنے والے اس ہسپتال کو دیں۔ آپ کی دی ہوئی رقم سے کینسر کے ہزاروں مریضوں کو نئی زندگی مل سکتی ہے۔ قطرہ قطرہ دریا بن جاتا ہے۔ دل کھول کر عطیات دیں تاکہ دُکھی انسانیت کی خدمت کا سلسلہ احسن طریقے سے جاری رہے۔ نیکی کے جذبہ کو زندہ و جاوید رکھنا بھی صدقہ جاریہ ہے۔ جن لوگوں پر اللہ کا کرم ہے اور اُن کے پاس ضرورت سے زیادہ وسائل موجود ہیں وہ لوگ سب سے آگے آکر اس کارِ خیر میں اپنا حصہ ڈالیں کیونکہ آپ کے عطیات اس ہسپتال میں ہزاروں کینسر کے مریضوں کیلئے اُمید کی کرن ہیں۔

عوام کے عطیات کے ساتھ ساتھ حکومت وقت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی اس سلسلہ میں اپنا کردار ادا کرے کیونکہ حکومت کے پاس اربوں روپے زکوٰۃ کی مد میں موجود ہیں۔ اگر وہ اس کا مخصوص حصہ بھی شوکت خانم کینسر ہسپتال کے مریضوں کے علاج کیلئے دے تو بہت سی دکھی انسانیت کی جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔ آپ کے عطیات سے کینسر کے وہ مریض جن کی زندگیاں خطرے میں ہیں اُن کو زندگی مل سکتی ہے۔

مزید : کالم