ان افراد کا دکھ شائد صرف واٹس ایپ استعمال کرنے والے افراد ہی سمجھ سکتے ہیں

ان افراد کا دکھ شائد صرف واٹس ایپ استعمال کرنے والے افراد ہی سمجھ سکتے ہیں
ان افراد کا دکھ شائد صرف واٹس ایپ استعمال کرنے والے افراد ہی سمجھ سکتے ہیں

  

نئی دہلی (نیوز ڈیسک) یقیناً آپ بھی واٹس ایپ استعمال کرتے ہوں گے اور شائد بہت سارے گروپس کا بھی حصہ ہوں گے۔ اکثر ان گروپس میں آپ نے لوگوں کے درمیان لڑائیاں بھی ہوتی دیکھی ہوں گی لیکن حال ہی میں بھارت میں واٹس ایپ کی وجہ سے ایسا واقعہ پیش آیا کہ اس پر یقین کرنا بھی مشکل ہے۔ بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق کپڑوں کی دکان کے مالک ’بنٹی کرسیجا‘ نامی شہری نے ’جے ہو‘ کے نام سے ایک واٹس ایپ گروپ بنا رکھا تھا۔ اس گروپ میں شامل ’انیل مکھی‘ اور ’ناریش روہڑا‘ نامی شہریوں نے کچھ قابل اعتراض مواد بھیجا تو ایڈمن نے انہیں خبردار کیا۔ تاہم باز نہ آنے پر گروپ سے بے دخل کردیا۔ دونوں نے پہلے تو کپڑوں کے تاجر کو خوب دھمکیاں لگائیں، بات نہ بنی تو دونوں فریقین کے مابین لین دین کے ایک پرانے جھگڑے کا ذکر کرکے رقم مانگنا شروع کردی۔ اس کا بھی اثر نہ ہوا تو ’بابو گیکوار‘ اور ’بیلیا‘ نامی دو غنڈوں کی خدمات حاصل کرلیں۔ انہوں نے ’کرسیجا‘ کی دکان پر جاکر چھریوں سے اس پر حملہ کردیا اور دکان میں بھی خوب توڑ پھوڑ کی، دکان مالک کو ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے پولیس معاملے کی تہہ تک پہنچ گئی اور اب واٹس ایپ گروپ سے نکالے جانے والے دونوں حضرات جیل کے اندر ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -