نوشہرہ میں فیکٹری مالکان کی ناروا لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاج کی دھمکی

نوشہرہ میں فیکٹری مالکان کی ناروا لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاج کی دھمکی

  

نوشہرہ(بیورورپورٹ) بجلی کی ناروا و ظالمانہ لوڈ شیڈنگ رسالپور انڈسٹریل سٹیٹ کے فیکٹری مالکان نے فیکٹریز بند کرنے کی دھمکی دے دی انڈسٹریل سٹیٹ سے وابسطہ ہزاروں مزدوروں کا روزگار داؤ پر لگ گیا رسالپور انڈسٹریل سٹیٹ میں کارخانے بند ہونے سے ہزاروں مزدور بے روزگار ہوں جائیں گے اگر وفاقی حکومت نے تین دن کے اندراندر رسالپور انڈسٹریل سٹیٹ میں بجلی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل نہ کیا تو رسالپور انڈسٹریل سٹیٹ کے مالکان اور مزدور واپڈا کے ظالمانہ لوڈشیڈنگ کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں گے ان خیالات کااظہار رسالپور انڈسٹریل سٹیٹ کے صدر محمداشفاق پراچہ نے احتجاجی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اجلاس میں انڈسٹریل سٹیٹ میں واقع تمام فیکٹریز مالکان نے شرکت کی اجلاس میں متفقہ طورپر فیصلہ کیاگیا کہ اگر واپڈا کی جانب سے بجلی کی ناروا اور ظالمانہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ نہ کیاگیا تو رسالپور انڈسٹریل سٹیٹ کے تمام کارخانوں کو تالے لگادیں گے کیونکہ 18 سے 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ سے کارخانوں میں پیداوار نہ ہونے کے برابر ہے اور کارخانہ دار اسی بجلی لوڈشیڈنگ سے یومیہ کے حساب سے لاکھوں روپے خسارے میں جارہے ہیں یہاں تک کہ مالکان مزدوروں کو اپنی اجرت تک نہیں دے سکتے جس سے ہزاروں مزدوروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ جائیں گے اور اگر بجلی لوڈشیڈنگ کا یہ حال رہا تو واپڈا کے خلاف فیکٹری مالکان اور ہزاروں مزدور سڑکوں پر نکل آئیں گے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم باربار اجلاسوں کے دوران لوڈشیڈنگ کم کرنے کے ہدایات جاری کررہے ہیں جبکہ دوسری طرف وفاقی وزیر پانی وبجلی خواجہ آصف 18 ہزار میگا واٹ بجلی کی پیداوار کے دعوے کررہے ہیں جبکہ پورے ملک کی ضرورت 16ہزار میگا واٹ بجلی ہے خواجہ آصف بتائیں کہ ضرورت سے زائد بجلی پیدا ہونے کے باوجود 18 سے 20گھنٹے تک کا لوڈشیڈنگ کہاں کاانصاف ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -