کورونا وباء سے طالبات کا تعلیمی کیر یئرشدید خطرے سے دوچار

کورونا وباء سے طالبات کا تعلیمی کیر یئرشدید خطرے سے دوچار

  

اسلام آباد(این این آئی)وزارت انسانی حقوق نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق کورونا وائرس کے باعث خواتین صنفی عدمساوات کا شکارہیں۔طالبات کو طویل لاک ڈاؤن کے بعداپنی تعلیمی سرگرمیوں کو بیلنس کرناانتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ لاک ڈاؤن کے نتیجے میں بے روزگار ہونے کی وجہ سے خواتین کی معاشی خودمختاری کی راہ میں بھی رکاوٹیں کھڑی کیں ہیں۔ وزارت انسانی حقوق کی جانب سے کووڈ۔19(کورونا وائرس)کی صنفی اثرات اور نتائج سے متعلق جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لڑکیوں کولڑکوں کے مقابلے میں تعلیمی اداروں کی بندش کے دوران زیادہ سے زیادہ گھریلو کام کرنا پرتا ہے جس سے ان کے تعلیمی سرگرمیوں متاثر ہورہی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں نرسز اور ہیلتھ ورکرز کی بڑی تعداد خواتین ہیں، یہ خواتین کورونا وائرس کے مریضوں کی تشخیص اور علاج کیلئے فرنٹ لائن کردار ادا کرتی ہیں۔ ہیلتھ ایمرجنسی کی صورت میں اس طبقے پر دباؤ شدید بڑھ جاتا ہے۔ لاک ڈاؤن کے باعث گھروں اور چھوٹے اور درمیانے کاروبار سے منسلک خواتین کو بھی بے روزگار ہونا پڑا،گھروں اور چھوٹے کاروبار سے منسلک تقریباََ1کروڑ20لاکھ خواتین بہ مشکل تین سے چار ہزار تک کما سکتیں ہیں۔رپورٹ میں صنفی عدم مساوات کے خاتمے کیلئے تجاویز دیں گئیں ہیں کہ وزارت تعلیم ”ٹیلی سکول“ پروگرام میں لڑکیوں کو اس پروگرام سے استفادہ حاصل کرنے کیلئے سہولیات فراہم کی جائے،زیادہ حاضری پر لڑکیوں کو ماہانہ وظیفہ بھی دیا جائے،ماس میڈیا ور ٹیلی کمیونکیشن مہم کے ذریعے حاملہ خواتین کو ڈلیوری کے دوران پیچیدگیوں سے بچنے کیلئے طبی سہولیات کے بارے میں آگاہی فراہم کی جائے۔

تعلیمی کیریئر

مزید :

صفحہ آخر -