بلین ٹری سونامی

بلین ٹری سونامی

  

 ناقابل عمل منشور اور کھوکھلے نعرے بدقسمتی سے پاکستانی سیاست کا طرۂ امتیاز رہے ہیں۔ پارٹی کی اصلاحاتی اور تبدیلی سے متعلق سوچ کی حمایت کرتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی اب اس نظریے کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ گرین گروتھ انیشیایٹیو(جی جی آئی)کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے اور فی الحال خیبر پختونخوا میں اس جانب اقدامات اُ ٹھائے جا رہے ہیں۔ ایسے کسی بھی اقدام کے لئے ایک واضح لِٹمس ٹیسٹ موجودہ منصوبوں سے اس کوتعبیر کرنا اور موجودہ بجٹ سے اس کے لئے حصہ مختص کرنا ہے۔اس کام پر پچھلے سال تندہی سے کام کیا گیا اور اسے اہم منصوبوں کی سطح پر منتج کیا گیا، جس میں سے ایک بلین ٹری سونامی ہے، جس کے لئے حکومت نے اے ڈی پی 2014-15کیلئے کافی فنڈ زرکھے ہیں۔ ایک تفصیلی مشاورت اور ترقی کے عمل سے گزرنے کے بعد یہ اہم منصوبہ صوبہ خیبر پختونخوا کے جنگلات کو بڑھانے اور ان کی حفاظت میں معاون ثابت ہو گا۔یہ جنگلات پاکستان کے لئے سانس لینے کا کام کرتے ہیں، کیونکہ ملک کے مجموعی جنگلات کا 40فیصدحصہ ان پر مشتمل ہے۔پاکستان میں جنگلات کا مجموعی رقبہ 4فیصد ہے، جبکہ عالمی معیار کے مطابق یہ تناسب 35فیصد ہونا چاہئے ،مزید برآں یہ جنگلات خطرے سے دوچار ہیں، جبکہ دنیا میں ہمارے ہاں درختوں کی کٹائی کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔یہ رجحانات نہ صرف ناقابل قبول ہیں، بلکہ ملک کے مستقبل کے لئے خطرناک ہیں۔جغرافیائی سطح پر پاکستان دنیا میں موسمی تبدیلیوں کے اعتبار سے ایک کمزور ترین ملک کے طور پر سامنے آیا ہے۔شمال میں پگھلتے گلیشئرز اورمون سون کے باعث گذشتہ چند برسوں میں آنے والے سیلاب ہمارے لئے خطرے کی گھنٹی بجا رہے اور ہم اس کی بھاری قیمت چکا رہے ہیں۔تیزی سے کم ہوتے جنگلات سے نہ صرف موسمی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، بلکہ کاربن کو الگ کرنے سے متعلق مقامی لچک بھی کم ہو رہی ہے۔ حکومت خیبر پختونخوا نے اب اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ جنگلات کے کٹاؤ کی سطح کو کم کیا جائے اور اس فلسفے پر کام کیا جائے کہ جنگلات آمدنی کا ذریعہ ہیں اور اسے قدرتی تحفظ کے لئے استعمال کیا جائے گا۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار حکومت خیبر پختونخوا نے 2018تک جنگلات کے رقبے کو 20سے 22فیصد تک لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔جس کے تحت نئے علاقوں پر جنگلات اگائے جائیں گے اور موجودہ رقبے کی حفاظت کی جائے گی، منصوبے کے تحت0 3000ہیکٹرز پر جنگلات اگائے جائیں گے،اس کے علاوہ افزودگی سے متعلق اقدامات کے تحت جنگلات کا مجموعی رقبہ2018ئتک20سے30فیصد تک لے جایا جائے گا۔تحفظ اور اس کمی کو پورا کرنے کے لئے ہر سال27000ہیکٹرز پر جنگلات اگائے جائیں گے۔ان تما م اقدامات سے 4سالہ بلین ٹری سونامی منصوبے کے مقاصد حاصل کئے جا سکیں گے۔ یہ منصوبہ بہت سے تجدیدی نکات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہے، جس کا مقصد خیبر پختونخوا میں پہل کار کے طور پر اس منصوبے کا آغاز کرنا اور ایک طویل عرصے تک اسے قائم/ جاری رکھنا ہے ۔اس منصوبے کے تحت صوبے میں فارسٹ گروتھ اور پروٹیکشن (جنگلات کی افزائش وحفاظت )کے مختلف پہلوؤں / حصوں کی نجکاری کے ذریعے چھوٹے درجے کے \"Eco-Preneur\" تشکیل دئیے جائیں گے۔اس سلسلے میں\"Youth Nurseries\" کے نام سے ایک تجدیدی پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے، جس کے تحت حکومت مقامی دیہی آبادی کو چھوٹی نرسریاں(20 سے 25000پودے )لگانے کی ترغیب دے رہی ہے ،جن کی بدولت مقامی نوجوان ا ن نرسریوں میں اگنے والے پودوں کو فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ BuyBack معاہدے کے تحت فروخت کر کے 12 سے18 ہزار روپے تک کما سکتے ہیں، اس طرح حکومت مقامی نوجوانوں کے لئے باعزت روزگار (Green Jobs) کی فراہمی کوممکن بنا رہی ہے، اس پروگرام کا فی الوقت آغاز ہو چکا ہے اور اس سلسلے میں پورے صوبے کی GIS Mapping بھی ہو چکی ہے ۔ یہ منصوبہ پرائیوٹ سیکٹر کے لئے نئی فارسٹ گروتھ کو آؤٹ سورس کرنے پر بھی فوکس کررہا ہے۔ Eco-Preneur کی تعداد میں اضافے کے ساتھ یہ منصوبہ موجودہ جنگلات کی بقاء کو کارکردگی کی بنیاد پر ادائیگی جو کہ تین سال کے عرصے پر محیط ہے، جس دوران پودا درخت میں تبدیل ہوجاتاہے ، کو بھی یقینی بنائے گا۔تیسرا جنگلات کی حفاظت کے لئے روایتی اختیار رکھنے والی مقامی کمیونٹی کووی سی ڈی( ویلیج ڈویلپمنٹ کمیونٹی )کے طور پر منظم کیا جائے گااور انہیں جنگلی علاقہ جات کی شراکت داری کی ملکیت دی جائے گی۔جنگلات کی حفاظت اور افزائش کے لئے ان مقامی نگہبانوں کی ذمہ داری جنگل کو بند کرنا ہوگا۔حکومت کے ساتھ شراکت داری کے معاہدے کے تحت انہیں مقامی \'\'فارسٹ نگہبان \'\' کو ملازمت دینے اور ان کو تربیت فراہم کرنے کا اختیار حاصل ہوگا، جس کے لئے مالی امداد حکومت کی جانب سے دی جائے گی، یعنی نوجوانوں کے لئے ملازمت کے مزید مواقع اور جنگلات کی حفاظت کی ذمہ داری۔ حکومتREDD+ کے لئے قوانین بنانے کے عمل سے بھی گزر رہی ہے۔ REDD+ ایک جدید گلو بل فنانشل انسٹرومنٹ ہے جو موجودہ جنگلات کو Cashable کاربن ویلیو کی فراہمی سے ریورس ڈی فوریسٹیشن کا عمل کرتا ہے ۔ابتدائی تخمینے کے مطابق اور گلوبل کاربن Regime پر انحصار کرتے ہوئے خیبر پختونخوا اپنے موجودہ جنگلات سے بذریعہ کاربن کریڈیٹس 6 سے800 ملین یو ایس ڈالر کما سکتا ہے ۔ایک بار پھر سے اس بات کا ذکر کرتے جائیں کہ ہمارا فلسفہ جنگلات کی حفاظت اور ان کی تعداد میں اضافہ محض لکڑی کے حصول کے لئے نہیں، بلکہ ان ماحولیاتی فوائد کے لئے ہے جو ہمیں جنگلات کی بدولت حاصل ہوتے ہیں۔خیبرپختونخوا کی حکومت کے ماتحت جنگلات میں درختوں کی کٹائی پر مکمل طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ کمیونٹی فارسٹ سائنٹیفک مینجمنٹ سے مشروط ہے جسے سابقہ حکومتوں نے درختوں کی کٹائی کو قانونی شکل دینے کے لئے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا ۔آخر کار احتساب اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے ،پراجیکٹ نے ایک تیسری پارٹی کو نگرانی کے لئے مختص کیا ہے ،جوGIS مانیٹرنگ اور گوگل فارسٹ واچ جیسے جدید طریقہ کار کے استعمال سے مرتکب شدہ افعال کے ساتھ تکمیل کو یقینی بنائے گی۔ جنگلات کی حفاظت کے لئے بیان کئے گئے درج بالا اقدامات کو مکمل کرنے کے لئے صوبے بھر میں\'\' ٹمبر مافیا \'\'کے خاتمے کو عمل میں لایا گیا ہے جو گزشتہ دس برسوں میں 100 بلین سے زیادہ درختوں کو کاٹ چکا ہے ۔خیبر پختونخواہ گورنمنٹ نے ٹمبر مافیا کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرنے کا اقدام کیا ہے اور ان کی منفی سر گرمیوں کے لئے انہیں کسی بھی صورت میں معاف نہ کرنے کی پالیسی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔خیبر پختونخوا کے جنگلات کی حفاظت اور مافیا کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لئے سیٹلائیٹ مانیٹرنگ سسٹم نصب کئے گئے ہیں۔\'\' بلین ٹری سونامی \'\' پاکستان ،کے پی کے اور پوری دنیا کے لئے ایک منفرد منصوبہ ہے ۔ خیبر پختونخوا کے لئے یہ نہ صرف درختوں کی افزائش میں اضافے کا ذریعہ ہے، بلکہ صوبے کو اس منصوبے سے ماحولیاتی فوائد کے ساتھ ساتھ معاشی فوائد اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع بھی حاصل ہوں گے ۔پاکستان کے لئے یہ منصوبہ پانی کی فراہمی،مٹی کی بہتری اور سیلاب سے مقابلے کا ایک ذریعہ ہے ۔دنیا کے لئے یہ منصوبہ کاربن الگ کرکے عالمی آب و ہوا میں سے تخفیف کو ممکن بنانا ہے ۔  خیبر پختونخوا کا Green Growth اقدام بہت سے منصوبوں جیسے Billion Tree Tsunami کے ذریعے پاکستان میں Green Paradigm (نئی انقلابی فکر)کو متعارف کروانا ہے تاکہ خیبر پختونخواکے لوگوں کے لئے ایک بہتر معیارِ زندگی کو یقینی بنایا جاسکے۔ یہ منصوبہ نوجوانوں کے لئے روزگار کے بہتر مواقع کی فراہمی،صوبے سے غربت کے خاتمے اور سماجی بہتری کے فروغ کی ایک کڑی ہے۔تبدیلی کی یہ سیاست خیبر پختونخوا کی ترقی ،غربت کے خاتمے اورصاف ستھرے ماحول میں بہتر طرزِ زندگی کی فراہمی کے لئے کوشاں ہے۔

مزید :

کالم -