کیا آپ کو معلوم ہے عموماً فوجوں کی جانب سے استعمال کیے جانے والے ایک جدید میزائل کی قیمت کتنی ہوتی ہے؟ جواب آپ کے تمام اندازے غلط ثابت کر دے گا

کیا آپ کو معلوم ہے عموماً فوجوں کی جانب سے استعمال کیے جانے والے ایک جدید ...
کیا آپ کو معلوم ہے عموماً فوجوں کی جانب سے استعمال کیے جانے والے ایک جدید میزائل کی قیمت کتنی ہوتی ہے؟ جواب آپ کے تمام اندازے غلط ثابت کر دے گا

  

لندن(نیوز ڈیسک) دور جدیدکی جنگیں قدیم زمانے کی تیر اور تلوار کی جنگوں سے یکسر مختلف ہو چکی ہیں۔ آج کی جنگوں میں استعمال ہونے والے ہتھیار بے پناہ مہنگے ہیں، اور ان مہنگے ہتھیاروں میں بھی جدید گائیڈڈ میزائل تو ناقابل یقین حد تک مہنگے ہیں۔

جریدے ”دی اکانومسٹ“ کی ایک رپورٹ کے مطابق درمیانے فاصلے سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ایک ”سب سونک ٹوما ہاک“ کروز میزائل کی قیمت تقریباً 15 لاکھ ڈالر (تقریباً 15 کروڑ پاکستانی روپے )ہے۔ اسی طرح فضاءسے زمین پر مار کرنے والے پچاس کلو گرام وزن والے ”ہیل فائر“ راکٹ کی قیمت ایک لاکھ 15 ہزار ڈالر (تقریباًایک کروڑ 15 لاکھ پاکستانی روپے)ہے۔ دشمن کے مورچہ بند سپاہیوں کو ہلاک کرنے کیلئے استعمال ہونے والے ”ہاولین راکٹ“ کی قیمت ایک لاکھ 47 ہزار ڈالر (تقریباًڈیڑھ کروڑ پاکستانی روپے) ہے۔

آپ یقینا اندازہ کر سکتے ہیں کہ اگر ایک میزائل کی قیمت 15 کروڑ روپے ہے تو اس طرح کے سینکڑوں ہزاروں میزائل رکھنے والی افواج کو اس انتہائی مہنگے اسلحے پر کس قدر بھاری رقم خرچ کرنا پڑتی ہو گی۔ امریکا جیسے ملک کیلئے بھی ان میزائلوں کا استعمال اتنا مہنگا ثابت ہورہا ہے کہ ان کی جگہ چھوٹے اور سستے ہتھیار بنانے کیلئے تجربات شروع کر دئیے گئے ہیں۔

امریکی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان جیسے علاقے میں گوریلا جنگجوﺅں پر کروڑوں کے میزائل ضائع کرنے کی بجائے ہلکے ہتھیار استعمال کرنے کی ضرورت ہے، جو ہدف کو درستی کے ساتھ نشانہ بنانے کے علاوہ کم قیمت کی خوبی بھی رکھتے ہوں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس