قوالی میں جدت پیدا کرنے کا سہرا استاد نصرت فتح علی خان کے سر ہے ،امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد معروف گلوکار ظفر اقبال نیویارکر کی باتیں

قوالی میں جدت پیدا کرنے کا سہرا استاد نصرت فتح علی خان کے سر ہے ،امریکہ میں ...

حسن عباس زیدی

پاکستانی گلوکاروں نے پوری دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے ۔مگر یہ بات حیران کُن ہے کہ ہم لوگوں نے اپنے ٹیلنٹ سے کبھی کوئی فائدہ کیوں نہیں اُٹھایا ۔اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں لابی ازم بہت زیادہ ہے ہر شخص دوسرے کی کردار کُشی اور ٹانگ کھینچنے میں مصروف نظر آتا ہے ،جبکہدنیا میں معاملات اس کے برعکس ہیں۔امریکہ میں جب کبھی بھی پاکستانی گلوکاروں کی فنّی صلاحیتوں کا ذکر ہوگا تو ان میں غزل گائیک غلام علی ،ریشماں،سلمیٰ آغا، استاد نصرت فتح علی خان،عدنان سمیع خان، عاطف اسلم کا نام ضرور لیا جائے گا دیار غیرمیں جس پاکستانی گلوکار کا جادو ناصرف سر چڑھ کر بول رہا ہے بلکہ مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کررہا ہے وہ گلوکار ظفر اقبال نیویارکر ہے۔غزل گائیکی ہو یا گیت موسیقی کی ہر صنف اپنے اندر اپنا ایک رنگ اور خوبصورت لئے ہوئے ہے جو سننے والوں کی سماعتوں سے ٹکراتے ہی انہیں اپنے سحر میں گرفتار کرلیتا ہے ۔ وقت کے ساتھ اس میں راک ، پاپ سمیت میوزک کی کئی نئی اصناف بھی سامنے آئیں جو خاص طور پر نوجوان نسل میں بے حد مقبول ہوئیں۔ اس مقبولیت کو دیکھتے ہوئے موسیقی کی دنیا میں قدم رکھنے والے نئے لوگ بھی اسی نئے انداز کو اپنا رہے ہیں ،جبکہ ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی روایتی موسیقی کی بجائے اسی ’’کمرشل میوزک‘‘ کو پروموٹ کر رہی ہیں۔ وہاں ایک جنونی اور موسیقی سے دل وجان سے محبت کرنیوالا گلوکار ظفر اقبال نیویارکر بھی ہے جو ’’کمرشل‘‘ فائدہ اٹھانے کی بجائے کلاسیکل ، نیم کلاسیکل ، غزل اور گیت کو ہی اپنا اوڑھنا پچھوڑنا بنائے ہوئے ہیں۔جنہوں نے موسیقی کی باقاعدہ تربیت دہلی گھرانے سے تعلق رکھنے والے استاد اقبال خان دہلی والے سے لی ، جس کے بعد انہوں نے میوزک ڈائریکٹر ذوالفقار عطرے سمیت دیگر معروف اساتذہ کرام سے بھی اسراروموز سیکھتے رہے ۔خاص طور پر انہوں نے نیم کلاسیکل ، غزل اور گیت کو ہی گانا پسند کیا، اسی لئے ابھی تک غزل ، گیت اور نیم کلاسیکل گانوں پرہی البم ریلیز ہوئے ۔ جن میں ’’ٹریبوٹ ٹو فیض احمد فیض‘‘، ’’دل کی آواز ‘‘پار ٹ ون اور ٹو ، ’’پیار کی خوشبو‘‘ شامل ہیں ۔امریکہ کی ریاست نیویارک میں انہیں رہتے ہوئے 20سال سے زائد کاعر صہ ہوچکاہے ، جہاں پرنٹنگ کا ذاتی کاروبار کرنے کے ساتھ موسیقی سے محبت میں کمی نہیں بلکہ پہلے سے زیادہ لگاؤ ہو گیا ہے۔وہاں پر ہونیوالی تقاریب کی وہ جان ہیں جہاں میوزک سے محبت کرنیوالے ان سے غزل ، نیم کلاسیکل اور گیت فرمائش کرکے سنتے اور داد دیتے ہیں۔ ان کی اسی زندہ دلی اور ہر دلعزیز شخصیت ہونے کی وجہ سے لوگ انہیں پیار سے ظفر اقبال نیویارکر کہتے ہیں ۔ اسی نام کے ساتھ میوزک انڈسٹری میں جانے جاتے ہیں۔اپنے خصوصی انٹرویو میں ظفر اقبال نیو یارکر نے کہا کہ ہمیں یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ ہم نے بھارت سے مقابلہ کرنا ہے ہمیں اپنے ذہن میں ہالی ووڈ کو رکھنا چاہئے استاد نصرت فتح علی خان نے ہالی ووڈ کی چند فلموں میں میوزک دے کر ہالی وڈ کا میوزک چینج کیا تھا۔اس لئے ہمیں بھی ہالی ووڈ کو ٹارگٹ بنا کر کام کرنا چاہئے ۔قوالی میں جدت پیدا کرنے کا سہرا استاد نصرت فتح علی خان کے سر ہے ۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں پروڈیوسر و ڈائریکٹر شعیب منصور کی دونوں فلموں ’’ خدا کے لئے‘‘ اور’’بول‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان فلم انڈسٹر ی کے لئے یہ دونوں فلمیں بہت بڑا تحفہ ہیں اور ان فلموں کو ذہن میں رکھ کر کام کیا جانا چاہئے ۔ہم اپنی فلموں میں پاکستان کا وہ خوبصورت چہرہ پیش کرسکتے ہیں جس پر اب توجہ نہیں دی جارہی انہوں نے کہاکہ شعیب منصور کی فلمیں انٹرنیشنل مارکیٹ کی فلمیں ہیں اور ایسی فلمیں بننے سے پاکستان فلم انڈسٹری کا مورال اپ ہوگا۔ظفر اقبال نیویارکر نے کہاکہ ہمارے پاس ٹیلنٹ اور موضوعات کی کوئی کمی نہیں ہے بس کمٹمنٹ کی ضرورت ہے ۔ بھارت میں شنکر مہادیون ، للت جتن،ساجد واجد،پریتم میرے لئے کوئی گانا بناتے ہیں تو گلوکار کی رینج کو مد نظر رکھ کر کمپوزیشن مرتب کرتے ہیں اور ہماری فلم انڈسٹری کے لوگوں کو بھی چاہئیے کہ اس بات کو مدنظر رکھیں۔پاکستان فلم انڈسٹری کیلئے میری خدمات ہر وقت حاضر ہیں ۔اس وقت پاکستان فلم انڈسٹری میں بننے والی فلموں کی شرح بہت کم ہے سب سے بڑی بات کسی پروڈیوسر کا ٹرسٹ لیول ڈویلپ کرنا ہوتا ہے اور اگر کوئی ہمیں اچھی فلم بنانے کا موقع دے رہا ہے تو پھر ہمیں ہر لحاظ سے ایک اچھی فلم بنانے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ رزلٹ سو فیصدآئے۔پاکستان کے نئے ٹیلنٹ کے لئے مواقع کی کمی کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں نئے لوگوں کے لئے ایک پلیٹ فارم بنا ہوا ہے ۔نئے لوگ آتے ہیں پرفارم کرتے ہیں اور اپنی مارکیٹ بنا لیتے ہیں پاکستان میں ابھی اس پلیٹ فارم کی کمی ہے لیکن خدا کا شکر ہے کہ چند ادارے اور لوگ پاکستا ن کے نئے ٹیلنٹ کو پروموٹ کرنے کا کام بخوبی انجام دے رہے ہیں۔اور نئے بچوں کا دور آنے والا ہے سارہ رضا ،امانت علی ،مسرت جیسے آج کے بچے کل ہماری انڈسٹری میں اچھا کام کریں گے۔ظفر اقبال نیویارکر دنیائے موسیقیمیں بے حد مقبول ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ بھارت میں وہ(انڈیا والے) اپنے کام کی پبلسٹی کا ایک خاص بجٹ رکھتے ہیں ایک خاص ٹائمنگ ہوتی ہے کہ کس کام کو کب کرنا ہے مارکیٹنگ،ایڈورٹائزنگ کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے ہمارے ہاں ابھی اس ٹرینڈکی کمی ہے ۔بھارت میں سے تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہامیرے خیال میں سرحدیں ضرور ہونی چاہئیں لیکن پبلک ٹو پبلک روابط بھی بہت ضروری ہیں ۔محمد رفیع میوزک ورلڈ کی بہت بڑی شخصیت ہیں میں ان کو اپنا روحانی استاد مانتا ہوں۔محمد رفیع جیسے گلوکار صدیوں میں ایک بار پیدا ہوتے ہیں۔استاد اقبال احمد خاں دہلی گھرانے والے وہ شخصیت ہیں جنہوں نے میری گائیکی کو نکھارنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ میں اب تک نوحے ،ملی نغموں ،غزل سمیت 95گیت ریکارڈ کرواچکا ہوں میرے ہمعصر گائیکوں میں ایسا ریکارڈ کسی کا نہیں ہے ۔سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے ظفر اقبال نیویارکر نے کہا کہ میوزک سے رشتہ جسم اور روح کا ہے جس میں سے کسی ایک کو بھی علیحدہ کر دیا جائے تو کچھ نہیں بچتا۔اسی طرح موسیقی کے بغیر میں ادھورا ہوں ،جس کے بغیر ایک لمحہ بھی نہیں گزار سکتا۔دیار غیر جہاں ہرکسی کو اپنے کاروبار اور بیوی بچوں کی فکر ہے جبکہ مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ رب تعالی نے وہ سب کچھ دیا ہے جس کی خواہش ہر ایک انسان کرتا ہے ۔اسی لئے تمام مصروفیات سے فارغ ہوتے ہی ہارمونیم اور میں ہوتا ہوں ، کیونکہ موسیقی ایک سمندر کی طرح ہے جس کے بارے میں جتنا بھی سیکھا جائے کم ہے ۔میرا صرف ایک مشن ہے کہ روایتی میوزک غزل ، گیت کو پروموٹ کیا جائے کیونکہ راک ، پاپ سمیت جتنا بھی جدید میوزک ہے ان سب کی عمر انتہائی کم ہے مگر غزل ، گیت اور کلاسیکل ہمیشہ رہنے والا ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ موجودہ دور میں کمرشلی طور پر نظر انداز کیا جارہاہے ، جو کہ کسی طرح سے بھی درست نہیں ہے۔میں نے ابھی تک جتنا بھی کام کیا ،وہ روٹین سے بالکل ہٹ کر کیا جس پر میرے دوستوں نے بھی کہا کہ یہ صرف پیسے اور وقت کا ضیاع ہے ۔میں نے ان سے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ میں کوئی مالی فائد ے کے لئے نہیں بلکہ اپنی تسکین کے لئے کام کر رہا ہوں ظفر اقبال نیویارکر نے کہا کہ دراصل برصغیرنے موسیقی کوایسے انمول نگینے دئیے ہیں جن کی روشنی سے آج پوری دنیا میں استفادہ حاصل کررہی ہے اسی لئے تمام جدید ٹیکنالوجی کے باوجود تمام آڈیو البمز کی ریکارڈنگ اپنے وطن پاکستان آکر کی ۔ جس کا مقصد روایتی میوزک کو پروان چڑھانا ہے ۔ چند ماہ قبل ہی مرزا غالب ، علامہ اقبال ، مولانا ظفر علی سمیت دیگر معروف شعرا ء کرام کے کلام پر مشتمل آڈیو البم ’’آبروئے سخن‘‘ ریکارڈ کیا جوکہ میرے کیرئیر کا سب سے اہم اور یادگار کام ہے ، کیونکہ پاکستان اور بھارت کی میوزک تاریخ میں پہلی مرتبہ ان معروف شعراء کرام کے کلام کو اتنے بڑے پیمانے پر ریلیز کیا جارہا ہے۔ظفر اقبال نیویارکر نے کہا کہ ’’آبروئے سخن‘‘ کو بھارت اور پاکستان سمیت پوری دنیا سے بیک وقت لانچ کیا جائیگا جس کے لئے معروف آڈیو کمپنیوں سے بات چیت چل رہی ہے ۔ظفر اقبال نیویارکر نے کہا کہ میرا مقصد پیسہ کمانا نہیں بلکہ روایتی موسیقی کو فروغ دینا ہے جس کے لئے میری تمام چاہنے والوں سے بھی اپیل ہے کہ وہ میری آفیشل ویب سائٹ www.zafar iqbal newyorker.com پر وزٹ کرکے ’’آبروے سخن ‘‘ کے بارو میں سن کر اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کریں۔

مزید : ایڈیشن 1