ایسی کرسی نہیں چاہئے جس پر بیٹھ کر وہ عوام بالخصوص نوجوانوں کیلئے کچھ نہ کرسکے،محبوبہ مفتی

ایسی کرسی نہیں چاہئے جس پر بیٹھ کر وہ عوام بالخصوص نوجوانوں کیلئے کچھ نہ ...

سری نگر(کے پی آئی) پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی کی صدراور ممبر بھارتی پارلیمنٹ محبوبہ مفتی نے حکومت سازی کے حوالے سے جاری تذبذب کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ انہیں کرسی سے نہیں بلکہ ریاست جموں و کشمیر کے امن ا وروقار کے ساتھ پیار ہے ۔انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ انہیں ایسی کرسی نہیں چاہئے جس پر بیٹھ کر وہ عوام بالخصوص نوجوانوں کیلئے کچھ نہ کرسکے۔محبوبہ مفتی نے بھارتی حکومت کے جموں وکشمیرسے متعلق جارحانہ اپروچ کی بات کہتے ہوئے کہاکہ ایک منظم طریقے سے ریاست اورریاستی عوام کوسیاسی اوراقتصادی طوربے اختیارکیاگیا۔محبوبہ مفتی نے عسکریت پسندنوجوانوں کوبندوق چھوڑنے کامشورہ دیتے ہوئے کہاکہ بندوق اورتشددسے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔انہوں نے کہاکہ تشددسے مسائل حل نہیں ہوتے ہیں بلکہ نت نئے مسائل اورمصائب پیداہوتے ہیں۔ کھنہ بل میں پارٹی کی ممبر شپ مہم کے سلسلے میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران محبوبہ نے ایک مرتبہ پھر فی الحا ل بی جے پی سے دور رہنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی کو کرسی نہیں بلکہ ریاست کے وقار اور امن کی فکر ہے۔انہوں نے کہا اگر مجھے ریاست میں قیام امن میں رول اداکرنے کا موقعہ فراہم نہیں ہوگا تو مجھے وہ کرسی تسلیم نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ میں ہر کوئی قدم اٹھانے کیلئے تیار ہوں لیکن اس سے پوری قوم کو فائدہ ہونا چاہئے ۔ محبوبہ نے کہا اگر میں ریاست کی وزیر اعلی بنوں گی اور قوم کو عزت و وقار کی ضمانت فراہم نہیں کرپاں گی تو اس وزیر اعلی بننے کا کیا فائدہ ہے ۔انہوں نے ریاست کی موجودہ صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کیلئے حریف جماعت نیشنل کانفرنس چیلنج نہیں ہے بلکہ وہ قابل اور تعلیم یافتہ نوجوان چیلنج ہیں جو عسکریت پسندوں ؂؂؂؂؂؂؂ کی صفوں میں شامل ہورہے ہیں ۔

محبوبہ مفتی نے کہا کہ صرف تعمیر و ترقی کیلئے وہ وزیراعلی کی کرسی پربیٹھنے کیلئے تیار نہیں ہے کیونکہ بقول ان کے امن وامان کے بغیر تعمیر و ترقی سود مند ثابت نہیں ہوگی ۔ انہوں نے مسائل کے حل اور مفاہمتی عمل کی شروعات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر میں صرف حکومت سازی ہی معاملہ نہیں بلکہ اس ریاست سے جڑے اندرونی اور خارجی سیاسی و اقتصادی مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر سے جڑے ایسے سیاسی اور اقتصادی معاملات ہیں جن کو حل کر کے ہی ریاست میں پائیدار امن و استحکام قائم کرنے کے ساتھ ساتھ تعمیر و ترقی کا صحیح معنوں میں آغاز کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اندرونی سطح پر ریاست جموں وکشمیر میں کئی طرح کے مسائل ہیں جن کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے اور جن کا حل تلاش کرنا ضروری ہے ۔ پی ڈی پی صدر نے کہا کہ جموں وکشمیر میں صرف سیکورٹی صورتحال ہی معاملہ نہیں بلکہ یہاں کے لوگوں میں پائی جانے والی بے گانگی ، نوجوانوں کی بے روزگاری ، قدرتی وسائل کا استحصال اور دیگر کئی ایسے مسائل ہیں جن کی طرف فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک بھارتی حکومت کی طرف سے ریاست جموں وکشمیر کے حوالے سے جارحانہ اپروچ بند نہیں کیا جاتا ہے ، تب تک یہاں کوئی حکومت صحیح معنوں میں ریاست سے جڑے مسائل کو حل نہیں کر سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اٹل بہاری واجپائی کے دور میں بھارتی حکومت نے جموں وکشمیر کے حوالے سے مفاہمتی پالیسی اختیار کی اور یہی وجہ ہے کہ 2002 سے 2005 تک صورتحال بھی پرسکوں رہی اورآرپارعوام کے درمیان روابط میں بھی بہتری آئی ۔۔انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہاکہ جب تک نئی دہلی کی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی تب تک جموں وکشمیرمیں کوئی بھی حکومت یہاں درپیش اندرونی مسائل اورمعاملات کوحل نہیں کرسکے گی۔ محبوبہ مفتی نے عسکریت پسند نوجوانوں کوبندوق چھوڑنے کامشورہ دیتے ہوئے کہاکہ بندوق اورتشددسے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔انہوں نے کہاکہ تشددسے مسائل حل نہیں ہوتے ہیں بلکہ نت نئے مسائل اورمصائب پیداہوتے ہیں۔ محبوبہ مفتی نے موجودہ وزیر اعظم نریندرا مودی کے اچانک دورہ پاکستان کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر مودی نے ایک اچھی مثال قائم کی اور اس کے نتیجے میں دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان جاری سفارتی و سیاسی کشیدگی میں کافی حد تک کمی آئی ۔ انہوں نے کہا کہ نریندرا موی نے خیر سگالی اقدام کے تحت پاکستان کا دورہ کیا اور اپنے ہم منصب میاں محمد نواز شریف کے ساتھ ملاقات اور تبادلہ خیال کیا۔

مزید : عالمی منظر