سید خورشید شاہ، سچ کہا، اس پر خود اپنے ساتھیوں کی مخالفت مول لیں گے

سید خورشید شاہ، سچ کہا، اس پر خود اپنے ساتھیوں کی مخالفت مول لیں گے

تجزیہ :چودھری خادم حسین

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پیپلزپارٹی کے مرکزی راہنما سید خورشید شاہ نے بہت بڑی بات کہہ دی۔ اس بیان سے تو وہ خود اپنے قریبی سابق اختیارات کے حامل لوگوں کے دل میں بھی خار بن جائیں گے اور کھٹکیں گے کہ ان کی بھی کہانیاں عام ہیں اور ان کے خلاف الزام ہی نہیں مقدمات بھی دائر ہیں۔ شاہ جی کہتے ہیں ’’جو کرپشن کرتے ہیں ان کو سیاست دان ہی نہیں سمجھتا‘‘ سید خورشید شاہ نے سچ کہا یہی تو مسئلہ ہے کہ کرپشن کے زیادہ تر الزام بھی تو سیاست دانوں ہی کے خلاف ہیں۔ اگر رائے عامہ سے دریافت کیا جائے تو وہ گواہی بھی دیں گے کہ کرپشن کی جاتی ہے اور ان میں سیاسی راہنما بھی شامل ہیں کہ جب ان کے پاس اختیار ہوتا ہے تو وہ اس کا بے جا استعمال بھی کرتے ہیں۔ لیکن کوئی مانتا نہیں۔ چونکہ کسی بھی سیاسی راہنما نے تسلیم نہیں کرنا اس لئے شاہ جی کی بات بھی رہ جائے گی اور کرنے والے بھی خود کو بے گناہ کہہ کر سچے بن جائیں گے۔

یہ پاکستان کا کلچر بن چکا اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں احتساب کا ایسا قانون اور خود مختار ڈھانچہ موجود نہیں جو برسر اقتدار صاحبان کا آزادی کے ساتھ احتساب کر سکے چاہے ان کے خلاف کتنے ہی ثبوت کیوں نہ ہوں اور جب ان حضرات کے خلاف کارروائی ہوتی ہے تو اس وقت وہ اقتدار سے باہر ہونے کی وجہ سے انتقام انتقام کی دہائی دینے لگتے ہیں، یوں معاملہ ہی الجھاؤ کا شکار ہوتا ہے۔ پھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ صرف سیاست دان ہی کیوں جج، جرنیل اور جرنلسٹوں کے ساتھ ساتھ بیورو کریسی کا بھی تو احتساب ہونا چاہئے، یہ سب اور سارا الجھاؤ ہی اس وجہ سے ہے کہ یہاں متعدد ادارے ضرور ہیں لیکن احتساب کا کوئی مربوط اور بے داغ با اختیار نظام نہیں ہے جو ہونا چاہئے اور یہ نا ممکن نہیں کہ خود سبھی سیاست دان اپنی تقریروں اور بیانات میں اس کا اظہار کرتے ہیں۔

ایک خبر یہ بھی ہے کہ قومی اسمبلی کی مجلس قائمہ کا اجلاس 4 مارچ کو بلایا گیا جو 2015ء کے احتساب بل پر غور کرے گی۔ یہ تو کوئی آرڈیننس ہے شاید ترمیمی ہے جس کے تحت موجودہ ڈائریکٹر جنرل قمر زمان چودھری کی تعیناتی ہوئی اور اس کے لئے قائد حزب اقتدار (وزیر اعظم) اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت بھی ہوئی تھی، لیکن یہاں تو ایک مسودہ قانون 2008ء سے زیر التواء ہے جب پیپلزپارٹی برسر اقتدار اور مسلم لیگ (ن) حزب اختلاف میں تھی۔ یہ ہمارے سیاسی راہنماؤں اور سیاسی جماعتوں کی کمزوری یا اغماض ہے کہ یہ بل جس کی بیشتر شقوں پر اتفاق ہو چکا تھا ابھی تک زیر التوا ہے اور نیب میں تقرری کے حوالے سے 2005ء میں آرڈی ننس لانا پڑا، اب اس پر غور ہوگا تو شاید موجودہ حزب اقتدار کی اس خواہش کے مطابق کہ نیب کے بعض ٹیڑھے امور کو سیدھا کر دیا جائے۔ وزراء کرام تو پارلیمانی کمشن بنانے کی بات بھی کر چکے ہیں۔ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے اس کی مخالفت کی تھی کہ موجودہ حالات میں ایسا ہوا تو عوام شبہ کریں گے اعتماد اور یقین نہیں کریں گے۔ ہم نے انہی سطور میں ایک سے زیادہ مرتبہ دہرایا کہ 2008ء والے مسودہ قانون کو سرد خانے سے نکال لیا جائے اور ایک با اختیار، خود مختار اور دیانت دار احتساب بیورو بنانے کے وعدے کی تکمیل کی جائے جو میثاق جمہوریت کا بھی حصہ ہے۔ صاحب اقتدار حضرات سے یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ اس میں رکاوٹ کیا ہے۔ اگر ارادہ ہے تو عملی جامہ پہنائیں، جھگڑا ختم کریں۔ ویسے خورشید شاہ تو مسلسل بلاامتیاز احتساب کی بات کرتے چلے آ رہے ہیں اور اب تو یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ بات پنجاب تک پہنچی تو سب یاد آ گیا۔ یہ داغ بھی دھو ہی دیا جائے تو بہتر ہے۔

ادھر سابق صدر آصف علی زرداری کے بیان پر ابھی تک بحث ٹھنڈی نہیں ہوئی کہ اب محترم ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ قائد تحریک الطاف حسین نے اپنے سابقہ بیانات پر کھلی معذرت کے بعد ایم کیو ایم کو ہدایت کی ہے کہ فوج کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنایا جائے اور جو لوگ ایم کیو ایم اور فوج کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کر رہے ہیں ان کی سازشوں کو ناکام بنایا جائے۔ قارئین! اب اس پر تو کسی تبصرے کی بھی ضرورت نہیں۔ ہر دور کی گھن گرج اور اب سیدھے سبھاؤ بات سے سب کچھ واضح ہو جاتا ہے۔ ایسا احساس ہوتا ہے کہ ہمارے ایک مقتدر ادارے کا تقدس اب ہر حال میں بحال ہے اور رہے گا، کسی طرف سے بھی کسی تنقید کی گنجائش نہیں رہی۔

جہاں تک متحدہ کا تعلق ہے تو عرض کیا تھا کہ وقت آیا تو یہ بیک فٹ پر چلی گئی اور اب اس کی طرف سے فرنٹ فٹ پر کھیل شروع کیا گیا ہے قائد تحریک کی معذرت اور ڈاکٹر فاروق ستار کے تازہ ترین ارشادات اس کا مظہر ہیں ہم تو بہر حال ملک میں سیاسی استحکام، رواداری، بلا امتیاز احتساب اور جائز تنقید کے قائل ہیں کہ جمہوریت ہے تو یہ اس کے تقاضے ہیں۔

ہمارے فرزند راولپنڈی محترم شیخ رشید مان ہی نہیں رہے وہ پھر مارچ، اپریل کی بات کرنے لگے ہیں، پہلے مارچ تک محدود تھے اب ایک ماہ کی توسیع کر دی۔ شاید مارچ شروع ہونے پر اور بھی مہلت دے ہی دیں۔ اگرچہ ابھی تک کوئی ایسا منظر نظر نہیں آیا کہ خطرہ پیدا ہو، باتیں ہی باتیں اور خواہشات ہی خواہشات ہیں، اور اس سے کوئی کسی کو روک نہیں سکتا۔ اس سلسلے میں یہ گزارش بھی بے جا نہیں کہ ہمارے برسر اقتدار حضرات کچھ زیادہ ہی مطمئن ہیں کہ سیاسی اور عسکری قیادت ایک صفحہ پر ہے اور مثالی تعاون جاری ہے۔ شاید اسی لئے یہ حضرات کسی کو خاطر میں نہیں لاتے، وزراء کرام کا تکیہ کلام بن گیا جس کو شکایت ہے عدالت کے دروازے کھلے ہیں، شاید اس لئے کہ عدالتوں کے کہنے پر عمل تو کرنا نہیں۔

ان اقتدار والوں کو یہ ضرور سمجھنا چاہئے کہ عام لوگوں کے مسائل جوں کے توں ہیں، سڑکیں، ریل اور بسیں بھی ضروری ہیں لیکن مہنگائی، گیس اور بجلی نہیں ہو گی تو عوام چیخیں گے اور ایسا ہو رہا ہے۔ اصل مسائل پر بھی توجہ کی ضرورت ہے جو ہونا چاہئے۔

مزید : تجزیہ