شب برأت: جہنم سے آزادی کی رات

شب برأت: جہنم سے آزادی کی رات

حضور اکرم، نور مجسم،شفیع معظم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے:’’جن لوگوں کی روحیں قبض کرنا ہوتی ہیں ان کے ناموں کی فہرست ماہِ شعبان میں ملک الموت کودی جاتی ہے اس لئے مجھے یہ بات پسند ہے کہ میرانام اس وقت فہرست میں لکھا جائے،جب میں روزے کی حالت میں ہوں‘‘۔ یہ حدیث پہلے مذکورہوچکی ہے کہ مرنے والوں کے ناموں کی فہرست پندرہویں شعبان کی رات کوتیار کی جاتی ہے،حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد سے معلوم ہوتاہے کہ اگرچہ رات کے وقت روزہ نہیں ہوتا اس کے باوجود روزہ دارلکھے جانے کامطلب یہ ہے کہ بوقت کتابت(شب)اللہ تعالیٰ روزے کی برکت کوجاری رکھتاہے۔شعبان المعظم جس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مہینہ قرار دیا ہے، یہ بڑی برکتوں اور فضیلتوں کا ماہِ مبارک ہے، جس کے متعلق حضرت عائشہ صدیقہؓ اور حضرت اُم سلمہؓ فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم، رمضان المبارک کے علاوہ باقی گیارہ مہینوں میں شعبان ہی وہ مہینہ ہے ،جس میں سب سے زیادہ روزے رکھتے تھے۔ ماہِ شعبان کو یہ فضیلت بھی حاصل ہے کہ اس میں ایک ایسی بابرکت رات موجود ہے جسے شب برأت کہتے ہیں۔ یہ شعبان کی پندرھویں رات ہے۔شب برأت وہ مقدس رات ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب قرآن مجید میں ’’ لیلتہ مبارکہ‘‘یعنی برکتوں والی رات فرمایا ہے ۔ اس مبارک رات کے اس کے علاوہ نام یہ ہیں ’’لیلۃبرأۃ‘‘ ،یعنی دوزخ سے بری ہونے کی رات ’’لیلۃ الرحمۃ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت کی رات اور ’’لیلۃ الصک‘‘ یعنی دستاویزات کی رات بھی کہا جاتا ہے۔ اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! اے عائشہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ اِس رات، یعنی شعبان کی پندرھویں رات کو کیا ہوتا ہے؟ عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا ہوتا ہے۔ تو آقانے فرمایا، اِس رات میں آئندہ سال بھرمیں پیدا ہونے والوں کا لکھا جاتا ہے اور دُنیا سے وفات پانے والوں کا بھی لکھ دیا جاتا ہے، اِس رات سال بھر کے اعمال اُٹھائے جاتے ہیں اور سال بھر کا رزق نازل کیا جاتا ہے۔ ابنِ ماجہ میں حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں رات کو مشرکین اور بغض رکھنے والوں کے علاوہ ہر صاحب ایمان کو بخشش دیتا ہے۔

غُنیۃ الطالبین میں ہے کہ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شعبان کی پندرھویں رات حضرت جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور کہا، اے اللہ کے رسول اپنا سر مبارک اُٹھا کر آسمان کی طرف دیکھئے، حضور نے دیکھ کر فرمایا کہ یہ رات ہے تو جبرائیل نے کہا کہ یہ ایسی رات ہے کہ اِس میں اللہ تعالیٰ رحمت کے تین سو دروازے کھولتا ہے اور ایمان والوں کی بخشش فرما دیتا ہے۔سوائے مشرک، کاہن، زانی اور جادوگر کے کہ وہ جب تک اپنے گناہوں سے سچی توبہ نہ کریں۔ پھر حضورؐ نے بہشت کے دروازوں کو کھلا ہوا پایا اور یہ دیکھاکہ پہلے دروازے سے فرشہ ندا کر رہا ہے کہ اس رات رجوع کرنے والے کے لئے خوشخبری ہے۔ دوسرے دروازے کا فرشتہ آواز دیتا ہے کہ اس رات سجدہ کرنے والوں کے لئے خوشخبری ہے۔ تیسرے دروازے والا پکارتا ہے کہ اس رات میں دُعا کرنے والے کے لئے خوشخبری ہے۔ چوتھے دروازے کا فرشتہ اعلان کرتا ہے کہ آج اللہ کا ذکر کرنے والوں کے لئے خوشخبری ہے۔ پانچویں دروازے کا فرشتہ کہتا ہے کہ اللہ کے خوف سے رونے والوں کے لئے خوشخبری ہے، چھٹے دروازے پر فرشتہ کہتا ہے کہ آج صاحب ایمان کے لئے خوشخبری ہے، ساتویں دروازے کا فرشتہ پکارتا ہے کہ ہے کوئی سوال کرنے والا کہ اس کا سوال پورا کیا جائے۔ آٹھویں دروازے والا فرشتہ پکارتا ہے کہ ہے کوئی بخشش طلب کرنے والا تاکہ اس کی بخشش کر دی جائے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ پھر میں نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ بہشت کے دروازے کب تک کھلے رہیں گے۔ تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ رات شروع ہونے سے صبح ہونے تک کھلے رہیں گے، پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اس رات میں آپ کی اُمت سے بنوکلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر گنہگاروں کو دوزخ کے عذاب سے نجات دیتا ہے ۔حضرت علی المرتضیٰؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نصف شعبان کی رات آئے تو رات کو جاگو اور نماز پڑھو اور دن کو روزہ رکھو ، اِس لئے کہ اللہ تعالیٰ اس رات کو غروب آفتاب سے بھی پہلے آسمان پر تجلّی فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے کہ ہے کوئی استغفار کرنے والا کہ اس کی مغفرت کردوں۔ ہے کوئی رزق مانگنے والا وہ اسے رزق ادا کیا جائے اور یہ ندا اس طرح جاری رہتی ہے یہاں تک کہ صبح ہو جاتی ہے۔۔۔ اہلِ اسلام کے لئے اِس رات میں جو اعمال مسنون ہیں کہ درج ذیل ہیں۔

سردار الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص شب برأت میں تلاوت قرآن کثرت سے کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے اس کے والدین کے عذاب کو کم کردیتا ہے ۔خواہ وہ کافر، ملحد ہوں یاگمراہ ہی کیوں نہ ہوں۔ اس رحمتوں اور بخششوں بھری رات میں کثرت سے تلاوت سے کلام پاک،آقائے صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر کثرت سے درود شریف، صلوٰۃُ التسبیح اور دیگر نوافل ادا کئے جائیں تو کم سے کم عبادت کرنے سے زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل کیا جاسکتا ہے۔

*۔۔۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں جو شخص 8 رکعت نماز ایک سلام کے ساتھ اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد11 مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھے اور دو رکعت کے بعد پوری التحیات پڑھے اِس ترتیب کے ساتھ آٹھ رکعت مکمل کرے اس کا ثواب مجھے پہنچائے تو میں اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوں گی جب تک اس کی بخشش نہ کروا لوں۔

*۔۔۔ شعبان کے 14 ویں دن بعد عصر غروب آفتاب کے وقت چالیس مرتبہ لاَحَوْلَ وَلَاقْوَّۃَ اِلاّباللّہِ الْعَلِّیِ العظیم پڑھنے والے کے چالیس سال کے گناہ بخشش دیئے جاتے ہیں اور قیامت کے دن اس کی شفاعت پر چالیس آدمیوں کو دوزخ سے آزادی حاصل ہوگی۔

*۔۔۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ پندرھویں شعبان کی رات مسلمانوں کی ارواح اپنے گھروں میں جاتی ہیں اور اپنے وارثوں سے مخاطب ہو کر کہتی ہیں کہ ہے کوئی ہمارا محسن جو ہمیں یاد کرے، یعنی ایصال ثواب کرے۔ اگر تم ہماری حالت زار اور تونائی کو یاد کرو تو دُنیا کی تمام آسائشوں اور آرام بھول جاؤ ۔اِس رات حضور صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقع میں تشریف لے جاتے، اِس لئے اس رات میں قبرستان جانا سنت ہے، وہاں اپنے عزیزو ارقارب کی قبروں پر حاضری دیں اور فاتحہ پڑھیں۔

*۔۔۔ اِس رات سورۂ یٰسین پڑھنے سے ترقی رزق ، درازعمری اور ناگہانی آفتوں سے حفاظت ہوتی ہے۔

*۔۔۔ صلوٰۃ الخیر۔ اس رات میں 100 رکعت نوافل اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد 10 مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس بندے کی طرف70 مرتبہ نگاہ کرم فرماتا ہے اور ہر نگاہ کے بدلے اس کی 70 حاجتیں پوری فرماتا ہے، جس میں ادنیٰ ترین حاجت یہ ہے کہ اس کی بخشش کردی جاتی ہے۔

*۔۔۔اس شب میں سورۃ الدخان(پارہ 25) کی جوشخص 7 مرتبہ تلاوت کرے گا اس کی اللہ تعالیٰ 70 حاجات دُنیا اور 70 حاجات آخرت میں قبول فرمائے گا۔

*۔۔۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص بارہ رکعت اس طرح پڑھے کہ سورۂ فاتحہ کے بعد 10 مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کے سابق گناہ مٹادیتا ہے اور اس کی عمر میں برکت ہوتی ہے۔

*۔۔۔ شعبان کی 15 کو روزہ رکھنے کی بڑی فضلیت ہے، اِس دن روزہ رکھنے والے کے پچاس سال کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں ۔

*۔۔۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص شعبان کی راتوں میں قیام کرے گا ، ذکر کرے گا اور دورد شریف پڑھے گا تو اس کا دل کبھی مردہ نہیں ہو گا۔ شب برأت کی عظمت اور اس کے تقدس کا احترام ہر مسلمان پر لازم ہے، نیک ومتقی لوگ جوہررات شب بیداری کرتے ہیں اورتمام دن اطاعت الٰہی میں گزارتے ہیں، جبکہ اس کے برعکس بعض لوگ ایسے کم نصیب ہیں، جواس مقدس رات میں فکر آخرت اورعبادت ودعا میں مشغول ہونے کی بجائے مزید لہو ولعب میں مبتلاہوجاتے ہیں، آتش بازی، پٹاخے اوردیگرناجائز امورمیں مبتلاہوکر وہ اس مبارک رات کاتقدس پامال کرتے ہیں، حالانکہ آتش بازی اورپٹاخے نہ صرف ان لوگوں اوران کے بچوں کی جان کے لئے خطرہ ہیں، بلکہ اردگرد کے لوگوں کی جان کے لئے بھی خطرے کا باعث بنتے ہیں، ایسے لوگ’’مال برباد اورگناہ لازم‘‘کامصداق ہیں۔۔۔چنانچہ قرآن مجید میں فضول اور لغو کاموں میں خرچ کرنے والوں کوشیطان کے بھائی فرمایا گیا۔ سورہ بنی اسرائیل میں ارشا ہوا:’’اورفضول نہ اڑا بے شک(مال)اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں‘‘۔ ہمیں چاہئے کہ ایسے گناہ کے کاموں سے خود بھی بچیں اوردوسروں کوبھی بچائیں اوربچوں کو سمجھائیں کہ ایسے لغو کاموں سے اللہ تعالیٰ اورا س کے پیارے حبیبؐ ناراض ہوتے ہیں، مجددبرحق اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی ؒ فرماتے ہیں، آ تش بازی جس طرح شادیوں اورشب برأت میں رائج ہے، بے شک حرام اورپورا جرم ہے کہ اس میں مال کاضیاع ہے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...