اب یہی کمپنی چلے گی

اب یہی کمپنی چلے گی
اب یہی کمپنی چلے گی

  

لگتا ہے سیاست کو جان بوجھ کر انتشار کی آگ میں جھونکا جارہا ہے۔ایک بار پھر ایسے منظر تخلیق کیے جا رہے ہیں کہ ہر طرف سے ”جلا دو، گرا دو،مار دو،لٹکا دو“ کے للکارے سننے کو ملیں۔ جب حکومت کمزور پڑنے لگے یا جان بوجھ کر اس کی کشتی میں سوراخ کیے جانے لگیں تو اپوزیشن جماعتوں کو اجتماع کا موقع مل جاتا ہے۔ احتجاج کے منصوبے بنتے اور دھرنے کی تیاریاں شروع ہوجاتی ہیں۔پرانے دشمن،گلے شکوے بھلا کر نئے رشتے استوار اور ساتھ جینے مرنے کے عہدو پیمان کرتے ہیں۔جسے اپنا چپڑاسی رکھنے کو دل نہ کرے،اسے وزیر بنا کر اپنی گود میں بٹھانا پڑتا ہے اور بلاوجہ ہروقت تعریف بھی کرنا پڑتی ہے،جسے آپ شہباز شریف سے بڑا چور کہتے ہوں،اسے صوبائی حکومت میں اہم ترین عہدہ دینا پڑے، کراچی کی ”قاتل جماعت“ کو اہم وزارتیں دینا پڑیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے ناراض کارکنوں کو خریدنا پڑے تو اس کا مقصد محض اقتدار کا حصول ہوتا ہے۔اپنا  کہا بھلا کر بھی اقتدار تک نہ پہنچا جاسکے تو ایڑھییاں اٹھا کر اِدھر اُدھر دیکھنا پڑتا ہے کہ ہے کوئی جو ہماری فریاد سنے۔

جب خفیہ ہاتھ مدد کو پہنچتے ہیں تو سارے متحد ہو کر نئے قاعدے کا سبق یاد کرتے ہیں اور وہ سبق ”اے بی سی“ سے شروع نہیں ہوتا۔ حروف اس کے بھی تین ہیں، لیکن پہلے دو درمیان سے اور تیسرا حرف آخر سے لیا جاتا ہے۔یہ سبق پڑھنے کے بعد پھر سیاسی جماعتوں کے نئے نام کچھ اس طرح رکھ دیئے جاتے ہیں۔پیپلز پارٹی (G) ایم کیو ایم (H) اور مسلم لیگ (Q) وغیرہ۔بھان متی کا کنبہ جوڑکر،اسے مذہبی عقیدت کا غلاف چڑھانے کے لئے علامہ طاہرالقادری اور خادم حسین رضوی جیسے فتویٰ ساز بھی ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ اے پی سی ناکام ہو یا نواز شریف کی تقریر کے پرخچے اڑیں، کوئی انوکھی بات نہیں۔سیاسی تاریخ ایسے واقعات، منصوبوں اور چالوں سے اٹی پڑی ہے۔ نواز شریف کی تقریر،تاریخ کا ایک باب تو تھی، لیکن لڑائی کے بعد یاد آنے والا مکا بھی تھی،جو انہوں نے بلاشبہ اپنے سمیت سیاسی جماعتوں کے منہ پر دے مارا۔یہ الگ بات کہ اس کی تکلیف حکومت میں بیٹھے والوں کو زیا دہ محسوس ہوئی۔ 

کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ شیخ رشید میں  ایسے کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں کہ وہ ہر حکومت میں وزیر ہوتے ہیں۔وہ کون سی طاقت یا صلاحیت ہے جو شیخ رشید کو ہر حکومت کی گاڑی پر سوار کر دیتی ہے؟ شاہ محمود قریشی،جہانگیر ترین،فواد چودھری، غلام سرور خان،زبیدہ جلال، خسرو بختیار،فہمیدہ مرزا، فردوس عاشق اعوان، عمر ایوب،محمد میاں سومرو،علیم خان،پرویزالٰہی،چودھری محمد سرور جیسے 150 سے زائد لوگ آخر اپنی کن لازوال خوبیوں کی بدولت عمران خان کے ساتھ بٹھا دیئے گئے؟ ان میں سے کتنے ہیں جو عمران خان کی بائیس سالہ جدوجہد کے ساتھی تھے؟تحریک انصاف کے بانی ارکان کو تو خود عمران خان بھی اب چراغ لے کر ڈھونڈیں تووہ نہ ملیں۔آج کل عمران خان کے ارد گرد بیٹھے لوگ بھی ”خفیہ ملاقاتوں“کی پیداوار ہیں۔یہ سب عوام کے رہنما نہیں، کاروباری لوگ ہیں۔ عوام کے نام پر اپنی زبان اور بیان بیچ کر مفادات کا کاروبار کرتے ہیں۔ فلاح کے نام پرعوام کے خواب خریدتے اور پارلیمنٹ میں اس کی دوگنا قیمت سود سمیت وصول کرتے ہیں ……اورکیا مجال کہ ایک پائی بھی کسی ایک ووٹر کے اکاوؑنٹ میں کبھی منتقل ہوئی ہو۔

یہ سوچنا سراسر بیوقوفی ہے کہ کوئی سیاسی سرمایہ دار اپنا منافع اپنے غریب ووٹروں میں بانٹے گا۔ یہ اس کی اور اس کے کاروبار کی نفسیاتی مجبوری ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت اسے پھلنے پھولنے سے نہیں روک سکتی۔کھلی مارکیٹ ہو یا پارلیمنٹ کی بند منڈی۔یہاں حساب کے پیمانے صرف جمع، ضرب چار سو فیصد کے اصول پر کام کرتے ہیں۔ شریف فیملی ہو یا ترین خاندان، چودھری برادران ہوں یا باجوے،بھٹو،زرداری ہوں یا فیصل واڈے،مخدوم ہوں یا چیمے، چٹھے، ووٹ خرید کر ”جیتی“ ہوئی نشست سستے داموں پارلیمنٹ میں کیوں بیچیں گے؟ سرمایہ دار،سیاست اور بزنس میں گھاٹے کا سودا کبھی نہیں کر سکتا۔ پارلیمنٹ کی نشستوں کی سودے بازی اور وفاداریوں کے لین دین میں جو کچھ اس نے کیا یا اب کرنا پڑ رہا ہے، اس میں بدنامی اور ذلالت بھی سود میں ملی اور اس کاروبار کے دوران ہم نوالہ و ہم پیالہ رہنے والے نئی خفیہ ملاقاتوں کے بعد ایک دوسرے پر گند اچھالنے لگیں تو اے پی سی جیسی تقریریں بھی ہوں گی اور  غداریوں کے مقدمے بھی بنیں گے۔نیب اور میڈیا میں ذلت آمیز پیشیاں اور کڑا احتساب بھی ہو گا۔پھر خفیہ ملاقاتوں کی کہانیاں بھی زبان زد عام ہوں تو ہمیں عجیب کیوں لگے……

 ملاقاتوں کے بعد اگر شیخ رشید کے بقول ”ش لیگ“ بنے گی تو کوئی بڑی بات نہیں کہ آئندہ تحریک انصاف کا بھی کوئی ٹکڑا دیکھنے کو مل جائے۔جہانگیر ترین،چودھری نثار علی اور چودھری اعتزاز احسن سمیت تینوں بڑی جماعتوں کے بہت سے شاکی ارکان چپکے سے الگ ہو کر بیٹھے ہیں۔نہ جانے کب ان سے بھی خفیہ ملاقاتیں شروع ہو جائیں اور نئی تحریک انصاف کی بنیاد رکھ دی جائے۔اگر ایسا ہوا تو عمران خان کے خلاف سب سے دھانسو پریس کانفرنس (ان شاء اللہ) شیخ رشید کی ہوگی۔

خدارا، فوج سے ایسی محبت نہ کریں کہ سیاست دانوں کی ہر نااہلی کے چھینٹے اس کی وردی پر پڑیں۔فوج ایک مضبوط، منظم اور اہم ترین  ادارہ ہے۔ایک ایسا ادارہ، جس پر اندرونی و بیرونی تحفظ کی بھاری ذمہ داریاں عائد ہیں اور الحمد للہ، بطور ادارہ وہ اس میں کبھی لاپروا نہیں ہوا، بلکہ ہر محاذ پر سرخرو ہوا۔ملکی تاریخ اس ادارے کی بہادری،جرأت اور استقامت کی لازوال داستانوں سے لبریز ہے۔ اس ادارے پر تنقید اور تمسخر بطور قوم، ہم افورڈ نہیں کر سکتے،البتہ ادارے کی کچھ شخصیات ضرور ہدف تنقید ہوتی ہیں، لیکن ان اعلیٰ شخصیات پر تنقید کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کوئی بطور ادارہ فوج پر کیچڑ اچھالے یا اسے کمزورکرے …… قیام پاکستان سے لے کر آج تک فوج کا احترام اور تعظیم مسلم ہے۔مستقبل میں ملک کی اندرونی و بیرونی سطح پر مضبوطی اور ترقی اس ادارے کے استحکام اور احترام سے ہی ممکن ہے۔ بات بے بات اس ادارے پر تنقید کرنے اور ہر معاملے میں اس کو دھکیلنے والے جان لیں کہ لاکھ نئی نئی حکومتیں بنا لیں، نئی سیاسی اور کاروباری کمپنیاں بنا لیں،لیکن اس ناقابل تسخیر ادارے کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔خود ساختہ ترجمان ادارے کے نام پر جتنی چاہے دھول اڑا لیں۔ جب تک ملک سلامت ہے،اب کمپنی یہی چلے گی۔

مزید :

رائے -کالم -