نا شکرا انسان

نا شکرا انسان
 نا شکرا انسان

  

[بچوں کے لئے لکھی گئی کہانی جس میں بڑوں کے لئے بھی دعوتِ فکر ہے، اس لئے وہ بھی پڑھ سکتے ہیں۔]

اللہ پاک نے ہر بندے کا مقدر لکھ دیا ہے ،مگر اس کے حصول کے لئے بندہ خود ہی ہاتھ پاﺅں مارتا ہے۔ تنگ دستی اور خوشحالی دونوں آزمائش و امتحان ہوتی ہیں۔ اللہ کے نیک بندے ہر دو حالتوں میں صابر و شاکر رہتے ہیں ،جبکہ دنیا دار و مادہ پرست لوگ تنگی میں بددل، مایوس اور شکوہ شکایت کے عادی ہوجاتے ہیں اور مال و دولت ملنے پر آپے سے باہر ہوجاتے ہیں۔ نیک بندے کا کام یہ ہے کہ اللہ خوش حالی دے تو اسے اس کا فضل و کرم سمجھے اور شکر ادا کرے۔ شکر محض زبان سے نہیں، عمل سے ہوتا ہے۔ حق داروں کے حقوق خوش دلی سے ادا کرنا اور ان پر کوئی احسان نہ جتلانا شکر گزاری کا تقاضا ہے۔ ایسے بندوں سے اگر نعمتیں اور خوش حالی چھن جائے تو وہ مایوس ہونے اور اپنی قسمت کو کوسنے کی بجائے اس پر صبر کا مظاہرہ کرتے ہیں اور محنت کے ساتھ اللہ سے مدد اور توفیق بھی طلب کرتے ہیں۔ ہر دور میں اس دنیا میں کم یا زیادہ دونوں قسم کے کردار انسانی معاشروں میں موجود رہے ہیں۔

ایک تنگ دست اور مفلوک الحال شخص فضل داد کے پاس اللہ نے اپنا ایک فرشتہ انسانی شکل میں بھیجا۔ فرشتے نے اس سے ملاقات کی اور ہمدردی کے ساتھ اس سے کہا کہ اس کی غربت و افلاس خوش حالی و فارغ البالی میں بدل سکتی ہے۔ اس شخص نے بڑے شوق سے پوچھا : ”حضور وہ کیسے“؟ فرشتے نے کہا: ”وہ مَیں تم کو ابھی بتادوں گا، مگر اس سے پہلے تم ایک عہد کرو“۔ اس شخص نے پوچھا: ”آپ بتائیں کیا عہد کروں“۔ اس نے کہا: ”تم عنقریب جب مالدار اور غنی ہوجاﺅ گے تو اللہ کا شکر ادا کرنا اور جس کسی نے تم پر احسان کیا ہو، اس کے احسان کا اچھا بدلہ دینا، ساتھ ہی مال میں سے اللہ کے حکم کے مطابق حق داروں کو خوش دلی سے ان کا حق ادا کرتے رہنا“ ۔

تنگ دستی کے ستاتے ہوئے شخص نے فوراً کہا: ”مَیں یہ عہد کرتا ہوں اور اس کی پابندی کروں گا“۔ فرشتہ بولا ”اچھا تم اپنے جاننے والے ایک شخص کے پاس جاﺅ اور اس سے دو لاکھ روپے قرض مانگو۔ تم یہ رقم لے لو تو مَیں تمہارے کینیڈا جانے کا بندوبست کردوں گا“۔ اس شخص نے سن رکھا تھا کہ جو کینیڈا چلا جاتا ہے، وہ ڈالروں میں کھیلتا ہے۔ اس نے مہمان سے معلوم کیا کہ وہ دوبارہ اس سے کب اور کہاں ملے گا، اسے دن اور مقام بتایا گیا اور مہمان یہ بتا کر رخصت ہوگیا۔

فضل داد مہمان کے بتائے ہوئے اپنے جاننے والے میاں حامد محمود کے پاس گیا۔ میاں صاحب مال دار انسان تھے اور دریا دل بھی۔ جب فضل داد نے اپنا مسئلہ ان کے سامنے پیش کیا اور ان سے قرض مانگا تو انہوں نے پوچھا: ”بھائی وہ شخص قابل اعتماد تھا یا کوئی دھوکے باز اور ٹھگ ایجنٹ تھا“؟ فضل داد نے جواب دیا: ”نہیں میاں جی وہ بہت اچھا انسان اور از حد غم گسار شخص ہے۔“ کچھ سوچ بچار کرنے کے بعد میاں صاحب نے کہا: ”اچھا بھائی، پیسے واپس کب تک کرو گے“؟ اس نے جواب دیا ”میاں صاحب مَیں جوں ہی وہاں پہنچوں گا، پیسوں کا انتظام ہوجائے گا ،مگر آپ مجھے چھ آٹھ ماہ تو دیں نا“.... میاں صاحب نے دل میں سوچا کہ بے چارا فضل داد عیال دار آدمی ہے، بچیاں جوان ہوگئی ہیں، بچے بھی سکول جاتے ہیں، تنگ دستی ہے، چلو ایک غریب آدمی اپنے پاﺅں پہ کھڑا ہوجائے گا، لہٰذا انہوں نے کہا کہ بھئی ایک ہفتے بعد رقم لے جانا۔

اب فضل داد بہت خوش تھا۔ وہ ایک ایک دن گن گن کر گزار رہا تھا۔ ہفتے بعد میاں صاحب کے پاس گیا۔ انہوں نے رقم کا انتظام کرلیا تھا۔ ان کا ایک پلاٹ حال ہی میں بکا تھا اور رقم ان کے کھاتے میں موجود تھی۔ فضل داد سے ایک سادہ کاغذ پر میاں صاحب نے دستخط کرائے کہ ایک سال کے اندر وہ پوری رقم ادا کردے گا اور دو لاکھ روپے اسے دے دیئے۔ اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ اب وہ انتظار کرنے لگا کہ وہ دن آئے جس روز اس مہمان سے ملاقات طے تھی۔ وہ دن آیا تو فضل داد متعلقہ مقام پر گیا۔ وہاں اسے وہ مہمان نظر نہ آیا تو قدرے پریشانی سی ہوئی، اتنی رقم اس کی جیب میں تھی۔ بہرحال چند ہی لمحوں میں وہ شخص اسے دور سے تیز تیز چلتا ہوا اپنی طرف بڑھتا نظر آگیا۔

مہمان نے آتے ہی فضل داد سے مصافحہ کیا اور چند منٹوں کی تاخیر پر معذرت بھی کی۔ اس نے اسے بتایا کہ فلاں دفتر میں فلاں شخص سے بات ہوگئی ہے۔ فضل داد کے ویزے اور سفر کا انتظام بھی ہوگیا ہے۔ وہ رقم ادا کرکے اپنا پاسپورٹ جمع کرادے، اگلے اتوار کو اس کی روانگی ہے۔ ٹورنٹو میں محمد علی نامی ایک نوجوان اس کا ایرپورٹ پر استقبال کرے گا اور بقیہ تمام انتظامات وہی کرے گا، فکر اور پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ فضل داد متعلقہ دفتر میں گیا اور بتائے ہوئے شخص لطیف مرزا کا پتا پوچھا۔ ایک سمارٹ نوجوان کی طرف اس کی رہنمائی کی گئی۔ یہ ایک خوش اخلاق نوجوان تھا۔ اس نے پاسپورٹ لیا اور ایک لاکھ نوے ہزار روپے وصول کرکے رسید دے دی۔ پھر بتایا کہ جمعہ کے روز وہ اپنا پاسپورٹ اور ٹکٹ آکر وصول کرلے اور رسید لا کر دفتر میں جمع کرائے۔

فضل داد پروگرام کے مطابق کینیڈا پہنچ گیا۔ اس کا استقبال کرنے کے لئے محمد علی موجود تھا۔ اسی نے بقیہ تمام انتظامات کئے۔ محمد علی کا ایک پٹرول پمپ تھا۔ فضل دادکو اس پمپ پر ذمہ داریاں ادا کرنا تھیں۔ فضل داددیہاتی آدمی، جفاکش اور تنومند تھا۔ کام کو بہت جلد اچھی طرح سمجھ گیا۔ اس کا معاوضہ بہت پُرکشش تھا۔ پاکستانی روپوں میں تبدیل کرتا تو ستر ہزار روپے ماہانہ بن جاتے۔ اپنے اخراجات نکالنے کے بعد بھی اس کے پاس چالیس پچاس ہزار روپے ہر ماہ بچ جاتے۔ سال کے اندر اندر اس نے میاں حامد صاحب کا قرض ادا کر دیا۔ بیوی بچوں کو بھی پیسے بھیجتا رہا۔ دو سال یوں ہی گزرے۔ اب اس کے پاس کچھ رقم بھی جمع ہوگئی تھی اوروہ کینیڈا کے ماحول اور کاروبار کو بھی سمجھ گیا تھا۔

فضل داد کی تعلیم واجبی سی تھی مگر وہ بڑا سمجھ دار اور ہنر مند تھا۔ اس نے معلومات جمع کیں تو اسے پتا چلا کہ منشیات کا دھندا سب سے زیادہ منافع بخش ہے۔ اس میں خطرات بھی تھے ،مگر اس نے ایک سپر سٹور بنایا جو دراصل ڈھال کے طور پر استعمال کرنا مطلوب تھا۔ اب اس کی ساری فیملی بھی کینیڈا آچکی تھی۔ دس سال کے عرصے میں وہ اب گاﺅں کا پھجا نہیں، بلکہ کینیڈا کا چودھری فضل داد بن چکا تھا۔ منشیات کا دھندا زیر زمین کاروبار تھا اور سپر سٹور برسرِ زمین۔ دولت تھی کہ اس پر عاشق ہوگئی۔ وہ ایک بڑا تاجر بن چکا تھا اور ہر ماہ ہزاروں ڈالر ٹیکس بھی ادا کرتا تھا، مگر اصل انکم جو زیر زمین یا کالا دھن تھا، اس پر نہ کوئی ٹیکس دیناہوتاتھا نہ محصول۔ اب فضل داد زمین پر نہیں آسمان پر خود کو مقیم سمجھتا تھا۔

ایک دن فضل داد کے پاس ایک شخص آیا۔ اس کی شکل و صورت بالکل ویسی ہی تھی ،جیسی اس کے اجنبی مہمان اور محسن کی تھی ،جس نے اس کی قسمت بدل دی۔ دل میں خیال گزرا کہ شکل تو اسی شخص کی سی ہے، مگر وہ تو پاکستان میںتھا، یہاں کیسے آگیا، بہرحال فضل داد نے اس کا استقبال کیا، چائے اور ضیافت کی دعوت دی، مگر مہمان نے کہا کہ نہیں وہ روزے سے ہے۔ پھر اس نے کہا: ”آپ کے پاس پندرہ سال قبل ایک شخص آیاتھا، کیا آپ کو یاد ہے“؟ فضل داد نے کہا: ”میرے پاس تو مہمانوں کا مجمع لگارہتا تھا۔ بھائی کوئی اتا پتا تو بتاﺅ“؟ اجنبی نے کہا: ”وہ میرا بھائی تھا، اس نے آپ کو کینیڈا آنے کا مشورہ دیا تھا“۔ فضل داد نے کہا: ”ہاں ہاں، کیا حال ہے ان کا“؟.... مہمان بولا: ”وہ بالکل ٹھیک ہیں، انہوں نے ہی مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے۔ ان کا پیغام ہے کہ آپ کے محسن میاں حامد بہت سخت مشکل میں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی مشکل عارضی ہے اور بہت جلد ختم ہوجائے گی، مگر اس وقت ان کو آپ کی مدد اور تعاون کی اشد ضرورت ہے۔ ان کے بیٹوں پر قتل کا جھوٹا اور بے بنیاد الزام لگا کر ایم پی اے صاحب نے ان کو جیل میں ڈلوا دیا ہے اور سیشن جج پر بھی دباﺅ ہے کہ وہ ان کو سزائے موت سنا دے۔ میاں صاحب سفید پوش اور معزز آدمی ہیں۔ ان کی زمین بھی ایم پی اے بکنے نہیں دے رہا۔ ان پر بڑا کڑا وقت آگیا ہے، آپ ان کو بیس لاکھ روپے قرض دے دیں۔ وہ بہت جلد اس پوزیشن میں آجائیں گے کہ ادائیگی کردیں....“

فضل داد نے ذرا سوچ کر کہا: ”تم جانتے ہو کہ ہم تو کاروبار کرتے ہیں، بنکوں سے سود پر رقم لیتے ہیں۔ پھر مع سود واپس کرنا ہوتی ہے۔ میاں صاحب اگر وکیل اور اٹارنی کے ذریعے اشٹام پر لکھ دیں کہ اصل زر مع سود لوٹا دیں گے تو رقم کا کسی طرح بندوبست کرلیں گے۔ مہمان نے کہا: ”بھائی جی انہوں نے آپ کے ساتھ کتنا بڑا احسان کیا تھا۔ انہوں نے سود کی بات ہی نہیں کی تھی، قرض حسنہ دیا تھا۔ اب اس احسان کا بدلہ اتارنے کا موقع آیا ہے تو آپ سود اور اشٹام کی یہ شرطیں لگا رہے ہیں“ ۔یہ سننا تھا کہ فضل داد کا پارہ چڑھ گیا۔ اس نے کہا: ”کس کا احسان؟ تم جانتے نہیں ہو کہ ہم تو خاندانی رئیس ہیں۔ ہم پر کسی کا کوئی احسان نہیں ہے“.... مہمان نے یہ سنا تو کہا: ”اچھا بھائی، تم خاندانی رئیس ہو تو اللہ تم کو اسی حالت میں لے جائے جس میں تمہارا خاندان پندرہ بیس سال پہلے تھا“.... یہ کہہ کر مہمان چلا گیا۔

چند ہی روزگزرے کہ فضل داد کی منشیات کا ایک بڑا سامان پکڑا گیا۔ اتنی بڑی مقدار میں منشیات کا پکڑا جانا تھا کہ کینیڈا کی پولیس اور انتظامیہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک متحرک ہوگئی۔ فضل داد کے گرفتار کارندوں نے سارے راز کھول دیئے۔ فضل داد اس دوران بھاگ کر کسی دوسرے ملک جارہا تھا کہ ایرپورٹ پر پکڑا گیا۔ اس پر کئی غیر قانونی دھندے کرنے کے الزامات ثابت ہوگئے۔ اس کا کاروبار ضبط کرلیا گیا اور اسے بیس سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ اب اسے یاد آیا کہ اس کے محسن کا بھائی جو کچھ کہہ گیا تھا، اسے اس سے بھی بدتر انجام سے دوچار ہونا پڑاہے، مگر اب کیا ہوسکتاتھا!یہ تو تھا ناشکرے انسان کا انجام ۔ اللہ کے شکر گزار بندے کا حال اگلی کہانی میں پڑھئے۔   ٭

مزید :

کالم -