صوبائی عہدوں پر وفاق کی تعیناتیاں،نئی اصلاحات نا منظور

صوبائی عہدوں پر وفاق کی تعیناتیاں،نئی اصلاحات نا منظور

  



لاہور(این این آئی)چاروں صوبوں کی صوبائی سروس کے افسروں کی تنظیم نے ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں صوبائی پوسٹوں سے متعلق سول سروس اصلاحات کومستردکرتے ہوئے عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کر دیا۔ صوبائی افسروں نے کہاہے کہ صوبے اپنا آئی جی یا چیف سیکرٹری نہیں لگا سکتے کیونکہ صوبائی خودمختاری نہیں ہے،صوبائی انتظامات کا اختیار صوبائی حکومت کو ہونا چاہیے،چاروں صوبوں میں چیف سیکرٹریز کی نشستوں پر صوبائی سروس سے تقرری کی جائے۔آل پاکستان پراونشل مینجمنٹ سروس کے افسروں نے لاہور میں سول سروس اصلاحات اور صوبائی خود مختاری پر کنونشن کا انعقاد کیا جس میں چاروں صوبوں سے افسروں نے شرکت کی۔ وائس چیئرمین سندھ پراونشل سول ایسوسی ایشن عزیز الرحیم خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی افسروں کو18ویں ترمیم کے بعد بھی حق نہیں مل رہا۔ پاکستان ایڈمنسٹریشن سروس کی قانونی حیثیت کو عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے۔سندھ کے تمام افسر اپنے حقوق کے لئے ایسوسی ایشن کے ساتھ ہیں۔بلوچستان سیکرٹریٹ ایسوسی ایشن کے رہنما تقی عثمان نے کہا کہ تمام سیاستدان آئین کی رٹ کی بات کرتے ہیں لیکن اس پر عمل ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ہمارے حکام بالا آئین کو پڑھتے نہیں اور جو پڑھتے ہیں وہ اس آئین پر عمل نہیں کرا سکتے۔1954میں سول سروس میں پوسٹوں کی تقسیم کا جو فارمولا بنا اس وقت بلوچستان صوبہ نہیں تھا۔1954کے فارمولے کے مطابق بھی بلوچستان کے ملازمین کو اس کے مطابق کوٹہ نہیں دیا جا رہا۔ڈی ایم جی یا پاکستان ایڈمنسٹریشن سروس کی کوئی حیثیت نہیں،اگر سول سرونٹس وفاق سے آئیں تو پھر صوبوں کی خودمختاری یا آزادی کیسے ہو گی؟۔کوئٹہ میں ایک ڈی ایم جی افسر کے گھر سے چوری شدہ سرکاری گاڑیاں برآمد ہوئی ہیں۔کسی قانونی حیثیت کے بغیر ہی پاکستان ایڈمنسٹریشن سروس کے افسروں کو پراونشل مینجمنٹ سروس کے افسروں کی سیٹوں پر تعینات کیا جاتا ہے۔پراونشل سروس مینجمنٹ خیبر پختوانخواہ کے صدر عبدالغفور بیگ نے کہا کہ خیبر پختوانخواہ کے افسر اپنے مسائل کے حل کیلئے ایسوسی ایشن کے شانہ بشانہ ہوں گے۔سندھ میں حکومت دو ماہ سے ایک آئی جی کو تبدیل نہیں کراسکی،صوبے اپنا آئی جی یا چیف سیکرٹری نہیں لگا سکتے کیونکہ صوبائی خودمختاری نہیں ہے،صوبائی انتظامات کا اختیار صوبائی حکومت کو ہونا چاہیے،نہ ہماری صوبائی اسمبلیاں زیادہ مضبوط ہیں اور نہ ہی صوبائی وزیر اعلیٰ جو ہمارے مسائل حل کر سکیں،چاروں صوبوں میں چند سو افسروں نے ہزاروں افسروں کے حق پر ضرب لگائی ہے۔پراونشل سروس مینجمنٹ پنجاب کے صدر طارق محمود اعوان نے کہاکہ یہ چار ہزار افسروں پر مشتمل صوبائی افسروں کی ایسوسی ایشن ہے۔چار ہزار افسر سول سروس اصلاحات کے مجوزہ قوانین کو مسترد کرتے ہیں۔وفاق سے تمام صوبوں کے افسروں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔چیف سیکرٹری پاکستان ایڈمنسٹریشن سروس کے افسروں کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتا۔چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور سپیکرز اسمبلی ہماری بات سنیں کیونکہ ان کے اختیارات پر سمجھوتہ ہو رہا ہے۔،ڈاکٹر عشرت حسین کی کمیٹی نے جو حقائق کابینہ میں پیش کئے وہ غلط بیانی پر قائم ہیں۔اسلام آباد سے چیف سیکرٹری کی تعیناتی سے صوبوں میں بہتری نہیں آ سکتی۔ کنونشن کے مشترکہ اعلامیہ میں ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں کی گئی صوبائی نشستوں پر سول سروس اصلاحات کو نا منظور کرنے کا مطالبہ کیا گیا کہ صوبائی پوسٹوں پر تعینات وفاقی افسروں کو واپس وفاق بھجوایا جائے۔

وفاق تعیناتیاں

مزید : صفحہ اول