ترقی یافتہ اور پڑھا لکھا پاکستان یوسف شیرازی کا خواب تھا : افتخار شیرازی 

  ترقی یافتہ اور پڑھا لکھا پاکستان یوسف شیرازی کا خواب تھا : افتخار شیرازی 

  



کراچی (رپورٹ/نعیم الدین)اٹلس گروپ کے وائس چیئرمین افتخار شیرازی نے کہا ہے کہ میرے والد کی ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ ہمارے ملک کا شمار دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں ہو۔ پڑھا لکھا پاکستان ان کا خواب تھا ان کی سوچ ہمیشہ بلند رہی۔ ہم ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بیچ لگژری ہوٹل میں کراچی ایڈیٹر کلب کی جانب سے ان کے والد یوسف شیرازی کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس کے موقع پر شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر ان کے چھوٹے بھائی سی ای او اٹلس بیٹری علی شیرازی، کلب کے صدر مبشر میر سیکرٹری جنرل منظر نقوی ،محمود شام ،آغا مسعود ،زاہد حسین ،سیدابن حسن اور فیض بروہی نے بھی خطاب کیا ۔افتخار شیرازی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرے والد جو کہ انتہائی سیلف میڈ آدمی تھے انہوں نے دن رات محنت کرکے اس بڑے ادارے کی بنیاد ڈالی جس میں آج 12 ہزار افراد کام کرتے ہیں ۔وہ انتہائی با ہمت اور حوصلہ مند انسان تھے صحافت شاعری اور پامسٹری ان کا مشغلہ تھا جبکہ صنعت و تجارت سے وابستہ ہونے کے بعد انہوں نے مختلف شعبوں کے لیے بھی وقت نکالا وہ ہمارے سب کے لئے ایک انسٹی ٹیوشن چھوڑ گئے جو کہ ہمارے سب کے لیے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ ہم بہن بھائیوں کو مل جل کر رہنے کا وہ ہمیشہ تعلیم کو اہمیت دیتے تھے۔ ان کا ویژن ان کی بزنس فلاسفی انتہائی اہمیت کی حامل تھی ۔انہوں نے 1962میں اپنا کاروبار شروع کیا تھا۔ میرے والد کو صحافت سے بہت لگاو¿ تھا اور اکثر اخبارات کے لیے لکھتے تھے بہت سے صحافی حضرات ہمارے گھر آتے رہتے تھے ہمارے ادارے میں کام کرنے والے ملازمین کو تربیت کے لئے جاپان اور امریکہ تک بھیجا جاتا ہے وہ کہتے تھے کہ ہمارے ملازمین ہمارا سرمایہ ہیں ۔ان کے انتقال کی خبر سن کر ہمارے ادارے کے لوگوں کی آنکھیں اشک بار رہیں وہ وہ اسٹاف کے لوگوں سے انتہائی خلوص سے پیش آتے تھے وہ اپنے پیچھے بہت سی یادیں چھوڑ گئے ہیں وہ ہمارے لئے ایک سائبان کی حیثیت رکھتے تھے ان کی کمی کسی طور پوری نہ ہو سکے گی وہ تعلیم کو بہت اہمیت دیتے تھے اور اپنے سٹاف کے لوگوں کو بھی اس کی تلقین کرتے تھے کہ اپنے بچوں کو ضرور پڑھانا لکھانا کیونکہ اسی میں زندگی کا حسن ہے وہ کہتے تھے کہ سوشل لائف بزنس لائف ہیپی لائف کا فلسفہ تھا ۔یوسف شیرازی کے بھائی علی شیرازی نے اس موقع پر اپنے والد کی خوبیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ انتہائی گہری سوچ کے مالک تھے، پاکستان سے بے انتہا محبت کرتے تھے ، وہ کہتے تھے کہ ”پاکستان فرسٹ“ ، اور ان کا ہمیشہ یہ کہنا تھا کہ پاکستان کی معاشی پالیسی اگر بہتر ہوگی تو یہ ملک تب ہی ترقی کرسکتا ہے۔ وہ اکثر امریکہ سے پڑھ کر آنے والے ان لوگوں کو جو معاشی پالیسیاں بناتے تھے، اپنے تحفظات کا اظہار کرتے تھے۔ آٹو موبائل سیکٹر میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا ، ان کا ویژن بہت بڑا تھا، وہ آنے والے ماحول کو دیکھ لےتے تھے، اور ہمیں اکثر نصیحت کرتے تھے کہ دیکھو میں نے ڈھاکہ فال دیکھا ہے، ایک دن میں 70 فیصد میرا سرمایہ ڈوب گیا تھا، انہوں نے کہا کہ میری دعا ہے کہ میرے والد کو اﷲ تعالیٰ جوار رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہم ان کے ویژن کو آگے لے کر چل سکیں۔ جنگ اخبار کے سابق ایڈیٹر محمود شام نے کہا کہ یوسف شیرازی دراصل کئی ادوار کا نام ہے ، وہ ایک بہت اچھے مضمون نگار تھے، انہیں اپنی مضمون نگاری پر فخر تھا ، وہ اس زمانے میں جنگ اور نوائے وقت کے لیے اپنے مضامین لکھتے تھے، جنگ اخبار کے مالک میر خلیل الرحمن بھی ان کا بہت ا حترام کرتے تھے، یوسف شیرازی صاحب کے ساتھ بھی میں نے سفر کیا ہے وہ انتہائی عمدہ شخصیت کے مالک تھے، میری ان سے ملاقاتیں اکثر وبیشتر رہیں، میری خواہش ہے کہ ان کی لگن ان کی اولاد کو مل جائے۔ ایڈیٹر کلب کے صدر مبشر میر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یوسف شیرازی صاحب اپنی ذات میں ایک انسٹیٹیوشن کا درجہ رکھتے تھے، وہ انتہائی بلند سوچ کے مالک تھے، جس کی مثال ان کے کاروبار سے ملتی ، وہ دوراندیش تھے اور حالات کا جائزہ لے کر قدم بڑھاتے تھے، ہمیں امید ہے کہ ان کے جانشین ان کے مشن کو آگے بڑھائیں گے۔ یوسف شیرازی پاکستان کا اثاثہ تھے اور ان کا ہمیشہ یہ خواب رہا کہ ملک ترقی کرے، انہوں نے ایک ایسا ادارہ تشکیل دیا جس سے ہزاروں لوگوں کو روزگار ملا ، اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے سوشل ورک کے حوالے سے بھی اچھی یادیں چھوڑی ہیں، جو کہ اثاثے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ میڈیا کے حوالے سے ان کی اچھی خدمات ہیں ، انگلش اور اردو میں ان کی تحریریں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی جو کہ ان کے تجربات کا نچوڑ تھا، جو چیزیں انہوں نے میڈیا کے توسط سے ہم تک پہنچائیں وہ بھی ایک اثاثہ تھیں، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ یونیورسٹی کی سطح پر ان کے کام پر ریسرچ کےلئے پیپر تیار کروائے جائیں اور ان پر پی ایچ ڈی کرائی جائے تاکہ بزنس کی تعلیم حاصل کرنے والے استفادہ کرسکیں۔ کلب کے سیکریٹری جنرل منظر نقوی نے کہا کہ میری ان سے 1982 میں ملاقات ہوئی تھی ، وہ اپنی سوشل لائف میں بہت مستعد تھے، جبکہ کاروباری معاملات میں بہت زیادہ دلچسپی لیتے تھے، تمام لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا آتا تھا، ان کا خلوص ان کی اولادوں میں بھی نظر آتا ہے، وہ انتہائی مخلص اور باعمل شخصیت کے مالک تھے، انتقال سے جو خلاءپیدا ہوا ہے، اس کی تلافی کسی طرح ممکن نہیں، یہ قومی نقصان ہے۔ میں ان کی فیملی کو بھی یہی کہوں گا کہ وہ شیرازی صاحب کے اصولوں کو اپنائےں جنہوں نے اپنے اصولوں پر چل کر بہت بڑی ایمپائر قائم کی۔ ان کے اداروں میں کام کرنے والے آج خوشحال زندگی گذاررہے ہیں۔ اس موقع پر سابق سفیر زاہد حسین نے کہا کہ میری ان سے پہلی ملاقات 1978 میں ہوئی تھی ، مجھے اکثر نصیحت کرتے تھے جس کا مجھے بہت فائدہ ہوا، میں نے متعدد ممالک میں سفارتکاری کی ہے لیکن ان جیسی شخصیت نہیں ملی۔ اکثر ان کی نصیحتوں پر عمل کرتا رہا، ایک مرتبہ میں نے ان کو بتایا کہ میں پی آئی ڈی سی کا چیئرمین بن گیا ہوں، تو انہوں نے انتہائی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تم میری نصیحتوں پر عمل کرتے ہو، یہ اس کا صلہ ہے۔ یوسف شیرازی صاحب کی یہ خوبی تھی کہ وہ ہر شعبہ سے متعلق مکمل معلومات رکھتے تھے جو کہ ہمیں بہت متاثر کرتی تھی، اور یہ ان کے مضامین کے لکھنے لکھانے میں کام آتی تھیں۔ وہ انتہائی باصلاحیت ا ور ذہین انسان تھے، انہوں نے سرکاری نوکری چھوڑ کر تجارت میں قدم رکھا ، جبکہ ان کا تعلق زراعت کے پیشے سے تھا، آج ان کے بچوں میں بھی ان کی شبیہہ نظر آتی ہے، میری دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔فیض بروہی نے کہا کہ کچھ لوگ دنیا میں کچھ چیزیں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں جو ہمیشہ یاد رکھی جاتی ہیں۔ کراچی ایڈیٹر کلب کا ایک پروگرام انتہائی اہمیت کا حامل ہے، شیرازی صاحب کے پورے خاندان نے نام اور عزت کمائی ہے۔ نیشنل بینک کے ابن حسن نے کہا کہ کراچی ایڈیٹر کلب کی جانب سے آج یہ 72واں اجلاس ہے اور دوسرا تعزیتی ریفرنس ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یوسف شیرازی سے میری پہلی ملاقات 1986 میں ہوئی تھی، وہ انتہائی ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے، جب وہ پہلی مرتبہ پکک تشریف لائے تو اندازہ ہوا کہ وہ عملی آدمی ہیں، ملکی معیشت میںان کا اہم رول تھا، ان جیسی شخصیت اگر آج پاکستان کی ٹیم میں شامل ہوتی تو ہمارا ملک بحران کا شکار نہ ہوتا۔ ان کا ویژن بہت وسیع تھا، انہوں نے اپنا مشن مکمل کیا، امید ہے کہ ان کے صاحبزادے اپنے والد کے مشن کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ میں مطالبہ کروں گا کہ اتنی بڑی شخصیت کے نام سے سڑکیں منسوب کی جائیں اور انہیں صدارتی ایوارڈ سے نوازا جائے کیونکہ وہ صنعتی میدان میں ہیرو کا درجہ رکھتے تھے۔ 

مزید : صفحہ اول


loading...