پٹرولیم مصنوعات، اوگرا کی سفارش مسترد

پٹرولیم مصنوعات، اوگرا کی سفارش مسترد

وزارتِ خزانہ نے وزیراعظم کی اجازت سے اوگرا کی وہ سمری مسترد کر دی،جس میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی کی سفارش کی گئی تھی،وزارتِ خزانہ نے ستمبر والے نرخ اکتوبر میں بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔اوگرا کی طرف سے پٹرول2روپے55پیسے فی لیٹر اور ڈیزل 3روپے18 پیسے فی لیٹر سستا کرنے، جبکہ مٹی کا تیل ایک روپے چند پیسے مہنگا کرنے کی سفارش کی تھی۔یہ سفارش عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کے باعث کی گئیں، تاہم وزارتِ خزانہ نے اس توقع پرکہ عالمی مارکیٹ میں نرخ بڑھ سکتے ہیں۔ یہ اضافہ روک لیا ہے اور جو تھوڑی ریلیف عوام کو دیئے جانے کے لئے کہا گیا وہ خود اپنے خزانے میں شامل کر لی اور آمدنی میں اضافہ کر لیا کہ محکمہ خزانہ نے لیوی(سیلز ٹیکس) اسی شرع سے بڑھائی،جس شرح پر قیمت کم کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ یوں جانے والے وزیر خزانہ اسحق ڈار کی تاریخ دہرا دی گئی ہے۔اس حوالے سے سابق وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر بہت بڑے نقاد تھے اب وہی کام موجودہ حکومت کر رہی ہے۔جہاں تک وزارتِ خزانہ کے اس خدشے کا تعلق ہے کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہو سکتی ہیں وہ درست نہیں کہ تیل کی پیداوار والے خطے میں اب کشیدگی کی بجائے حالات میں بہتری کے آثار ہیں،کہ ولی عہد سعودی عرب محمد بن سلمان نے واضح کیا کہ جنگ سے معاشی ابتری پھیلتی ہے اور سعودی عرب، ایران سے لڑنا نہیں چاہتا، اس سے پہلے امریکی صدر ٹرمپ بھی جنگ کی بجائے ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کر چکے ہیں۔یوں سعودی عرب نے نرخ کم کئے جو مزید گھٹ سکتے ہیں۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...