بدترین انسانی المیہ

بدترین انسانی المیہ
بدترین انسانی المیہ

  

چین کے شہرووہان سے پرورش پانے والاکورونا وائرس دنیا کے کئی مما لک بشمول ایٹمی ہتھیاروں،بندوقوں،اسلحوں اور جدید ٹیکنا لوجی سے آراستہ عالمی طاقتوں پر اپنی دھاک جمائے برا جمان ہے۔اس وائرس سے ایک اندازے کے مطا بق16ہزارافراد ہلاک،3لاکھ82ہزار متاثرجبکے صرف ۱یک لا کھ افراد صحت یاب ہوئے ہیں اور ددنیا کی ایک چوتھائی معیشیت بحران کا شکار ہوچکی ہے۔

تاریخ کا مطا لعہ کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ کئی وبا ئیں پھو ٹیں جن میں سب سے مہلک وبا آج سے ایک سو سال قبل آنے والا ہسپا نوی فلو تھا۔جسے 5کڑور افراد ہلاک ہونے کی وجہ سے ہولوکاسٹ قرار دیا گیا۔اس فلو کی روک تھا م کے لئیے جو طریقے اپنا ئے گئے وہ ٓاج کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیئے ا پنا ئے جا رہے ہیں یعنی لو گوں کی نقل و حرکت اور میل میلاپ کے روک تھام کے لئیے تعلیمی ادارے،صنعتیں،کارخانے،مرکزی شاہراہیں اور ذرائع آمدورفت تمام متاثرہ ممالک میں بند کردئیے گئے ہیں۔تاکہ یہ وائرس ایک فرد سے دوسرے فردمیں منتقل نہ ہوسکے۔زیادہ تر کورونا وائرس کا شکار کمزور قوت مدافعت کے حامل افراد ہیں۔ کیونکہ کمزور قوت مدافعت کی وجہ سے جسم کا د فا عی نظام جراثیم پر قا بو نہیں پا سکتا۔واضح ر ہے کہ غذائی قلت،خون کی کمی،تمبا کو نو شی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال جسم کے دفاعی نظام کو کمزور بنا نے کا سبب بنتا ہے۔جبکے متوازن غذا دودھ،انڈے،پھل و غیرہ مضبوط قوت مدافعت کے ضامن ہیں۔بظاہر ہر ملک اپنے وسائل اور صحت کی سہولتوں کے مطا بق وائرس سے نبرد آزما ہے مگر ترقی پزیر ممالک میں درکار نگہداشت فراہم کرنا بلکل چیونٹی کے سامنے ہاتھی کھڑا ہونے کے مترادف ہے۔اسی لئیے وبا کے پھوٹنے اور اس پر قا بو پانے کے دورانیہ کو بدترین انسانی المیہ کا ترجمان قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔  

ممالک کی سرحدیں بند ہونے سے پیداواری عمل،مختلف اشیاء کی ترسیل غرضیکہ کاروباری زندگی مفلو ج ہو کر رہ گئی ہے۔ستم ظریفی یہ کہ ایک طرف گندم فراہم کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ملک روس نے اور چاول برآمد کر نے والے ملک ویتنام نے بھی برآمدات پر عارضی پابندی عائدکررکھی ہے۔جس سے غذائی قلت پیدا ہونے کاامکان ہے۔جبکہ دوسری جانب وبائی بیماری سے بچاؤکے لئے صحیح اور غلط کی کشمکش صحت مند انسان تک کو ذہنی طور پر مفلوج کرکے ایسی صورتحال سے دوچار کرتی ہے کہ انسان موت کی آغوش تک کو اپنا مسکن سمجھ بیٹھتا ہے۔اس کی حالیہ مثال ایران  سے لی جا سکتی ہے جہاں کوروناوائرس کے خوف سے زہریلا کیمیکل پینے سے300افراد ہلاک ہوئے۔

خوف سے چھٹکارا پانے کے لئے نام نہاد حکیموں کے بجائے ماہرین کے مشوروں پر عمل کیا جائے۔سچی اور جھوٹی خبروں پرکان دھرنے کے بجائے صداقت کے لئے تحقیق کی راہ اپنائی جائے۔جیساکہ کرونا وائرس کے باعث بیت  اللہ کا طواف رکنے سے قیامت قریب ہونے کی خبر سنا کر افراتفری پھیلائی جا رہی ہے۔اس حوالے سے اگرتاریخ سے مدد لی جائے تو ماضی میں 40بار ایسے حالات درپیش آئے جن کے مبب بیت  اللہ کا طواف روک دیا گیا۔

سن251ہجری میں یوم عرفہ کے دن ایسی لڑائی چھڑی کہ اس سال حج ادا نہ ہوسکا۔

1979میں چند مسلح افراد نے کعبہ پر قبضہ کرلیاتو دو ہفتوں تک طواف رکا رہا۔

2017میں بھی بے پناہ ہجوم کے باعث کچھ دیر کے لئے طواف روکنا پڑا۔

تحقیق کے علاوہ انٹرنیٹ کے ذریعے گھر بیٹھے دنیا کے کسی بھی کونے سے مصوری،کتب بینی اورگھریلو امور وغیرہ سے متعلق اپنی تخلیقی صلا حیتوں کو اجاگر کریں اور اپنے گردونواح  میں موجود ایسے افراد کی تشہیر کریں جنہوں نے اپنے پیاروں کا ساتھ ددیا۔

ممالک کو بھی جنگی سازوسامان پر کثیر رقم خرچ کر نے کے بجائے عوام کے فلاح و بہبود پرصرف کرنی چایئے تا کہ مستقبل قریب کے ناگہانی آفات سے بچا جا سکے۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -