ریٹائرڈ بھارتی فوجیوں کو کشمیر میں بسانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے ٗ حریت کانفرنس

ریٹائرڈ بھارتی فوجیوں کو کشمیر میں بسانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ...

سری نگر ( اے این این ) حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں نے مقبوضہ کشمیر میں سابق بھارتی فوجیوں اور ان کے بچوں کو مستقل طور بسانے کے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں کشمیر بین الاقوامی سطح کا ایک تسلیم شدہ متنازعہ خطہ ہے لہٰذا سابق فوجیوں کو کشمیر میں بسانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور اس کا کوئی آئینی یا اخلاقی جواز نہیں ہے۔ حریت (گ) کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جموں کشمیر اترپردیش، مدھیہ پردیش یا بہار طرز کی کوئی ریاست نہیں ہے بلکہ اس کا اسٹیٹس بالکل الگ اور مختلف ہے۔ بیان کے مطابق سابق فوجیوں کو کشمیر میں زمین فراہم کرنا خود ریاستی آئین کی بھی خلاف ورزی ہے اور ریاستی آئین میں بھارت کی حکومت کوئی ترمیم کرنے کی مجاز نہیں ہے۔ حریت ترجمان کے مطابق آزادی پسند جماعتوں کے فورم نے اس سنگین اور اہم ایشو پر 22جولائی کو مجلس شوری کا ایک اہم اجلاس طلب کیا تھا، جس میں حکومت کو خبردار کیا گیا کہ اس منصوبے کو عملانے کی کسی بھی صورت میں اجازت نہیں دی جائے گی اور سابق فوجیوں کو اگریہاں زمین فراہم کی گئی تو اس کے خلاف ایک عوامی تحریک شروع کی جائے گی۔ حریت نے اس اہم اور سنجیدہ ایشو پر مفتی حکومت کے روئیے کو مبہم اور مشکوک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر نے راجیہ سبھا میں کہا ہے کہ انہوں نے سابق فوجیوں کو زمین فراہم کرنے کے حوالے سے 16جولائی کو ریاستی حکومت کو ہدایت جاری کردی ہے البتہ مفتی سرکار نے ابھی تک اس آرڈر کے بارے میں کوئی لب کشائی نہیں کی ہے اور نہ اس کی طرف سے تردید یا تائید کی گئی ہے۔ ترجمان نے وزیراعلی مفتی محمد سعید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس اہم ایشو پر ریاستی حکومت کا موقف عوام کے سامنے لانا چاہئے کہ وہ بھارتی وزیر دفاع کے غیر آئینی حکمنامے کو قبول کرتی ہے یا ریاستی آئین کی پاسداری کرتی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ سابق فوجیوں کو یہاں مستقل طور بسانے کا منصوبہ جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن اور متنازعہ حیثیت کو براہِ راست چوٹ پہنچانے کی ایک کوشش ہے اور ریاستی عوام اس طرح کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ بیان کے مطابق حریت نے اس اہم ایشو پر جملہ آزادی پسند قیادت کے ساتھ ساتھ ماہرین قانون اور سماج کے ہر طبقے کے ساتھ مشاورت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اور رائے عامہ کو اس کے خلاف منظم کرنے کے لیے ہر ممکن طریقے سے مہم چلائے جانے پر اتفاق کیا ہے۔ حریت نے عالمی اداروں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ بھارت کو اس طرح کی خطرناک مہم جوئی سے باز رکھنے میں اپنا رول ادا کرے اور کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کا مقابلہ کرنے میں کشمیری عوام کا ساتھ دیں۔ادھر حریت کانفرنس (ع) کے ترجمان نے جموں کشمیر کی مخصوص شناخت کو زک پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو نا قابل قبول قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جموں کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ایک متنازعہ خطہ ہے۔ حریت بیان کے مطابق اس خطے کی علاقائی حیثیت، آئینی یا قانونی ہیت اور آبادی کے تناسب کو بگاڑنے کی کوئی بھی کوشش مسلمہ بین الاقوامی قوانین کی صریحاخلاف ورزی ہے۔ ترجمان نے کہا ہے کہ حکومت ہندوستان کی ایسی کسی بھی کوشش کا کشمیری عوام بھرپور مقابلہ کریں گے۔ ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ایجنڈا پر متنازعہ علاقہ ہوتے ریاست میں کسی بھی نوعیت کی تبدیلی چاہے وہ زمینی ، آئینی یا قانونی ہو،کا حکومت ہندوستان کو کوئی استحقاق حاصل نہیں ہے۔ترجمان نے کہا کہ بھارت کے سابق فوجیوں کو جموں کشمیر میں بسانے کے عمل کی مزاحمت کی جائے گی کیونکہ اس منصوبے کا مقصد صرف یہاں کے مخصوص آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے۔ادھر تحریک حریت نے غیر ریاستی باشندوں کی ایک بڑی تعداد کوتجارتی اور کاروباری سرگرمیوں کی آڑ میں وارد کشمیرہونے اور معاشرتی ماحول پر اثر انداز ہونے کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا سرمایہ کاری اور تجارتی سرگرمیاں اپنی جگہ، مگر ہمارے دفتر کو لگاتار عوامی وفود کے حوالے سے شکایات آرہی ہیں کہ غیر ریاستی باشندوں کے یہاں آنے کا سلسلہ اب عام ہوچکا ہے اور ان غیر ریاستی باشندوں کا یہاں آنا اب کاروبار ہی تک محدود نہیں بلکہ مقامی لوگ ان کو اب کرایہ پر رہائش فراہم کرتے ہیں، جس سے یہاں بہت سارے معاشرتی مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔ تحریک حریت نے اپنی تشویش کا اظہار کرکے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف مادی نکتہ نگاہ سے نہ سوچیں بلکہ اپنے معاشرتی اور اخلاقی اقدار کی حفاظت فرض سمجھیں اور کسی کو کرایہ پر گھر فراہم کرنے سے پہلے اپنے معاشرے کو فتنہ ، فساد اور بگاڑ میں مبتلا ہونے سے بچائیں اور مالی حالت میں سدھار کے بجائے اپنے گھروں اور محلوں کے اخلاقی ماحول کو سدھارنے کی فکر کریں۔ تحریک حریت نے والدین سے بھی گزارش کی کہ وہ اپنے گھروں کی طرف خصوصی توجہ دے کر اپنی ماوں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزت اور عصمت کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور اپنے گھروں کی نگرانی سے لاتعلق رہ کر تباہی اور رسوائی کے دن دیکھنے کا انتظار نہ کریں۔

مزید : عالمی منظر