18 سالہ نوجوان لڑکی کو موبائل فون پر ایسا میسج موصول کہ گھر والوں کے سامنے ہی اپنی زندگی ختم کر ڈالی، ایسا کیا لکھا تھا؟ جان کر آپ کا بھی دل پگھل جائے گا

18 سالہ نوجوان لڑکی کو موبائل فون پر ایسا میسج موصول کہ گھر والوں کے سامنے ہی ...
18 سالہ نوجوان لڑکی کو موبائل فون پر ایسا میسج موصول کہ گھر والوں کے سامنے ہی اپنی زندگی ختم کر ڈالی، ایسا کیا لکھا تھا؟ جان کر آپ کا بھی دل پگھل جائے گا

  


نیویارک (نیوز ڈیسک) موبائل فون، انٹرنیٹ اور خصوصاً سوشل میڈیا آج کل کے بچوں اور نوجوانوں کی زندگی کا لازمی جزو بن گئے ہیں، لیکن بدقسمتی سے اس رجحان کے کچھ ایسے منفی نتائج بھی دیکھنے میں سامنے آرہے ہیں کہ جنہیں المناک کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ایک ایسے ہی المیے کا سامنا امریکی شہر ہیوسٹن میں آباد ایک خاندان کو کرنا پڑا، جن کی نوعمر بچی نے قابل اعتراض میسجز سے تنگ آ کر گھر والوں کی آنکھوں کے سامنے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

پٹرول ڈلوانے کے بعد شہری اپنا موبائل اور بٹوہ گاڑی کی چھت پر ہی بھول گیا، موٹرسائیکل سوار نے واپس کرنے کیلئے روکا تو گالیاں نکالنے لگا، اس کے بعد مدد کرنے والے شخص نے کیا کیا؟ جان کر آپ کی ہنسی نہ رُکے گی

خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق 18 سالہ برینڈی ویلا کو کئی ماہ سے بدقماش سوشل میڈیا صارفین تنگ کررہے تھے۔ فیس بک پر ان کے نام سے جعلی اکاﺅنٹ بنا کر ان کی تصاویر لگائی گئی تھیں اور ان کا ایڈریس اور فون نمبر بھی دیا گیا تھا۔ جعلی اکاﺅنٹ بنانے والوں نے ان کے متعلق مشہور کررکھا تھا کہ وہ جسم فروشی کی خدمات فراہم کرتی ہیں۔ ان جعلی اکاﺅنٹس کی وجہ سے برینڈی کو بکثرت قابل اعتراض میسج موصول ہوتے رہتے تھے۔ انہیں تنگ کرنے والے بعض افراد ان کی شکل و صورت کا مذاق بھی اڑاتے تھے۔

برینڈی کی بڑی بہن جیکولن کا کہنا ہے کہ منگل کے روز انہیں گھر کے بالائی حصے سے رونے کی آواز آئی تو وہ دوڑ کر برینڈی کے کمرے میں گئیں۔ ان کی چھوٹی بہن دیوار سے ٹیک لگائے فرش پربیٹھی رورہی تھی اور اس کے ہاتھ میں پستول تھا۔ جیکولن کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بہن سے درخواست کرتی رہیں کہ وہ خود کو نقصان نہ پہنچائے اور جب وہ مدد کے لئے اپنے والد کو بلانے گئیں تو انہیں فائر کی آواز سنائی دی۔ گولی چلنے کی آواز سن کر سب لوگ برینڈی کے کمرے کی جانب بھاگے، مگر وہاں ایک ہولناک منظر ان کا منتظر تھا۔ برینڈی نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا تھا اور اس کی خون میں لت پت لاش ان کے سامنے پڑی تھی۔

’اوئے کچھ کر گزر‘ پاکستان کی پہلی آن لائن فلم

برینڈی کے والد راﺅل ویلا نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے اپنی بیٹی کے ساتھ کئی ماہ سے جاری بدسلوکی کے بارے میں پولیس کو اطلاع دی جبکہ اس کے سکول کی انتظامیہ کو بھی خبردار کیا۔ بدقسمتی سے کوئی بھی اسے ہراساں کرنے والوں کا سراغ لگانے اور اس ظلم کا راستہ روکنے میں کامیاب نہ ہوا، جس کا نتیجہ بیچاری لڑکی کی المناک موت کی صورت میں نکلا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...