ڈاکٹروں نے مردہ دل میں پھر سے زندگی بھردی، میڈیکل سائنس کی بڑی کامیابی

ڈاکٹروں نے مردہ دل میں پھر سے زندگی بھردی، میڈیکل سائنس کی بڑی کامیابی
ڈاکٹروں نے مردہ دل میں پھر سے زندگی بھردی، میڈیکل سائنس کی بڑی کامیابی

  



نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) جدید میڈیکل سائنس پہلے ہی بہت کمالات دکھا چکی ہے اور اب ڈاکٹروں نے ایک اور ایسا اعجاز کر دکھایا ہے کہ سن کر عقل دنگ رہ جائے۔ میل آن لائن کے مطابق امریکی ریاست نارتھ کیرولینا کے شہر درہیم میں واقع ڈوک یونیورسٹی کے ڈاکٹروں نے ایک مردہ دل کو دوبارہ زندہ کرنے کا مظاہرہ کر ڈالاہے اور اس کامیاب تجربے سے دل کے ٹرانسپلانٹ کے شعبے میں ایسا انقلاب برپا ہو گا کہ اس سے قبل کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ڈوک یونیورسٹی کے ڈاکٹروں نے ایک مریض کے مردہ دل کو آکسیجن ، خون اور الیکٹرولائٹس سے بھر دیاجس سے مردہ دل نے دوبارہ کام کرنا شروع کر دیا۔ یہ دل ایک متوفی شخص کے جسم سے نکالا گیا تھا جس نے مرنے سے پہلے اپنے اعضاءعطیہ کرنے کی وصیت کر رکھی تھی۔ روایتی طور پر کوئی شخص دل عطیہ کرے تو اس کی موت کے فوری بعد اس کے دل کا رابطہ اس کے دماغ سے منقطع کر دیا جاتا ہے تاکہ دل کو مردہ ہونے سے بچایا جا سکے۔ تاہم اس تجربے میں پہلی بار ڈاکٹروں نے ایک مردہ دل کو زندہ کرنے کاکامیاب مظاہرہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق یہ کامیاب تجربہ کرنے والی ٹیم مکے رکن ڈاکٹر جیکب شروڈر کا کہنا تھا کہ ”دنیا میں ہر سال لاکھوں لوگ دل ٹرانسپلانٹ کرانے کے انتظار میں موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔ صرف امریکہ میں روزانہ 20لوگ نیا دل نہ ملنے کی وجہ سے مر رہے ہیں۔ ہارٹ ٹرانسپلانٹ اس وقت دنیا میں معمول کی بات ہو چکی ہے تاہم قابل استعمال دل میسر نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کا ٹرانسپلانٹ نہیں ہو پاتا۔ اس تجربے کی کامیابی کے بعد اب مردہ دلوں کو بھی ازسرنوزندہ کرکے مریضوں میں لگایا جا سکے گا جس سے دنیا میں ہارٹ ٹرانسپلانٹ کے منتظر لوگوں کی تعداد میں کمی آئے گی۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس