نوجوان کو بحری جہاز سے گرنے کے 15 گھنٹے بعد زندہ بچا لیا گیا

نوجوان کو بحری جہاز سے گرنے کے 15 گھنٹے بعد زندہ بچا لیا گیا
نوجوان کو بحری جہاز سے گرنے کے 15 گھنٹے بعد زندہ بچا لیا گیا
سورس: Screengrab

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) بحری جہاز سے سمندر میں گر کر کوئی شخص کتنی دیر تک زندہ رہ سکتا ہے؟ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے کا محاورہ اس امریکی نوجوان پر صادق آتا ہے جو بحری جہاز سے گرنے کے 15گھنٹے بعد معجزانہ طور پر زندہ بچا لیا گیا۔ میل آن لائن کے مطابق 28سالہ جیمز مائیکل گرائمز نامی یہ نوجوان کارنیول کروز شپ پر سوار تھا ، جس سے وہ شراب کے نشے میں ہونے کی وجہ سے سمندر میں گر گیا۔ 

اس وقت بحری جہاز خلیج میکسیکو میں امریکی ریاست لوئزیانا کے ساحل کے قریب تھا۔ گرنے کے بعد اگلے 15گھنٹے تک جیمز مائیکل پانی میں ہاتھ پاﺅں مارتا رہا۔ اسے وہاں سے گزرنے والے ایک آئل ٹینکر کے عملے نے دیکھ کر کوسٹ گارڈز کو اطلاع دی جنہوں نے رات کی تاریکی میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسے ریسکیو کیا۔

کوسٹ گارڈز کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ جیمز مائیکل پانی میں چند سیکنڈ کے لیے ڈوبتا مگر پھر ہاتھ پاﺅں مار کر اوپر آ جاتا۔ وہ مسلسل کوشش کرتا رہا کہ اپنا سر لہروں سے باہر رکھ سکے۔ طویل عرصے تک ٹھنڈے پانی میں رہنے کے باعث وہ ہائپوتھرمیا کا شکار ہو چکا تھا۔ اس کے علاوہ اسے شدید ڈی ہائیڈریشن بھی ہو چکی تھی۔ اسے فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا جہاں اس کی حالت بہتر بتائی جاتی ہے۔ 

ہسپتال میں حالت سنبھلنے کے بعد ٹی وی شو ’گڈ مارننگ امریکہ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے جیمز مائیکل نے بتایا کہ ”مجھے کچھ یاد نہیں کہ میں کیسے بحری جہاز سے سمندر میں گرا۔ تاہم میں نے اس وقت زیادہ شراب نہیں پی رکھی تھی۔ جہاز سے گرنے کے بعد بھی مجھے کچھ ہوش نہیں کہ میں کیسے اتنے گھنٹے تک انتہائی ٹھنڈے پانی میں زندہ رہا اور وہ بھی سمندر میں ایسی جگہ جہاں شارک مچھلیوں کی بہتات ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ میرا زندہ بچ جانا ایک معجزہ ہے۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -