کرونا وائرس، چین میں پھنسے پاکستانی؟

کرونا وائرس، چین میں پھنسے پاکستانی؟

  



وزیراعظم کے مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے چین سے پاکستانی طلباء کو واپس نہ لانے کے اقدام کا تحفظ کیا اور دعویٰ کیا کہ حکومتی کوششوں سے ملک کو وائرس سے بچا لیا گیا ہے،ان کا یہ کہنا ہے کہ چین میں یہ وائرس شروع ہوا اور چین ہی کے پاس علاج کے بھی وسائل ہیں،اِس لئے جب تک چین میں موجود پاکستانیوں کو کلیئرنس سے گذار کر محفوظ قرار نہیں دیا جاتا ان کا وہاں رہنا ہی بہتر ہے۔مشیر صحت کا یہ جواب اور عوامی مطالبہ ان طلباء تک محدود ہو کر رہ گیا ہے،جو ووہان کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم اور ان کی تعداد پانچ سو بتائی جاتی ہے۔یہ طلباء ہوسٹلوں میں مقیم ہیں اور کرونا وائرس کی ابتدا بھی اسی یونیورسٹیوں والے شہر سے ہوئی۔ہم مشیر صحت کی وضاحت کو مانتے ہیں۔اگرچہ انہوں نے مکمل بات نہیں کی،کیونکہ معاملہ صرف ان طلباء تک محدود نہیں،چین کے دوسرے صوبوں کے دوسرے شہروں میں موجود پاکستانی تاجروں، سیاحوں اور کارکنوں کی بھاری تعداد بھی موجود ہے۔بتایا جاتا ہے کہ یہ2500 سے بھی زائد ہیں اور پروازیں بند ہونے کی وجہ سے پھنس کر رہ گئے ہیں۔ہم مان لیتے ہیں کہ پاکستان کے پاس حفاظتی لباس اور آلات کے علاوہ علاج بھی نہیں،لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ جو متاثرہ نہیں ان کو لاوارث چھوڑ دیا جائے، ایسے افراد تو سکریننگ کے بعد واپس لائے جا سکتے ہیں جیسا متعدد دوسرے ممالک نے کیا۔برطانیہ نے تو چین سے اپنے شہریوں کی آمد کو خوش آمدید کہا اور ان کے لئے قرنطینہ کی سہولت مہیا کر کے14روزہ حفاظتی پابندی کا اطلاق کیا ہے۔ہمیں بھی تمام تر انتظامات کر کے اپنے شہری واپس لانا چاہئیں،جہاں تک وائرس پھیلنے کو روکنے کا سوال ہے تو اللہ کا شکر ادا کریں کہ ابھی تک یہاں کوئی متاثرہ مریض ثابت نہیں ہوا،ورنہ یہ تو تیزی سے پھیلنے والا وائرس ہے۔

مزید : رائے /اداریہ