سرکاری تعلیمی اداروں کی ساکھ کو خطرہ۔۔ !

سرکاری تعلیمی اداروں کی ساکھ کو خطرہ۔۔ !

ملک میں نظام تعلیم بری طرح متاثر ہوتاچلا جا رہا ہے، جس کی بظاہر تو بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں یکساں تعلیمی نصاب کی عدم موجودگی، موجودہ نصاب کی اپ گریڈیشن کا مسئلہ، انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی غفلت ،طلبہ و اساتذہ کی یونین سازی، جس کی سرگرمیوں سے بھی طلبہ و طالبات قدرے نالاں دکھائی دیتے ہیں اور پھر مجموعی طور پر ہمارے تعلیمی اداروں کی لا پرواہی و ناقص کارکردگی اس کی زبوں حالی کا باعث ہیں، جس نے تعلیم کے حصول کو مشکل تر بنا دیا ہے۔ مشکل اس لئے کہ سرکاری تعلیمی ادارے غریب لوگوں کے لئے ماﺅں کی مانند ہوتے ہیں جو ہر مشکل سے مشکل حالات میں انہیں ممکنہ معیاری اور سستی تعلیم کی فراہمی کے لئے میسر ہوتے ہیں، جہاں غریب کا بچہ اپنا پیٹ چھپا کر دوسروں کے شانہ بشانہ اس تعلیمی دوڑ میں حصہ لیتا ہے، مگر سرکاری تعلیمی اداروں کی بدانتظامی اور نجی اداروں کی شاطرانہ چال بازی کے باعث یہ نظام بد حالی کا شکار ہوتا جارہا ہے، جس کے باعث طلبہ و طالبات کو شدید مشکلات جھیلنا پڑتی ہیں۔

 ویسے تو نجی تعلیمی اداروں میں حصول تعلیم غریب کی پہنچ سے کوسوں دور ہے اور کسی خواب سے کم نہیں، جس کے لئے یہ بیچارے سرکاری اداروں کا رخ کرتے ہیں،مگر جہاں مذکورہ بالامشکلات کے باعث طلبہ و طالبات کو تعلیم کے حصول کے لئے نجی اداروں یا نجی اکیڈمیز کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ جو ان کے لئے وقت کا ضیاع اورمجوزہ سسٹم کے لئے باعث تشویش ہے ۔ میں یہاں نصابی مسائل کے تذکرہ سے گریز کر رہا ہوں ۔

میرا یہاں مقصدعوام کو سرکاری تعلیمی اداروں سے بدظن کرنا نہیں کہ اس کالم کو پڑھنے کے بعد آپ سرکاری تعلیمی اداروں کا رخ کرنا چھوڑ دیں، بلکہ ان مسائل کی طرف حکومت کی توجہ دلانا ہے، جن پر اگر حکومتی نظر التفات پڑ جائے تو ان مسائل کا حل ناممکن نہیں ۔پہلا بڑا مسئلہ ہمارے گورنمنٹ کالجوں میں انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی غفلت ہے،جس کے باعث ہمارے طلبہ، جن کو ہم ملک و قوم کا مستقبل گردانتے ہیں، پریشانی کا شکار ہیں۔ایک طالب علم یاد آ گیا جو ایک سرکاری کالج میں بی ایس کی سٹڈیز پڑھ رہاہے، نے داخلہ فارم کالج ہذا میںجمع کرایا، جسے کالج انتظامیہ نے غفلت کے باعث گم کر دیا اور قصور وار بھی طالب علم کو ہی ٹھہرایا ©،شاید وہ طالب علم واقعہ میں قصوروار ہو کہ اس نے کل کو ملک کے انتظامات کی باگ ڈور سنھبالنا ہے، جس کے لئے جدوجہد شرط ہے، داخلہ فارم نہیں ۔کالجوںکی انتظامیہ کی یہ حا لت ہے کہ طلبہ کو کالج امور کے لئے بر وقت مطلع نہیں کی جا تا، جس کے باعث انہیںمشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مَیں نے تو طلبہ کو ان مشکلات سے بچنے کے لئے رضا کارانہ طور پر امور کالج میں بھی سر گرم پایا ہے کہ یہ مسئلے کلرک حضرات کے کرنے کے ہوتے ہیں۔ان حالات میں بیچارے طلبہ کہاں جائیں ؟

ہمارے کالجوں میں دوسرا بڑا مسئلہ انتہائی معذرت کے ساتھ ہمارے اساتذہ حضرات کا غیر سنجیدہ رویہ اور لاپرواہی ہے، کیونکہ میں بھی اقبال ہی کا مقلد ہوں اور ان کے نظریہ کاحامی بھی ہوں :

شیخ مکتب ہے اک عمارت گر

جس کی صنعت ہے روح انسانی

مگر پہلے ےہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس میں کوئی شک نہیںکہ اساتذہ کرام ہمارے ملک و قوم کا سرمایہ ہیں جو اپنی محنت شاقہ سے اس قوم میں فروغ تعلیم کے لئے مصروف عمل ہیں۔جو اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر اس قوم کی تربیت میں مسلسل کوشاں ہیں اور ان کی دیانتداری پر کسی کوذرہ برابر بھی شک نہیں۔ اور شک ہو بھی کیسے کہ استاد کے بغیر تو ہمارا روحانی وجود ممکن نہیں۔ میرا لکھنا ، آپ کا پڑھنا ممکن نہیں۔ جو نہایت ہی فرض شناسی سے اپنے فرائض منصبی درست معنوں میں نبھا رہے ہیں۔اور ان کی جتنی حوصلہ افزائی کی جائے کم ہے ۔

کرپشن شاید ہماری رگوں میں رچ بس چکی ہے ، چند لوگوں پر مشتمل ایک طبقہ جو اس مقدس پیشے کو پامال کر رہا ہے ، نہ صر ف پامال کر رہا ہے، بلکہ اس مہذب پیشے کی توہین کر رہا ہے۔ یہ ان اساتذہ پر مشتمل ہے جو چند روپوں ، لالچ و حرص کے پیش نظر اپنے فرائض منصبی کو پس پشت ڈالتے ہیں۔ اساتذہ کی یہ غیر معمولی لاپرواہی ایک طرف تو طلبہ وطالبات کے لئے مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔ ایسا طبقہ عدم توجہ کے باعث طالب علموں میں حقیقی جوہر تلاش کرنے سے قاصر ہوتے ہیںکہ استاد ہی وہ ایک منفرد آنکھ رکھتا ہے اور اس خداداد اوصاف کا مالک ہوتا ہے جو طالب علموں میں جوہر تلاش کر کے اس کی درست معنوں میں تربیت کر سکے اور ایک مہذب قوم کی تشکیل کے لئے معاشرے میں اپنا کردار ادا کر سکے۔ اساتذہ کی طرف سے یہ لاپرواہی ایک غیر محسوس طریقہ سے تعلیمی نظام میں ایک ایسا چھید کر رہی ہے جو ہمارے تعلیمی اداروں کی ساکھ کے لئے خطرے کا باعث بھی ہو سکتاہے۔

اساتذہ کی کلاسوں میں غیر حاضری باعث تشویش ہے، جس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ کالج کی انتظامی سرگرمیوں میں یہ پیش پیش بھی ہوتے ہیں ، جس کے باعث یہ کوتاہی سرزد ہوتی ہے۔ مَیں ان کی یونین پر بحث نہیں کروں گا کہ شاید کسی حد تک وہ بھی تعلیم میں خلل کا باعث ہو ۔مَیں نے تو چند ایسے اساتذہ کو بھی دیکھا ہے جو کالج کے اوقات میں نجی اداروں میںکلاسز پڑھاتے ہیں یا انہوں نے اپنے نجی ادارے کھول رکھے ہیں جو انہیں کالجوں میں وقت دینے کے درمیان بڑی رکاوٹ ہیں۔

میرا اساتذہ سے کوئی ذاتی عناد نہیں کہ مَیں ان سے بہت استفادہ کرتا ہوں، مگر طلبہ اور تعلیمی اداروں کی حالت زار پر دل خون کے آنسو روتا ہے ، کیونکہ ایسے نظام سے نہ صرف تعلیم کو نقصان پہنچ رہا ہے، بلکہ دوسرے جانب طلبہ و طالبات بھی بد ظن ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گورنمنٹ کالجوں میں روزبروز حاضری کی شرح بھی کم ہوتی جا رہی ہے اور نجی اداروں کے طلبہ و طالبات ہر میدا ن میں نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔ مجھے خدشہ ہے کہ اگر اس سسٹم کی اصلاح نہ کی گئی توجلد ہی ایک” ٹیچرز کارپوریٹ“ کا قیام دور نہیں، پھر ادارے نجی طور پر اساتذہ کو ہا ئر کرکے سرکاری تعلیمی اداروں کو چلانے پر مجبور ہو جائےں گے، جس سے سرکاری تعلیمی ادارے اپنا وجود کھو دیں گے، جو نظام تعلیم کی ساکھ پر ایک سوالیہ نشان ہوگا۔

مزید : کالم


loading...