آصف علی زرداری اور ’’گندے انڈے‘‘!

آصف علی زرداری اور ’’گندے انڈے‘‘!
 آصف علی زرداری اور ’’گندے انڈے‘‘!

  

ایک سیاسی جماعت سے دوسری سیاسی جماعت میں جانے والوں کو لوٹے کہا جاتا تھا،مگر اب آصف علی زرداری نے اُن کے لئے گندے انڈے کی اصطلاح متعارف کرا دی ہے۔ شیدے ریڑھی والے نے آج مجھ سے یہ سوال پوچھا کہ پیپلزپارٹی کو چھوڑنے والے گندے انڈے کیسے ہو گئے؟ کیا وہ اُس وقت تک اچھے انڈے تھے، جب تک پیپلزپارٹی میں رہے۔ اب مَیں اُسے کیا جواب دیتا، کیونکہ وہ تو پولٹری فارم کے انڈوں کی معلومات رکھتا ہے؟ جو خراب ہوں تو ہر جگہ خراب ہوتے ہیں۔ آصف علی زرداری کے پروں تلے جب تک کوئی رہے تو وہ اچھا انڈہ بھی ہوتا ہے اور اچھا چوزہ بھی،لیکن جونہی وہ پروں سے نکل کر عمران خان کی چھتری تلے آتا ہے گندہ انڈہ بن جاتا ہے۔ آصف علی زرداری نے تو یہ تک کہہ دیا ہے کہ عمران خان اِن گندے انڈوں کو انتخابات میں ٹکٹ نہیں دیں گے،بلکہ اُٹھا کر باہر پھینکیں گے۔ انہوں نے یہ پیشگوئی کس بنیاد پر کی ہے،اِس کا تو علم نہیں، تاہم اس سے اُن کی اُس تکلیف کا اندازہ ضرور ہوتا ہے جو اُنہیں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی جوق در جوق پی ٹی آئی میں شمولیت سے ہو رہی ہے۔ کون بیوقوف ایساہے جو گندے انڈوں کو اپنے فریج میں رکھتا ہے، جونہی کسی انڈے کے گندہ ہونے کا پتہ چلتا ہے، اُسے نکال باہر پھینکا جاتا ہے۔اگر پیپلزپارٹی کے منحرفین واقعی گندے انڈے تھے تو آصف علی زرداری نے انہیں پہلے ہی نکال باہر کیوں نہیں کیا؟اِس بات کا انتظار کیوں کرتے رہے کہ وہ پارٹی چھوڑ کر جائیں اور وہ انہیں گندے انڈے کا خطاب دے سکیں۔

آصف علی زرداری جیسے منجھے ہوئے لیڈر کی زبان سے اس قسم کے الفاظ مناسب نہیں لگ رہے۔یہ کوئی پہلی بار نہیں ہو رہا کہ سیاسی لیڈر ایک پارٹی سے دوسری میں جا رہے ہیں،خود پیپلزپارٹی میں بہت سے سیاسی لوگ دوسری جماعتیں چھوڑ کر حال ہی میں شامل ہوئے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری گزشتہ دِنوں جب ملتان آئے تھے تو یوسف رضا گیلانی نے تحریک انصاف کے چار رہنما اُن کی خدمت میں چڑھاوے کے طور پر پیش کئے گئے۔کیا دوسری جماعتوں والے اپنے اِن انڈوں کو گندے نہیں کہہ سکتے؟ یہ درست ہے کہ پیپلزپارٹی سے جانے والوں کی تعداد کچھ زیادہ ہی ہے، خاص طور پر پنجاب سے بہت تیزی کے ساتھ سابق وزراء، ارکانِ اسمبلی اور دیگر رہنما پیپلزپارٹی کو خیر باد کہہ کر پی ٹی آئی میں جا رہے ہیں۔ ایک ایسے موقع پر جب آصف علی زرداری یہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتے کہ اس بار وہ پنجاب میں بھی حکومت بنائیں گے، ایسا منظر وہ کیسے برداشت کر سکتے ہیں؟ جس پارٹی کے معروف رہنما خانہ بدوشوں کی طرح پیپلزپارٹی چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ موجودہ سیاسی صورتِ حال میں جب عام آدمی کو بھی پتہ ہے کہ آئندہ انتخابات میں اصل مقابلہ مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف میں ہو گا،کیا پیپلزپارٹی کے تجربہ کار سیاسی لوگ اِس بات سے آگاہ نہیں۔ایک طرف بالکل ناکامی ہے اور دوسری طرف امید کی کرن موجود ہے، اِس لئے اقتدار کو منزل سمجھنے والے پرندوں کو پرواز کے حق سے کون روک سکتا ہے۔ اگر آصف علی زرداری نے ذہنی طور پر خود کو سندھ تک محدود کر لیا ہے تو پنجاب کے جیالے کس امید پر چُپ چاپ بیٹھے رہیں، انہیں ہاتھ پاؤں تو مارنے ہی ہوں گے تاکہ اُن کی سیاست قصۂ پارینہ نہ بن جائے۔

جہاں تک آصف علی زرداری کے اس قدر سخت بیان کا تعلق ہے تو یہ انہوں نے سوچ سمجھ کر دیا ہے۔ یہ کوئی اُن کا اضطراری اور اتفاقی بیان نہیں۔ اس بیان کے ذریعے انہوں نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش کی ہے۔ایک طرف انہوں نے عمران خان کو ہلہ شیری دی ہے کہ وہ اِن ’’گندے انڈوں‘‘ کو ٹکٹ نہ دیں، کیونکہ یہ اُن کی ناکامی کا باعث بنیں گے اور دوسری طرف انہوں نے پارٹی کے اُن لوگوں کو بالواسطہ پیغام دیا ہے جو جماعت چھوڑنے کے لئے پَر تول رہے ہیں،اگر وہ تحریک انصاف میں گئے تو اُن کی حالت ’’خدا ہی ملا نہ وصال صنم‘‘ جیسی صورتِ حال کے شکار فرد جیسی ہو جائے گی۔کیا اُن کی یہ حکمتِ عملی کامیاب ہو گی، کیا وہ واقعی جانے والوں کو گندہ انڈہ کہہ کر اور عمران خان کو انہیں ٹکٹ نہ دینے کا مشورہ دے کر پیپلزپارٹی کو بکھرنے سے بچا لیں گے؟ میرا نہیں خیال کہ ایسا ہو سکے۔گزشتہ چار برسوں نے پیپلزپارٹی کو پنجاب میں دیوار سے لگا دیا ہے۔ اپوزیشن میں اگر کوئی جماعت ہو تو اُسے بڑھ چڑھ کر اپوزیشن کا کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔ یہاں ایک عام آدمی کو بھی پتہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے گزشتہ چار برسوں میں ہر لحاظ سے حکومت کو سپورٹ کیا۔ صرف بیان بازی کی حد تک کی جانے والی اپوزیشن بری طرح بے نقاب ہو گئی۔ عوام کو ریلیف دِلانے کا معاملہ ہو یا کرپشن اور قومی سلامتی کے دیگر معاملات، پیپلزپارٹی نے کھل کر حکومت کا ساتھ دیا۔ کہنے کو خورشید شاہ اپوزیشن لیڈر ہیں، مگر ایک لمحے کے لئے بھی انہوں نے احساس نہیں دِلایا کہ وہ واقعی اپوزیشن رہنما ہیں۔ پھر سونے پہ سہاگہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی کارکردگی ہے۔ کراچی جیسا شہر بھی کچرے کا ڈھیر بن چکا ہے اور اندرون سندھ کی حالت تو ناقابلِ بیان ہو چکی ہے۔ حالت یہ ہے کہ سندھ حکومت عوام کے مسائل حل کرنے پر توجہ دینے کی بجائے اِس بات پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے کہ کسی طرح نیب کو سندھ سے نکال دیا جائے۔ گویا یہ اِس بات کا بالواسطہ طور پر اعتراف ہے کہ سندھ حکومت کرپشن ختم کرنے کی بجائے اُسے ایک معمول کے طور پر جاری رکھنا چاہتی ہے۔اب اِس صورتِ حال میں ایسی کون سی جادو کی چھڑی ہے جسے گھما کر آصف علی زرداری سندھ کے ساتھ ساتھ وفاق اور پنجاب کو بھی آئندہ انتخابات میں فتح کر لیں گے۔

مقبول پارٹی کو چھوڑ کر کوئی بھی نہیں جاتا۔ پرندے ہمیشہ اُن درختوں سے کوچ کرتے ہیں جو سوکھ گئے ہوں۔ آصف علی زرداری میاں نواز شریف سے پانچ سالہ مدت پوری کرنے کا وعدہ نبھاتے اس حقیقت کا ادراک بھی نہیں کر سکے کہ جو خلاء انہوں نے پنجاب میں چھوڑا ہے، اُسے پی ٹی آئی نے بڑی اچھی طرح پُر کر دیا ہے۔ آصف علی زرداری کی پالیسیوں نے پیپلزپارٹی کو ایک بے جان گھوڑا بنا کر رکھ دیا ہے، جس میں دوڑنے کی تو کیا چلنے کی سکت بھی نہیں۔کہنے کو پنجاب میں پیپلزپارٹی کی دو دو تنظیمیں بنا دی گئی ہیں، دو صدور، دو جنرل سیکرٹری، مگر ہر قومی ایشو پر پیپلزپارٹی کنی کترا کر نکلتی رہی۔ عوام نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ پانامہ کیس کے معاملے پر جو اب مُلک کا سب سے بڑا ایشو بن چکا ہے، پیپلزپارٹی نے صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں،والی پالیسی اختیار کی۔ بلاول بھٹو زرداری نے اس پر ایک واضح اور بولڈ کردار ادا کرنے کی کوشش کی،تو انہیں کنارے کر دیا گیا۔ جب بلاول بھٹو زرداری احتساب کا نعرہ لے کر لاہور آئے تھے اور انہوں نے پیپلزپارٹی کو لیڈ کرنے کا عندیہ دیا تھا تو پارٹی کے تنِ مردہ میں جان پڑ گئی تھی، مگر آصف علی زرداری نے ایک ہی کہنی مار کر بلاول بھٹو زرداری کو پیچھے کر دیا۔ یوں پنجاب میں پارٹی کو زندہ کرنے کی آخری امید بھی دم توڑ گئی۔آصف علی زرداری کے لب و لہجے میں آنے والی تلخی سے اندازہ ہوتا ہے کہ اب انہیں مستقبل کے حوالے سے پریشانی لاحق ہونے لگی ہے،مگر اس پریشانی میں وہ اپنے ہی سیاسی ساتھیوں کو، جو اُن سے کنارہ کش ہو رہے ہیں، گندے انڈے نہ کہیں، کیونکہ یہ انڈے کسی اور نے نہیں پیپلزپارٹی نے دیئے ہیں،اگر وہ پیپلزپارٹی میں صاف انڈے تھے تو پی ٹی آئی میں جا کر گندے کیوں ہو گئے؟ آصف علی زرداری کو ’’گندے انڈے‘‘کہہ کر کوسنے دینے کی بجائے اُن اسباب پر غور کرنا چاہئے جو پیپلزپارٹی کو ایک ایسا ڈوبنے والا جہاز بنا چکے ہیں جس سے ہر کوئی جان بچانے کے لئے چھلانگ لگانا اپنا فرض سمجھتا ہے۔

مزید : کالم