شانگلہ میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ بدستور جاری

شانگلہ میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ بدستور جاری

الپوری(ڈسٹرکٹ رپورٹر ) شانگلہ میں بجلی کی ناروا لوڈ شیڈنگ، غیر اعلانیہ اور ناروا لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ بدستور جاری،لوڈ شیڈنگ نے عوام کے ناک میں کر دیا ہے، کاروباری زندگی شدید متاثر ، سر کاری د فا تر میں کام ٹھپ ، لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا۔پیسکو کے اعلیٰ حکام او ر ذمہ داران نوٹس لیں عوامی حلقوں کا مطالبہ ۔ شانگلہ میں بل ادائیگی97فیصد سے زیادہ ہے،پیسکو ذرائع۔ تفصیلات کے مطابق ضلع شانگلہ کے ہیڈ کوارٹر الپوری سمیت پورن،چکیسر،کروڑہ ،لیلونئی اور دیگر علاقوں میں بجلی کی ناروا غیر اعلانیہ اور ناروا لوڈشیڈنگ نے عوام کے ناک میں کر دیا ہے، کاروباری زندگی بری طرح سے متاثر ہوئی ہے، جبکہ ہسپتال وں میں مریضوں ۔سکولوں میں بچوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،شانگلہ کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر الپوری میں موجود سرکار ی دفاترمیں بجلی نہ ہونے سے کام ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے ،ضلع شانگلہ کے دور دراز علاقوں سے آنے والے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، محکمہ واپڈا دیدہ دانستہ بجلی بند کراتے ہیں،جبکہ شانگلہ میں بل ریکوری97فیصد ہیں پیسکو حکام۔اتنی ریکوری کے باوجودپھر بھی شانگلہ میں بارہ سے لیکر پندرہ گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے،معمولی بارش ہو یا آسمان پر بادل شانگلہ کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر الپوری اور ملحقہ علاقوں کی بجلی بند کر دیتے ہیں، جو کہ محکمہ واپڈا اور شانگلہ سے با اختیار ارکان اسمبلی کیلئے ایک سوالیہ نشان بن گیا ہے شانگلہ کے خان خوڑ ڈیم سے صرف 80میگاواٹ بجلی پیدا ہوتی ہے جن سے حکومت کو کروڑوں روپے کا امدن ہوتی ہے مگر اس ڈیم سے شانگلہ کے عوام کو کوئی فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہے ، پیسکو کے ایک ذمہ دار نے بتایا کہ شانگلہ ضلع بھر میں صرف 5میگاواٹ بجلی استعمال کیلئے کافی ہے، جو خان خوڑ ڈیم سے بھی دی جا سکتی ہے، شانگلہ کے عوامی حلقوں نے وفاقی حکومت، مرکز اور صوبے میں شانگلہ سے منتخب ہونے والے نمائندوں سے مطالبہ کر دیا ہے کہ وہ بجلی کا مسئلہ حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر