ترکی کیلئے سب سے بڑا خطرہ! امریکہ کھل کر سامنے آگیا، ایساکام کردیا کہ ترکوں کو شدید پریشان کردیا

ترکی کیلئے سب سے بڑا خطرہ! امریکہ کھل کر سامنے آگیا، ایساکام کردیا کہ ترکوں ...
ترکی کیلئے سب سے بڑا خطرہ! امریکہ کھل کر سامنے آگیا، ایساکام کردیا کہ ترکوں کو شدید پریشان کردیا

  

بیروت(مانیٹرنگ ڈیسک) ترکی اور شام میں موجود کرد جنگجوﺅں کو ترکی اپنے لیے بہت بڑا خطرہ سمجھتا ہے مگر امریکہ نے اپنے اتحادی ترکی کے تحفظات کو نظرانداز کرتے ہوئے شام کے کردوں کی مدد شروع کر دی ہے، جس پر ترکی کی تشویش انتہائی بڑھ گئی ہے۔واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی حمایت یافتہ کرد اور عرب جنگجوﺅں نے شام میں داعش کے زیرقبضہ شہر منبیج (Manbij)کی طرف پیش قدمی شروع کر دی ہے اور اس لڑائی میں امریکی فوج کے کمانڈوز بھی ان کے ہمراہ ہیں۔یہ شہر بھی داعش کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔یہ پیش قدمی دراصل ترکی کی سرحد پر واقع شہر الیپو کی طرف شروع کی گئی ہے۔ کرد جنگجو اس شہر پر دوبارہ قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں امریکی کمانڈوز ان کے ساتھ شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں اور اس کے علاوہ امریکی جنگی طیارے بھی بمباری کرکے ان کی مدد کر رہے ہیں۔ یہ شہر شام کے صوبے الیپو میں واقع ہے جو ترکی کا سرحدی علاقہ ہے۔ امریکی فوجی ترجمان کرنل کرس گیرور (Chris Garver) کا کہنا ہے کہ ”کردجنگجو اور امریکی کمانڈو منبیج شہر کو فتح کرتے ہوئے ترکی کے بارڈر کے ساتھ ساتھ جائیں گے اور بالآخر داعش کے گڑھ رقہ پر حملہ آور ہوں گے۔ منبیج پر کردوں کا قبضہ ہونے سے داعش کی سپلائی لائن کٹ جائے گی جس سے داعش مشکلات کا شکار ہو گی اور اس پر دباﺅ بڑھے گا۔“

’تمہارا یہ کھیل کھیلنے کیلئے ہمارے پاس وقت نہیں‘ چین نے امریکیوں کی چالاکی دنیا کے سامنے بے نقاب کردی، ایسی کھری کھری سنادیں کہ پوری دنیا کو دھمکیاں دینے والا امریکا اپنا سا منہ لے کررہ گیا

دوسری طرف منبیج پر اس حملے سے ترکی کے بپھر جانے کے امکانات بھی ہیں۔ ترکی کو خدشات لاحق ہیں کہ کرد جماعت کردش پیپلز پروٹیکشن یونٹ شام کے علاقے میں غالب آ جانے سے ترکی کے اندر موجود باغی کردوں کو تقویت ملے گی۔ ماضی میں ترکی کی طرف سے شامی کردوں پر ترک کرد باغیوں کی مدد و حمایت کے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ترکی کا مطالبہ ہے کہ کردش پیپلزپروٹیکشن یونٹ کو دہشت گرد گروپ قرار دیا جائے مگر امریکہ ترکی کے مطالبے کے بالکل برعکس اس گروپ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

مزید : بین الاقوامی