گوادر پورٹ پر ترقیاتی کاموں میں تاخیر ، حکومتی سست روی پر چین برہم

گوادر پورٹ پر ترقیاتی کاموں میں تاخیر ، حکومتی سست روی پر چین برہم
گوادر پورٹ پر ترقیاتی کاموں میں تاخیر ، حکومتی سست روی پر چین برہم

  


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستانی حکومت کی سست روی چین کی ناراضگی کا سبب بننے لگی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق چین گوادر میں گیس پائپ لائن اور ایل این جی ٹرمینل کی تنصیب کے دو ارب ڈالرز کے منصوبے میں پاکستانی حکومت کی جانب سے سست روی پر برہم  ہے۔

’ایکسپریس ٹربیون‘کے مطابق ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار کا کہنا ہے ایک چینی فرم نے اس منصوبہ کے حصول کیلئے ’بڈز‘میں باقاعدہ بولی دی لیکن کئی ماہ گزرنے کے باوجود اسے کھولا نہیں گیانہ ہی اس کنٹریکٹ کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیا گیا ہے۔جس پر چینی حلقے مایوسی کا شکار ہیں۔آفیسر کے مطابق ایل این جی گوادر پائپ لائن پروجیکٹ کی منصوبہ بندی پاک ایران گیس پائپ لائن کے متبادل کے طور پر کی گئی تھی۔کیونکہ تہران پر عالمی پابندیوں کے باعث پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ رک چکا تھا۔

اعلیٰ عہدیدار کا کہنا تھا کہ چین نے پاکستان سے کہا ہے کہ قرض کیلئے اپلائی کردیں،جبکہ یہ عمل سست روی کا شکار ہو چکا ہے کیونکہ حکومت پاکستانپی سی ون کو پلاننگ کمیشن سے منظور کرانا چاہتی ہے۔اخبار کے مطابق اس منصوبہ کی سست روی کی وجہ وہ وزیر ہیں جنہوں نے اس کیلئے فنڈزجاری کرنے ہیں۔حالانکہ مذکورہ پروجیکٹ کیلئے 85فیصد فنڈنگ چین نے کرنی ہے۔آفیسر کا کہنا تھا کہ اس سست روی سے ہمسائیہ ملک چین نہ صرف اپ سیٹ ہے بلکہ چینی کمپنی اور بینک کا ایک اعلیٰ ترین وفد پاکستان بھی آیا لیکن اسے وزارت خزانہ کے اعلیٰ حکام کے بجائے جونیئر سطح کے افسروں سے ملوایا گیا۔

مزید : بین الاقوامی