قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 99

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 99

جب بڑھاپے میں آکر آدمی کسی عشق معاشقے کے چکر میں پڑ جاتا ہے تو اس کا نتیجہ وہی ہوتا ہے جو بیدی صاحب کا ہوا ۔ جب ہم سکندر ارسطو کی کہانی پڑھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ارسطو سکندر کو عورت کے بارے میں سمجھاتے سمجھاتے خود عورت کا اتنا گرویدہ ہو گیا کہ عورت نے اس کی پیٹھ پر چڑھ کر بڑھاپے میں سواری کی۔ اس ارسطو کے ساتھ بھی یہی ہوا ۔ اور ان کی ایک فیچر ’’آنکھیں دیکھی ‘‘ بنی بنائی رہ گئی اور وہ لڑکی جو ان کی داشتہ تھی وہ اس فلم کی ہیروئن تھی۔ فلم میں معروف اداکار ان ہوں تو فلم بکتی ہے۔ اب یہ ہیروئن نئی تھی پھر رائٹر یعنی بیدی صاحب خود ڈائریکٹر تھے۔ ہر چند کہ جن کا نام نہ ہونے کی وجہ سے بھی فلم پڑی رہی ۔ ان کا کچھ سرمایہ تو فلم میں ہی لگ گیا۔ پھر اس کے بعد ان کی بیوی بھی فوت ہو گئی اور عجیب بات ہے کہ اس کی وفات کے بعد انہیں احساس ہو اکہ وہ بیوی جس کے ساتھ ان کی ساری عمر نہیں بنی وہ ان کے لیے بہت قیمتی سرمایہ تھی ۔ اس بیوی کے نہ ہونے سے اب وہ یوں محسوس کرتے تھے جیسے لٹ گئے ہوں۔ ان کی طبیعت میں رقت پہلے سے تھی اور ان کی آبدیدہ ہو جانے کی عادت بھی تھی لیکن اس واقعہ کے بعد یہ عادت تیز ہو گئی اور جب میں ان کے گھر گیا تو وہ آبدیدہ ہو گئے اور کہتے’’ میں نے اس کے ساتھ بہت برا کیا اب میں خود برا بھگتوں گا‘‘

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 98 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

انہیں سگریٹ پینے کی عادت تھی۔ خود چونکہ سلگا نہیں سکتے تھے اس لے بیٹا سگریٹ سلگا کر دیتا تھا۔ بہو چائے وغیرہ لاتی تھی اور جب بیوی کا ذکر آتا تھا تو روپڑتے تھے۔ اس طرح ان کی زندگی کا انجام ہوا۔ کیا بتایا جائے وہ اتنے بڑے افسانہ نویس تو تھے ہی گفتگو کے ماہر اور فراخدلی بھی تھے۔ ان کا ایک بیٹا نریندر بیدی تھا جو بہت کامیاب فلم ڈائریکٹر تھا۔ افسانے کے سلسلے میں وہ بیدی صاحب سے اختلاف رکھتا تھا حالانکہ بہت فرمانبردار تھا اور جب شوٹنگ نہ ہوتی تو بیدی صاحب کے ساتھ محفلوں میں جایا کرتا تھا۔ کم ازکم میرے اعزاز میں جو محفلیں منعقد ہوئیں ان میں نریندر سا تھ تھا۔ فرمانبردار بہت تھا لیکن وہ کہتا تھا کہ بیدی صاحب بہت اونچائیوں میں اڑتے ہیں جبکہ مجھے زمین پر چلتے پھرتے لوگوں کے لیے فلم بنانی ہے۔ اس لیے مجھے اپنے والد کا افسانہ یا کہانی سوٹ نہیں کرتے۔ حتیٰ کہ وہ ان سے مکالمے بھی نہیں لکھواتا تھا جبکہ بیدی صاحب کے ڈائیلاگ ’’داغ ‘‘ فلم میں آنے کے بعد فلم کی تاریخ میں ایک انقلاب لائے تھے۔ پھر ’’غالب ‘‘ فلم جو نستعلیق اُردو میں لکھی جانی تھی اس کے ڈائیلاگ ایک سکھ یعنی بیدی صاحب نے لکھ کر داد لی۔ لیکن بیٹا اس چیز سے اتفاق نہیں کرتا تھا۔

ایک دن بیدی صاحب مجھے کہنے لگے کہ یار قتیل سنو۔ دیکھو میرا یہ بیٹا نافرمان بھی لیکن یہ تمہارا بڑا معتقد ہے اور مجھ سے کئی بار کہہ چکا ہے کہ قتیل صاحب سے کہو کہ یہ کچھ عرصے کیلئے ممبئی آکر میری ایک دو فلموں کے گانے لکھ دیں ۔ تمہارے پاکستانی فلموں کے جو گانے آتے ہیں یہ ان کے حوالے دیتا ہوں اور کہتا ہے کہ گانے یہ ہوتے ہیں جو قتیل صاحب لکھتے ہیں۔ پھر کہنے لگے کے کہ اس کیلئے کچھ کرو۔ لیکن تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد یہ دونوں باپ اور بیٹا فوت ہو گئے ۔ اور مجھے بہت صدمہ ہوا راجندر سنگھ بیدی صاحب کے انتقال پر تو ایک تعلق خاطر کی وجہ سے صدمہ ہوا لیکن ان کے بیٹے کے انتقال پر اس لیے صدمہ بھی ہوا کہ ایک خود غرضی بھی شامل تھی کہ ایک اچھے ہندوستانی ڈائریکٹر کی فلم میں میرے گانے آتے تو انہیں کچھ میدان ملتا۔ مگر یوں میں باپ اور بیٹا دونوں ہی سے محروم ہو گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیکی کر دریا میں ڈال

مجھے اپنے والد سے جو اچھی عادتیں اور اچھے اصول ملے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ان لوگوں کی مدد کرو جو مستحق ہیں اور اس مدد کا ڈھنڈورا پیٹنے؛ سے اجتناب کرو۔ تھوڑے تھوڑے پیسے بھکاریوں کو دینے سے گریز کروتا کہ بھکاریوں کی تعداد نہ بڑھے اور ضرورت مندوں میں بالکل چپ چاپ اپنا عطیہ پہنچا دو۔ تاکہ انہیں کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔ چنانچہ میرے گھر کے سامنے کسی نے وہ دیگیں پکتی نہیں دیکھیں جو بعض لوگ محلے کو دکھانے کیلئے یا اپنی طرف سے نیکی کا کام سمجھ کر پکاتے ہیں اور پھر محلے میں بانٹ دیتے ہیں یا دروازے کے آگے کھڑے ہو کر بہت سی ریز گاری لے کر فقیروں کو بلا کر ان میں ایک ایک دو دو آنہ کر کے بانٹ دیتے ہیں۔ یا پھر کسی مزار پر جا کر بیٹھے ہوئے بھکاریوں کی فوج میں کچھ پیسے دے دیتے ہیں۔میں ایسی کوئی چیز نہیں کرتا اور اپنے گھر والوں سے بھی یہی کہتا ہوں کہ یہ طریقہ غلط ہے۔

میرے والد اپنی آمدن کا ایک حصہ ایسے ضرورت مندوں میں بانٹا کرتے تھے جو سفید پوش ہوتے تھے اور کسی سے کہنے کے قابل نہیں ہوتے تھے۔ کسی کا بچہ پڑھ رہا ہے تو اسے میرے والد فیس یا کتابیں دے دیتے تھے۔ مجھے کچھ بیوائیں معلوم ہیں جن کی وہ مدد کیا کرتے تھے۔ یہ اچھی عادت اور اچھا اصول میں نے اپنے والد سے لیا اور اب میرا طریقہ کار یہ ہے کہ ہر چند کہ میری آمدن زیادہ نہیں ہے لیکن اگر کوئی بھی عادت ڈال لی جائے تو اسے پورا کرنے میں زیادہ وقت نہیں ہوتی ۔ اگر ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرنے کی عادت ڈال لی جائے تو پھر کچھ عرصے کے بعد اس سے تکلیف نہیں ہوتی بلکہ وہ چیز روٹین میں آجاتی ہے اور آپ بغیر کوئی وقت محسوس کئے وہ فریضہ ادا کرتے چلے جاتے ہیں۔

میں ایک مدت سے ایسے لوگوں کی تلاش میں رہتا ہوں جو ضرورت مند ہوں ۔ اگر وہ میرے غریب رشتہ داروں میں سے ہوں تو زیادہ بہتر ہے۔ ورنہ محلے میں یا جاننے والوں میں سے ہوں۔ ایسی صورت میں میں نے اپنے بیٹے اور بیٹیوں کو بھی یہاں اس راستے پر لگا رکھا ہے ۔ چنانچہ جب وہ کسی کی ضرورت دیکھتے ہیں تو ان کی مدد کرتے ہیں۔ مثلاً ایک صاحب مفلوج ہیں اور مکان سے باہر نکلو، میں یوں کرتا ہوں کہ اس آدمی کو میں دو سو روپیہ اپنے پلے سے اور سو سو روپیہ اپنے بچوں سے لے کر پانچ سو روپے کرائے کیلئے دے دیتا ہوں۔اسی طرح ہری پور میں اور سکندر پور میں جو میرے اور میری بیوی کے وطن ہیں وہاں ایک غریب خاتون میری رشتہ دار تھیں۔ اس کے گھر میں بجلی نہیں تھی اور سارا خرچ ہزار بارہ سو کا تھا۔ میں نے اپنی جیب سے کچھ پیسے نکالنے اور کچھ اپنی بیٹی سے لیے ، اور اس کے گھر میں بجلی لگوادی ۔ یہ صورت اب تک جاری ہے۔ بعض اوقات میں اپنے متمول دوستوں کو بھی اس طرح کے نیکی کے کاموں میں شامل کر لیتا ہوں۔

ایسے دوستوں میں ایک نمایاں نام ’’نیرنگ خیال ‘‘ کے ایڈیٹر سلطان رشک کا ہے۔ زکوۃ کے مہینے میں جب میں نے کسی کی مدد کرنی ہوتی ہے تو میں اپنے ساتھ سلطان رشک کی رقم بھی ملا کر دے دیتا ہوں۔ پچھلے سال ہمارے ایک محلے دار کے مکان کی چھت گری اور اس کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی تو پانچ سو روپے میں نے اور پانچ سو روپے سلطان رشک نے ڈالے اور ایک ایک سو روپیہ میرے بچوں نے دیا۔ اس طرح ہم نے کچھ رقم اکٹھی کر کے ان کو دیدی ۔ میرا خیال ہے کہ ہٹے کٹے مشتنڈوں کو روپیہ دو روپے دے دینے سے یا اپنے گھر کے باہر دیگیں کھڑکانے سے کہ نمائش ہو اور لوگ سمجھیں کہ سخی آدمی ہے یہ کام بہتر ہے ۔ دیگیں پکانے سے چاولوں کی بھی بے حرمتی ہے کیونکہ ہر کسی کے گھر میں کھانا پکا ہوتا ہے اور یہ غریبوں تک بھی نہیں جاتے لیکن انہیں نمائش درکار ہوتی ہے اور محلے کے ہر گھر میں پتہ چل جاتا ہے کہ ان کے گھر میں دیگ پکی تھی۔ اسی طرح گھر کے سامنے ریزگاری لے کر کھڑے ہو جانا اور آوازیں دے کر وہ ریزگاری تقسیم کرنا مجھے اچھا نہیں لگتا ۔ میں اس کے سخت خلاف ہوں۔ اس کی کوئی افادی حیثیت نہیں ہے بلکہ یہ تو معاشرے کو ایک طرح سے بھکاری بنانے والا کھیل ہے۔ میں کبھی ایسا کرنا گوارا نہیں کرتا اور دعا کرتا ہوں کہ خدا مجھے زیادہ دے تاکہ میں ضرورت مندوں کی زیادہ خدمت کر سکوں۔

اس طرح غریب لوگوں کی مدد کرنے والوں میں ایک اور نام بھی میرے ساتھ آتا ہے جو کہ خورشید راٹھور کا ہے ۔ میں تو قسطوں میں لوگوں کی مدد کرتا رہتا ہوں۔ لیکن انہوں نے میری باتوں سے متاثر ہو کر یا اپنے دل میں پہلے سے موجود نیکی کے جذبے کے تحت مسجد میں طالب علموں کے لیے ایک کمرہ بنانے کے لیے تیس ہزار کی رقم یکمشت ادا کر دی ۔ وہ خود بھی ملازم ہیں اور کوئی امیر خاتون نہیں ہیں۔ لیکن وہ ضرورت مندوں کی مدد کرتی ہیں۔ وہ بھی اسی اصول پر کاربند ہیں کہ دروازے پر آنے والے بھکاریوں کی حوصلہ شکنی کی جائے اور چپکے سے ضرورت مندوں کی مدد کی جائے۔ ان کا کام بھی میرے جیسا ہے ۔ جب انہیں پتہ چلتا ہے کہ فلاں لڑکی کی شادی ہے تو وہ مجھ سے ، میرے بیٹے بیٹیوں سے ، اور اپنے جاننے والوں سے کچھ رقم اکٹھی کر کے اور کچھ اپنے پاس سے ڈال کر اس لڑکی کی مدد کردیتی ہیں۔خدا سب کو توفیق دے کہ ہم غریبوں کی بجا طور پر مدد کریں تاکہ معاشرے میں احتیاج کی صورت نہ رہے۔

یہ تو میں نے ان بھکاریوں کی بات کی جو معاشرے میں گھومتے پھرتے ہیں۔ اور جن بعض لوگوں کا پیشہ پشت درپشت چلا آرہا ہے ۔ لیکن کچھ بھکاری شاعروں اور ادیبوں میں بھی نظر آتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا بڑا احسان ہے کہ وہ شعر کہتے ہیں۔ اور خدا تعالیٰ نے انہیں شعر کہنے اور لوگوں سے اس کا ٹیکس لینے پر مامور کر دیا ہے ۔

ایسے شاعر عام طور پر غیر ذمہ دار، نکمے اور غلیظ ہوتے ہیں۔ ہر چند کہ ان کی تعداد ایک فیصد بھی نہیں ہے لیکن چونکہ وہ شاعر ہوتے ہیں اس لیے فوراً نظر میں آجاتے ہیں۔اس لیے اس طرح کے ایک فیصد شاعر بھی ساٹھ فیصد نظر آتے ہیں۔ یہ لوگ شادی شدہ ہوتے ہیں اور ہر سال بچہ بھی پیدا کرتے ہیں لیکن بچوں کے لیے روزی پیدا نہیں کرتے اور کسی نہ کسی بہانے سے لوگوں پر بوجھ بنتے ہیں۔ بعض اوقات تو یوں بھی ہوتا ہے کہ ایسے شاعر کو دیکھ کر دور ہی سے کوئی شریف آدمی چھپ جاتا ہے ۔ یا پھر جب یہ کسی کے گھر پر جا کر دستک دیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ آدمی دوبارہ دروازے پر آگیا ہے جو پانچ بار پہلے بھی مدد لے چکا ہے ۔ چنانچہ اندر سے جواب دیا جاتا ہے کہ صاحب خانہ گھر پر نہیں ہیں ۔ خدا ایسی صورت سے دشمنوں کو بھی محفوظ رکھے چہ جائیکہ شاعر ایسا کام کرے۔ شاعر لفظ شعور سے مشتق ہے اور شاعر عام آدمی سے زیادہ ذمہ دار ہوتا ہے ۔ اس کی عزت عام آدمیوں سے زیادہ ہوتی ہے ۔ عزت نفس کا خیال شاعروں میں عام آدمی سے زیادہ ہوتا ہے ۔ بہر حال ایسے شاعر بہت کم تعداد میں ہیں جبکہ زیادہ تر شعراء خود کماتے ہیں اور ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں اور کبھی جھک کر بات نہیں کرتے۔

اس طرح کچھ اور بھکاری بھی ہیں جو حکومت وقت کی کاسہ لیسی کرتے ہیں۔ رئیسوں سے مراسم رکھ کر ان سے کچھ حاصل کرتے ہیں اور جو چڑھتا سورج نظر آتا ہے اسے سلام کر کے اس کے ساتھ ہو لیتے ہیں اور بڑی مراعات حاصل کرتے ہیں ۔ میرا خیال ہے کہ مہذب بھیک کی یہ بھی ایک شکل ہے ۔ اس طرح یہ بھی ہوتا ہے کہ سچ کہنے کی رفتار کم ہو جاتی ہے اور حاکم وقت کو لکھنے پڑھنے والوں کی صحیح رائے نہیں ملتی ۔ اس کے قریب جو لوگ جاتے ہیں وہ خوشامدی ہوتے ہیں جو صرف وہ رائے دیتے ہیں جس کی حاکم وقت کی خواہش ہو۔ اس طرح حاکم وقت کو پبلک کی رائے سے آگاہی نہیں ہوتی اور وہ گمراہ ہو کر سوچتا ہے کہ اس کی تمام پالیسیاں ٹھیک ہیں۔

یہ اکثر حکومتوں میں ہوا ہے ۔ بہت سے حاکمان وقت یا چھوٹے درجے کے افسران اس طرح گمراہ ہو جاتے ہیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ لوگوں میں پاپولر نہیں رہتے ، ان کی پالیسیاں ناکام ہو جاتی ہیں اور وہ بدنام ہو جاتے ہیں۔ اور ایک ان کی حکومت کا تختہ الٹ جاتا ہے ۔ اور اس کے بعد وہ لوگ جو ان کی خوشامد کرتے تھے انہیں آپ اچانک دیکھتے ہیں کہ وہ نئے آنے والے حاکم کی چاپلوسی اور خوشامد کی تیاریاں کرنے لگتے ہیں۔ یہ ایک مسلسل بھیک کی شکل ان بھکاریوں میں جاری رہتی ہے۔ خدا ایسے بھکاریوں سے بھی معاشرے کو محفوظ رکھے اور شاعروں سے ایسے لوگوں کو نجات دلائے جو شاعری جیسے مقدس پیشے کو لوگں کی نظروں میں ذلیل کرتے ہیں۔ اور اس شعور کو رسوا کرتے ہیں جس سے شاعر کو مالا مال ہونا چاہیے۔(جاری ہے)

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 100 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : گھنگروٹوٹ گئے

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...