مذاکرات کامیاب ، دھرنے ختم ، حکومت او ر تحریک لبیک کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ، ملک بھر میں راستے کھل گئے

مذاکرات کامیاب ، دھرنے ختم ، حکومت او ر تحریک لبیک کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ...

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) حکومت اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان مذاکرات کامیاب اور 5 نکاتی معاہدہ طے پا گیا جس کے بعد مرکزی رہنماؤں نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے تحریک لبیک پاکستان کے رہنما خادم رضوی نے کہا کہ پورے پاکستان میں جہاں جہاں لوگ دھرنا دیے بیٹھے ہیں وہ پر امن طور پر منتشر ہوجائیں اور آئندہ کے لائحہ عمل کا انتظار کریں۔اس اعلان کے بعد ملک بھر میں جاری دھرنے بتدریج ختم ہوگئے اور مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔وفاقی حکومت، پنجاب حکومت اور تحریک لبیک کے معاہدے پر حکومتی ٹیم اور تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے دو، دو نمائندوں کے دستخط موجود ہیں۔ حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور صاحبزادہ ڈاکٹر نور الحق اور صوبائی وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت جب کہ تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے تنظیم کے سرپرست اعلیٰ پیر افضل قادری اور مرکزی ناظم اعلیٰ محمد وحید نور نے دستخط کیے ہیں۔ جمعہ کے روز توہین رسالت کیس میں آسیہ بی بی کو رہائی کے خلاف دھرنے کے شرکاء اور حکومت کے درمیان مذاکرات ہوئے جس کے بعد دونوں فریقین کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے معاہدہ کے مطابق حکومت آسیہ بی بی کے مقدمہ میں نظر ثانی کی اپیل پر کوئی اعتراض نہیں کرے گی آسیہ بی بی کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے گا اور احتجاج کے دوران جو شہادتیں ہوئی ہیں ان پر قانونی چارہ جوئی کی جائے گی اور 30 اکتوبر کے بعد گرفتار ہونے والے کارکنوں کو رہا کیا جائے گا تحریک لبیک نے احتجاج کے دوران تکلیف اور دل آزاری پر معذرت لر لی ہے معاہدے پر حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر نور الحق قادری اور صوبائی وزیر قانون پنجاب بشارت راجہ جبکہ تحریک لبیک کے سر پرست اعلیٰ پیر محمد افضل قادری اور مرکزی ناظم اعلیٰ محمد وحید نو ر کے دسخط میں معاہدے کے بلا تحریک لبیک نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

مذاکرات کامیاب

لاہور، قصور، ننکانہ ،شیخوپورہ ،کراچی، اسلام آباد(ایجوکیشن رپورٹر ،کرائم رپورٹر ، نمائندگان ،مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں)سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو بری کیے جانے کے بعد مذہبی جماعتوں کی جانب سے ہونے والے ملک گیر احتجاجی مظاہرے اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کال کے بعد متعدد شہروں میں سڑکیں بند ہونے سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر رہی ،امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر جمعہ کے روز ملک کے بیشتر شہروں میں تعلیمی ادارے بند اور امتحانات ملتوی کردیئے گئے، جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور اور گجرانوالہ میں موبائل فون سروس بھی صبح 8 بجے سے مغرب تک معطل رہی ،تعلیمی اداروں کی بندش کی وجہ سے اگرچہ سڑکوں پر لوگوں اور ٹریفک کا رش کم رہا ، تاہم پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے اور جگہ جگہ سڑکیں بلاک کیے جانے کی وجہ سے دفاتر جانے والے افراد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا رہا ،ملک کا سب سے بڑا کراچی میں 25 سے زائد مقامات پر سڑکیں بلاک ہونے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی،ضلع شرقی میں ملیر اور اسٹار گیٹ کے مقام پر روڈ بلاک ہونے سے ایئرپورٹ جانے والے افراد کو مشکلات کا سامنا رہا اور لوگوں کو ہدایت کی گئیں کہ وہ ایئرپورٹ جانے کے لیے یونیورسٹی روڈ استعمال کریں،لانڈھی 89، لانڈھی 5 نمبر، لانڈھی نمبر 6، کورنگی نمبر 5، کورنگی نمبر 3، کورنگی ڈھائی نمبر اور قیوم آباد فرنیچر مارکیٹ کے اطراف بھی سڑکیں بلاک کردی گئیں ، جس کے باعث ٹریفک متاثر رہی، ضلع جنوبی میں گارڈن، ٹاور، تین تلوار، رنچھوڑ لائن اور شو مارکیٹ کے علاقوں میں سڑکیں بند ہونے سے ٹریفک بلاک رہی ،ضلع ویسٹ میں حب ریور روڈ بلدیہ، ماڑی پور روڈ اور تین ہٹی پر بھی سڑکیں بند اور ٹریفک بلاک رہی ،ضلع وسطی میں ناظم آباد، ناگن چورنگی، پاور ہاؤس چورنگی، نیو کراچی نمبر 5 اور سرجانی ٹاؤن کے علاقوں میں بھی سڑکیں بلاک ہونے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ۔ صوبائی دارلحکومت لاہور میں مذہبی جماعتوں کا احتجاج جاری رہا ۔احتجاج میں تحریک لبیک یا رسول اللہ(علامہ خادم رضوی )،تحریک لبیک پاکستان (ڈاکٹر اشرف آصف جلالی ) ،جماعت اسلامی ، مجلس الاحرار اسلام ،عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ،جمیعت العلمائے اسلام( ف)جماعۃالداعوۃ پاکستان ،سنی تحریک ،جمعیت علماء پاکستان ، جماعت اہلسنّت، انجمن طلباء اسلام، ،بزم قادریہ جیلانیہ ، سمیت دیگر مذہبی جماعتوں نے شرکت کی لاہور بھر کی اہم شاہراؤں پر زبردست احتجاجی مظاے کئے بڑی بڑی شاہراہیں بند کردیں ۔ تحریک لبیک یا رسولا للہ کے علامہ خادم حسین رضوی ، اور پیر افضل قادری و دیگر نے فیصل چوک مال روڈ پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک توہین رسالت کیس میں آسیہ بی بی کو پھانسی نہیں دی جائے گی دھرنا ختم نہیں کریں گے انہوں نے لاہور سمیت ملک بھر میں تاجران سے ا پیل کی ہے کہ آسیہ کی رہائی کے خلاف مکمل ہڑتال جاری رکھیں اور تمام شعبہ کے لوگ تحریک لبیک یا رسول اللہ کے احتجاج میں میں بھر پور شرکت کریں انہوں نے بتایا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت اور حساس اداروں کے اعلی حکام تحریک لبیک یا رسول اللہ کے مزاکراتی بورڈ سے مزاکرات کر رہے ہیں جونہی مزاکرات کسی نتیجہ پر پہنچتے ہیں تحریک لبیک یا رسول اللہ کے قائدین پنجاب اسمبلی ہال کے سامنے پریس کانفرنس بلا کر طے پانے والے معاہدوں اور فیصلوں کا اعلان کریں گے۔ گزشتہ روزجمعۃ المبارک کے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم جامعہ نعیمیہ کے ناظم اعلیٰ علامہ ڈاکٹر مفتی راغب حسین نعیمی نے کہاہے کہ عوام پرتشدد احتجاج کے بجائے پرامن طریقہ اختیار کریں۔عدالتی فیصلے کے خلاف دائر نظرثانی کی اپیل کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔جمعیت علماء پاکستان(قاری زوار بہادر گروپ ) کے زیر اہتمام گلبرگ اور ملحقہ آبادیوں ،مکہ کالونی،ماڈل کالونی، حسنین آباد،غالب مارکیٹ،مین مارکیٹ، مدینہ کالونی اور قاسم پورہ سے ہزاروں عاشقان رسول نے فردوس مارکیٹ سے لبرٹی مارکیٹ چوک تک احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا۔ ریلی کی قیادت علامہ قاری محمد زوار بہادر ،مفتی محمد سلیمان قادری،پیرسید منور حسین شاہ ،مولانا عاشق حسین شاہ ،اور دیگر علماء نے کی۔۔ لاہور میں پیر سید شاہد حسین گردیزی، نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ توہین رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کرنے والا واجب القتل ہے چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم اس کی توبہ قبول نہیں۔مجلس احراراسلام پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل میاں محمداویس کی زیرصدارت ایوان احرار69سی نیومسلم ٹاؤن لاہور سے ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جو مسلم ٹاؤن موڑ پرجا کر ایک بہت بڑے اجتماع کی شکل اختیار کرگئی ۔ مجلس احراراسلام پاکستان کے نائب امیر سید محمد کفیل بخاری نے اس احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ ملعونہ آسیہ مسیح کوپھانسی نہ دی گئی تو ملکی حالات اتنے بگڑ جائیں گے کہ حکومت نہ سنبھال سکے گی جامعہ اشرفیہ کے مولانافضل الرحیم اشرفی،مولاناعبدالرحمن چترالی، مجلس احراراسلام پاکستان کے نائب ناظم اعلیٰ قاری محمدیوسف احرار ،قاری محمد قاسم بلوچ اوردیگر نے بھی خطاب کیا ۔ سربراہ سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری کی اپیل پر پاکستان سنی تحریک کے زیر اہتمام ملک گیر یوم عشق رسول ﷺ منایا گیا ،ملک بھر میں مظاہرے ریلیاں جلسے جلوس نکالے گئے۔اہل سنت پر امن ا ور محب وطن ہیں عدلیہ کے تمام فیصلوں کا احترام کرتے ہیں مگر آسیہ کے فیصلہ میں سپریم کورٹ نے جلد بازی سے کام لیا ۔نظر ثانی کی اپیل سننااور معلونہ آسیہ بی بی کو بیرون ملک فرار ہونے سے روکنا بھی سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے ۔ سنی تحریک کے سنیئر مر کزی رہنما محمد شاہد غوری،محمد شاداب رضا نقشبندی ،ڈاکٹر زاہد حبیب قادری ، ڈاکٹر شاہد حسین ، ڈاکٹر عمران کھوکھرنے مختلف احتجاجی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کسی کو تحفظ ناموس رسالت ﷺ ایکٹ میں ترمیم کی جسارت کرنے نہیں دیں گے۔ جمیت العلماء اسلام (ف ) کے راہنما مولانا محمد امجد اور تحریک اہلسنت والجماعت کے راہنما مولانا حسین احمد نے لاہور پریس کلب کے باہر احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی احتجاجی مظاہرین کو دھمکیاں ناقابل قبول ہیں ، راہنماوں نے کہا کہ آسیہ بی بی کی پھانسی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔ ننکانہ صاحب سر ڈسٹرکٹ رپورٹر کے مطابق ضلع بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ، مظاہرین نے پولیس بس نذر آتش کردی ، چندر کوٹ پولیس ناکہ کی عمارت گرادی اورعمارت سے سامان اٹھا کر لے گئے ،پانچ پولیس اہلکار زخمی مظاہرین کے خلاف مقدمات درج ، متعدد مظاہرین گرفتار کر لئے گئے مسیحی خاتون آسیہ بی بی کے آبائی گاؤں اٹانوالی اور قریبی دیہات کی رہائشی سینکڑوں خواتین مانانوالہ روڈ پر چندر کوٹ کے قریب ٹرالے کھڑے کر کے اور درخت کاٹ کے روڈ بلاک کر کے احتجاج کر رہے تھے اور حکومت کے خلاف نازیبا نعرے لگارہے تھے جس کی اطلاع ملتے پولیس موقع پر پہنچی تو مظاہرین نے پولیس فورس پر حملہ آور ہو گئے مظاہرین نے چندر کوٹ پر پولیس ناکہ کی عمارت گرادی اور عمارت میں موجود پولیس اہلکاروں کے سامان کو نقصان پہنچااور سامان چوری کر کے لے گئے جبکہ مظاہرین نے پولیس بس کو نذر آتش کر دیا اس دوران پانچ پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگئے پولیس تھانہ صدر ننکانہ صاحب نے چندر کوٹ، اٹانوالی ، کوٹ سیلمان ، کوٹ وار اور محمود پورہ کی خواتین سمیت سینکڑوں افراد کے خلاف دہشت گردی ، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے علاوہ16ایم پی او کے تحت مقدمات درج کر لیے علاوہ ازیں پولیس تھانہ صدر ننکانہ صاحب نے ننکانہ شاہکوٹ روڈ پر چک نمبر5گ ب کے قریب روڈ بلاک کر کے احتجاج کرنے کے جرم میں درجنوں افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیاپولیس نے تینوں مقدمات کی ایف آئی آر سر بمہر کر دی ہیں ۔شرقپور سے نامہ نگار کے مطابقمذہبی جماعتوں کا فیض پور انٹر چینج پر احتجاج اور دھرنا تیسرے روز بھی جاری رہا لاہو ر جڑانوالہ روڈ ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بندرہی ۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ڈی ۔ایس ۔پی سمیت 8 پولیس اہلکار اور متعدد مظاہرین بھی زخمی علاقے میں خوف و ہراس کی فضاء قائم سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے بعد شرقپور منڈی فیض آباد ،تریڈیوالی ،کوٹ عبدالمالک ، فیض پور اور لاہور جڑانوالہ روڈ پر قائم سینکڑوں دیہات کے علماء اکرام اور مشائخ عظام نے اپنے کارکنو ں سمیت فیض پور انٹر چینج پر تین روز سے دھرنا دیا ہوا ہے اور ان کا احتجاج جاری ہے کہ توہین رسالت ﷺ کی مرتکب ملزمہ کو بلا جواز رہا کیاگیا ہے جب تک ہمارے مطالبات نہیں مانے جاتے احتجاج جاری رہے گا مظاہرین اور پولیس کے درمیان گزشتہ رات گئے جھڑپوں کی اطلاعات بھی ملی ہیں جس میں ڈی ۔ایس۔پی سمیت 8 پولیس اہلکار زخمی ہوئے پولیس اہلکاروں کا اسلحہ مظاہرین نے چھین لیا اور جھڑپوں کے دوران متعدد مظاہرین بھی زخمی ہوئے فیض پور انٹر چینج پر دھرنے کی وجہ سے موٹر وے بھی بند ہے اور لاہور جڑانوالہ روڈ پر ہر قسم کی ٹریفک بند ہے لاہور جانے والے ملازمین کو مشکلات کا سامنا ہے شرقپور اور اس گردو نواح کے علاقوں میں لاہور سے آنے والی ادویات کی سپلائی بھی معطل ہے ۔قصور سے بیورورپورٹ کے مطابق آسیہ بی بی کی رہائی کے خلاف ضلع قصور میں ہونے والے احتجاج کے شرکاء نے پولیس چوکی جمبر پرحملہ کرکے ڈی ایس پی ،ایس ایچ او سمیت آٹھ پولیس ملازمین کو زخمی کرکے پولیس کی دو گاڑیوں اور ریسکیو 1122کی گاری کو بھی نقصان پہنچایا۔ضلع قصور میں بھی آسیہ بی بی کی رہائی کے خلاف تحریک لبیک یا رسول اللہ ،دیگر تنظیموں کی قیادت میں ہونے والے احتجاج میں مشتعل مظاہرین نے پولیس تھانہ پھولنگر کی چوکی جمبر پر حملہ کر دیا ۔امن و امان کو کنٹرول کرنے کے لیے چوکی میں موجود پولیس افسران پر ہونے والے پتھراؤ سے ڈی ایس پی پتوکی محمدسلیم ،ایس ایچ او محمداعظم ڈھڈی کانسٹیبلان ریاض احمد،ارشاد احمد، رفاقت علی، انور وغیرہ زخمی ہوگئے چوکی میں کھڑی دو پولیس کی گاڑیوں اور ریسکیو1122کی گاڑی کے شیشے وغیرہ توڑ دئیے گئے تاحال پولیس نے کسی کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا ۔

احتجاج

مزید : صفحہ اول