وزارت داخلہ، ایف آئی اے‘پی ٹی اے سے 26 نومبر کو جواب طلبی

وزارت داخلہ، ایف آئی اے‘پی ٹی اے سے 26 نومبر کو جواب طلبی

  

 لاہور (آن لائن) لاہور ہائیکورٹ میں سوشل میڈیا پر توہین رسالت توہین مذہب کے مرتکب 256 افراد کے خلاف مقدمہ درج نہ کرنے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی،عدالت نے وزارت داخلہ، ایف آئی اے، اور پی ٹی اے سے 26 نومبر کو جواب طلب کر لیا مسٹر جسٹس سرفراز ڈوگر نے کیس کی سماعت کی،عدالت کے روبرو درخواست میں وفاقی وزارت داخلہ، ایف آئی اے اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کو فریق بنایا گیادرخواست گزار نے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایف آئی اے نے سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد اپ لوڈ کرنے کے جرم میں 256 افراد کاڈیٹا بلاک کرنے کیلئے پی ٹی اے کو  حکم جاری کیا،نیز ایف آئی اے نے 256کیسز کا ڈیٹا ختم کرنے کیلئے  پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کو ارسال کئے لیکن ایف آئی اے نے صرف توہین مذہب کے مرتکب افراد میں سے ایف آئی اے نے محض 66افراد کے خلاف مقدمات درج کئے توہین رسالت یا توہین مذہب ناقابل راضی نامہ جرم ہے ایف آئی اے نے جرم ثابت ہونے پر 256 افراد کے کیسز پی ٹی اے کو ارسال کیے لیکن بد نیتی سے محض 66 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنا اور 190افراد کو چھوٹ دینا آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے توہین مذہب کے مجرم کے مرتکب کو قانون کے مطابق چھوٹ نہیں دی جاسکتی، عدالت نے 256 افراد کیخلاف مقدمہ درج کرنے اور قانون کے مطابق کاروائی کا حکم دے، فاضل عدالت  نے فریقین کو نوٹس جاری کر کے 26 نومبر کو طلب کرلیا۔ 

جواب طلبی 

مزید :

صفحہ آخر -