اقوام متحدہ میں پاکستان کی ڈوزئر حکمت عملی ۔ کتنی درست ؟

اقوام متحدہ میں پاکستان کی ڈوزئر حکمت عملی ۔ کتنی درست ؟
 اقوام متحدہ میں پاکستان کی ڈوزئر حکمت عملی ۔ کتنی درست ؟

پاکستان نے بالآخر وہ ڈوزئر اقوام متحدہ میں جمع کروا ہی دیا ۔ جس کا بہت ذکر تھا۔ یہ ڈوزئر اقوام متحدہ میں بھارت کی وزیر خارجہ کی تقریر کے بعد جمع کروا یا گیا ہے۔ کیا یہ ایک بہتر حکمت عملی تھی۔ اس پر بحث کی جا سکتی ہے اور حق و مخالفت دونوں میں دلائل موجود ہیں۔ لیکن دفتر خارجہ ایسا ہی چاہتا تھا کہ بھارت پر دہشت گردی پر الزامات کا یہ حقائق نامہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کی اقوام متحدہ کی تقریر کے بعد ہی اقوام متحدہ میں جمع کروا یا جائے۔ اسی لئے وزیر اعظم نے بھی اس حوالے سے اپنی صحافیوں سے ملاقات میں یہ کہہ کر بات ٹال دی کہ وہ ابھی بن رہا ہے بعد میں دیا جائے گا۔ انہوں نے ایسا تاثر دیا کہ اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر ابھی اس ڈوزئر کے دئے جانے کا امکان نہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ جب بھارتی قیادت سے ملاقات ہو گی تب یہ ان کو دیا جائے گا ۔ یعنی پاکستان نے اس حوالے سے ایک کنفیوزن آخر دم تک قائم رکھی۔

جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پاکستان اور بھارت کی قیادت کے درمیان کوئی براہ راست ملاقات نہیں ہوئی۔لیکن سفارتی سگنلز بہت دئے گئے۔ پہلے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے وزیر اعظم نوازشریف کو ہاتھ ہلایا۔ اس کے بعد یہ بحث شروع ہوئی کہ پہلے ہاتھ کس نے ہلایا، تو وزیر اعظم نواز شریف کی اقوام متحدہ میں تقریر سے پہلے بھارتی ترجمان نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پاکستانی وزیر اعظم میاں نواز شریف کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ اس لئے یہ کوئی سوال نہیں کہ پہلے ہاتھ کس نے ہلایا۔ یہ کہا گیا کہ بھارت نے تقریر سے پہلے ایک مثبت سگنل دیا ہے۔ تا کہ تقریر نرم رکھی جائے۔ اس کے بعد وزیر اعظم نواز شریف نے تقریر میں امن کی بات کی ۔ اور ایک امن فارمولہ دیا۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اپنی تقریر میں کسی ڈوزئر کا ذکر نہیں کیا۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ بھی ایک حکمت عملی کے تحت کیا گیا تاکہ بھارتی تقریرکو بھی نرم رکھا جائے۔ اگر وزیر اعظم میاں نواز شریف اپنی تقریر میں بھارت پر دہشت گردی کا الزام لگاتے تو جواب میں بھارتی تقریر بھی ایسی ہی ہوتی۔ اس لئے حکمت عملی یہی بنائی گئی کہ بھارت کو یہ تاثر دیا جائے کہ پاکستان ڈوزئر براہ راست ملاقات میں بھارت کو ہی دے گا۔

لیکن بھارتی وزیر خارجہ کی تقریر کے بعد یہ ڈوزئر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کو دے دیا گیا۔ اس طرح دونوں طرف سے سفارتی سگنلز دئیے گئے۔ اب کون جیتا کون ہارا،ا س کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا ۔ تا ہم فی الحال وقتی طور پر یہ ایک بہتر حکمت عملی ہی لگ رہی ہے۔ اور ایسا لگ رہا ہے کہ باقاعدہ حکمت عملی بنائی گئی ہے۔

اقوام متحدہ میں تمام ممالک اپنی سفارت کاری کے جوہر دکھاتے ہیں۔ یہ ایک سفارتی دنگل ہے۔ جہاں ہر پہلوان اپنی طاقت دکھا تا ہے۔ دوستیاں اور دشمنیاں واضح ہوتی ہیں۔ جس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ چین کی مخالفت میں بھارت اور جا پان اس بار اقوام متحدہ کے اجلاس میں بہت قریب نظر آئے۔ امریکہ بھی چین مخالف اس اتحاد میں پیش پیش تھا۔ بھارت اور جا پان نے اقوام متحدہ کی سائیڈ لائنز پر اس اجلاس میں چین کے خلاف کھلم کھلا مل کر ساتھ چلنے کا اتحاد کیا۔ یہ کسی حد تک پاکستان کے لئے بہتر ہے۔ کیونکہ بھارت جس قدر چین مخالف جائے گا پاکستان چین دوستی اتنی مضبوط ہو گی۔

اقوام متحدہ کے اس اجلاس میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو بھی بہت پریشان نظر آئے۔ ان کی تقریر کا لہجہ بہت جارہانہ تھا۔ لیکن ان کی تقریر کے دوران کسی نے بھی تالی نہیں بجائی۔ ایک موقع پر وہ کافی دیر انتظار بھی کرتے رہے لیکن پورے ہال میں خاموشی ہی رہی۔کوئی ان کی باتوں پر ان کو داد دینے کے لئے تیار نہیں تھا۔امریکہ بھی نہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں فلسطینی صدر محمود عباس کی تقریر کے دوران بار بار تالیاں بجائی گئیں۔ اور پورے ہال نے ان کا بھر پور استقبال کیا۔ اسرائیلی وزیر اعظم ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدہ کے خلاف چیختے رہے۔ لیکن دنیا ان کی بات سننے کے لئے تیار نہیں تھی۔ اس وقت دنیاایران کے ساتھ ہے۔ اور اسرائیل تنہا لگ رہا ہے۔اسرائیلی وزیراعظم شائد ایران کے خلاف اس وقت عالمی حمائت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو ئے۔ لیکن اسرائیلی وزیراعظم کا لہجہ اسکی پریشانی صاف ظاہر کر ہا تھا۔

پاکستان نے اب اقوام متحدہ میں بھارت کے خلاف دو شکائتیں جمع کرو ادی ہیں۔ ایک ورکنگ باؤنڈری پر دیوار کے حوالہ سے ہے۔ اور دوسری دہشت گردی کے حوالہ سے ہے۔ اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ ان شکا یات پر اقوام متحدہ کوئی ایکشن لے گی۔ یا سکیورٹی کونسل سے اس حوالے سے کوئی قرارداد پاس ہو جائے گی۔ لیکن پاکستان نے ایک مقدمہ دائر ر دیا ہے۔ جس کا چاہے فیصلہ ہو یا نہ ہو۔ لیکن کہنے کو مقدمہ اپنی جگہ موجود ہو گا۔اقوام متحدہ میں جمع کروایا جانے والا یہ ڈوزئر اب تمام دنیا میں تقسیم کیا جا سکے گا۔ ضرورت اس مر کی ہے کہ پاکستان کا دفتر خارجہ اب اس حوالہ سے سست روی کا مظاہرہ نہ کرے۔ بلکہ ایک جارحانہ حکمت عملی بنا ئی جائے ۔ ایک ماحول بنا یا جائے تاکہ عالمی سطح پر اس ڈوزئر کی اہمیت بن سکے۔ تب ہی ہمارے اہداف حاصل ہو نگے۔ ورنہ جو فائدہ حاصل ہوا ہے وہ ہاتھ سے نکل جائے گا۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...