تعلیم یافتہ خواتین……معاشرتی ترقی میں بنیادی اہمیت کی حامل !

تعلیم یافتہ خواتین……معاشرتی ترقی میں بنیادی اہمیت کی حامل !

  

 مذہب اسلام نے عورت کو مرد کے برابر مقام و مرتبہ عطا کر کے اس کی حیثیت متعین کر دی

وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ۔ خواتین معاشرے کا ایک جزو ہیں، انہی کی بدولت دنیا میں قوس قزح کے رنگ بکھیرے ہوئے ہیں، جن کے دم سے زندگی کے رنگ تازہ ہیں۔ عورت کے بغیر انسانی نسل کا استحکام اور نشوونما ناممکن ہے۔ معاشرے کی بقاء و استحکام، جسمانی و روحانی آسودگی عورت ہی کے باعث ہے۔ عورت ماں کے روپ میں بے لوث محبت و شفقت و ہمدردی اور ایثار و قربانی کی انمول داستان ہے۔ عورت بیوی کی صورت میں خلوص، وفاداری اور چاہت کا خوبصورت افسانہ ہے۔ عورت بہن کی شکل میں اللہ تعالیٰ کی بہترین نعمت ہے اور بیٹی کے روپ میں خدا کی رحمت۔ سچ تو یہ ہے کہ عورت انسانیت کی معراج ہے۔ مذہب اسلام نے عورت کو مرد کے برابر مقام و مرتبہ عطا کر کے اس کی حیثیت متعین کر دی۔ 

قرآن مجید میں تقریباً پانچ سو کے لگ بھگ مقامات پر بلاواسطہ یا بالواسطہ حصول علم کی اہمیت اور فضیلت بیان کی گئی ہے۔ پھر یہ مذہب مرد کی طرح عورت کیلئے بھی تعلیم کا حصول لازم قرار دیا ہے۔ ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے:

ترجمہ: علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے“۔(صحیح بخاری)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قرآن حکیم میں اس دعا کی ہدایت فرمائی گئی ہے: ”اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما“۔ یوں گویا بالواسطہ طور پر مسلمانوں کے لئے حصول علم کی رغبت و تعلیم دی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ عورتوں کی تعلیم و تربیت کا خاص اہتمام فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن عورتوں کی تعلیم و تربیت کے لئے بھی مخصوص فرمارکھا تھا۔ ازواج مطہرات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دین کی باتیں سیکھ کر دیگر مسلمان خواتین کو سکھاتی تھیں۔یوں دین کی تعلیم عورتوں تک بھی باقاعدہ پہنچتی رہی۔

بدقسمتی سے اسلامی تعلیمات کی ادھوری تفہیم اور انہیں معاشرتی رسوم و رواج میں خلط ملط کرنے کے باعث خواتین کو ماضی میں علوم کے آزادانہ حصول تک رسائی کا حق حاصل نہیں رہا، جس کی وجہ سے وہ نسل در نسل زیور تعلیم سے محروم رہیں۔ اگر انہیں گھر میں بھی دین کی تعلیم دی گئی تو وہ بھی اس معیار کی نہیں تھی،جس سے دین اسلام کا صحیح مفہوم انہیں معلوم ہوسکے اور وہ نئی نسل کی تربیت میں بہترین کردار ادا کرسکیں۔

 برصغیر ہندو پاک کی مسلم خواتین نے اسلام کی تعلیمات کو صحیح طرح نہ سمجھا یا انہیں سمجھایا ہی نہیں گیا اور انہوں نے مغربی تہذیب کی پیروی کرنا شروع کردی۔ جدید مغربی تعلیم مسلمان عورت کے لئے موزوں نہیں کہ یہ اسے اس کے اصل فرائض سے پہلو تہی پر اُکساتی ہے۔علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ اور کئی دیگر رہنماؤں اور شعراء نے اپنی شاعری کے ذریعے عورت کو اسلامی اقدار کے مطابق حصول علم پر اکسایا۔

 درحقیقت تعلیم ہی وہ زیور ہے جس سے عورت اپنے مقام سے آگاہ ہوکر اپنا اور معاشرے کا مقدر سنوار سکتی ہے، لیکن افسوس یہ کہ کچھ بزرگ خواتین کی تعلیم کے متعلق غلط فہمی رکھتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ تعلیم صرف لڑکوں ہی کو دینا ضروری ہے۔ تعلیم صرف روزگار کے لئے چاہئے۔ اس میدان میں صرف مردوں کو آنا چاہئے۔ عورتیں صرف باورچی خانے کے لئے پیدا ہوئی ہیں اور ان کی زندگی باورچی خانے سے شروع ہوکر دستر خوان پر ختم ہو جاتی ہے،لیکن اس طرح کی باتیں کسی صورت درست نہیں۔ خواتین بھی انسان ہیں۔ علم کی روشنی انسان کو جینا سکھاتی ہے۔ مرد اور عورت زندگی کی گاڑی کے دو پہئے ہیں۔ اگر ایک پہیہ تعلیم میں آگے ہو اور دوسرا پنکچر ہو تو زندگی کا چکر تیز رفتاری سے نہیں چل سکتا اور گاڑی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتی۔ کوئی معاشرہ یا قوم اس وقت تک ترقی کی شاہراہ پر گامزن نہیں ہوسکتی جب تک مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی زیور تعلیم سے آراستہ نہ کیا جائے۔

کسی دانا کا قول ہے کہ ماں کی گود بچے کی پہلی درس گاہ ہے۔ بچہ جو کچھ اس درس گاہ سے سیکھتا ہے وہ اس کی آئندہ زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ بچے کی بہترین تربیت کے لئے ماں کا تعلیم یافتہ ہونا بہت ضروری ہے۔ مفکرین کی مطابق:”مرد کی تعلیم ایک فرد کی تعلیم ہے، جبکہ عورت کی تعلیم ایک خاندان کی تعلیم ہے“۔ نپولین کا قول ہے:”آپ مجھے اچھی مائیں دیں، میں آپ کو بہترین قوم دوں گا“۔ یہ حقیقت ہے کہ ہر کامیاب شخص کے پیچھے کسی عورت کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے۔انگریزی زبان میں اس کا مفہوم یوں ادا کیا گیا ہے ”جو ہاتھ جھولا جھولاتا ہیں۔ یقینا وہی ہاتھ اس دنیا پر راج کرتاہے“۔ علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ کے فارسی شعر کا مفہوم ہے: ”قوموں کو کیا پیش آ چکا ہے؟ کیا پیش آ سکتا ہے؟ اور کیا پیش آنے والا ہے یہ سب ماؤں کی جبینوں سے دیکھا جاسکتا ہے“۔

گھر کی مثال ایک چھوٹی سی سلطنت جیسی ہے، جس میں خاوند بادشاہ اور بیوی اس کی وزیر ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ بادشاہ تنہا اپنی سلطنت کا انتظام نہیں سنبھال سکتا۔ اسے لازماً اپنے وزیر سے بھی مدد لینا پڑتی ہے۔ بادشاہ خواہ کتنا ہی منظم اور لائق کیوں نہ ہو اگر اس کا وزیر عقل مند اور مدبر نہیں ہو گا تو وہ سلطنت کے امور میں بادشاہ کو صحیح مشورے نہیں دے پائے گا اور ایسی سلطنت بدنظمی کا شکار ہوکر رہ جائے گی۔ گھریلو سلطنت کے انتظام کو چلانے کے لئے عورت کا تعلیم یافتہ ہونا انتہائی ضروری ہے۔

 کسی بھی گھر کا نظام درست انداز میں چلانے کے لئے گھر کا بجٹ بنانا بہت ضروری ہے۔ ایک پڑھی لکھی عورت گھر کا حساب کتاب اچھے طریقے سے کرتی ہے۔ وہ کفایت شعار ہوتی ہے۔ وہ قرینے اور تربیت سے گھر کا نظام چلاتے ہوئے کچھ رقم بچا بھی لیتی ہے جو کہ مصیبت میں اس کے کام آتی ہے،جبکہ ان پڑھ جاہل عورت ایسا نہیں کر سکتی۔ وہ حساب کتاب درست انداز میں نہیں کر سکتی۔ قدم قدم پر ٹھوکریں کھاتی ہے۔ مہینے کے آخر میں گھر میں جھگڑے ہوتے ہیں، جس کا منفی اثر معصوم بچوں کے ذہنوں پر پڑتا ہے۔ ایسی ماؤں کے بچے مفید شہری بننے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یوں وہ ملکی ترقی میں مثبت کردار بھی ادا نہیں کر سکتے۔بچوں کی مختلف بیماریوں سے حفاظت اور صحت مندی کے لئے یہ ضروری ہے کہ ماں حفظان صحت کے اصولوں سے پوری طرح آگاہ ہو اور یہ علم کے ذریعے ہی ہوسکتا ہے۔ پڑھی لکھی عورت ان اصولوں سے باخبر ہوتی ہے۔ وہ گھر کے ماحول کو صحت مند رکھ سکتی ہے، لیکن ایک جاہل عورت صحت و صفائی کے اصولوں سے بے خبر ہوتی ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ غیر صحت مندانہ ماحول سے بچے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

مذہب کو انسانی زندگی میں خاص مقام حاصل ہے۔مذہب کی بنیادی تعلیمات اور اہم مسائل سے آگاہی مرد کے ساتھ ساتھ عورت کے لئے بھی اشد ضروری ہے۔ دین ہی وہ کامیاب راستہ ہے، جس پر چل کر انسان دنیوی و اخروی زندگی کو کامیاب و کامران بناسکتا ہے۔ پڑھی لکھی عورت مذہبی و دینی تعلیمات اور وسائل سے اچھی طرح آگاہ ہوتی ہے تاکہ وہ اپنی اولاد کی تربیت دینی اصولوں کی روشنی میں بہتر انداز میں کرسکے، اسی طرح ملک و ملت کی تقدیر سنور سکتی ہے، لیکن ایک جاہل عورت دین و مذہب کی تعلیمات سے نا آشنا ہوتی ہے۔ وہ غیر سلیقہ شعار ہوتی ہے۔ وہ بچوں کی تعلیم و تربیت کے فرائض بھی اچھے طریقے سے ادا نہیں کرسکتی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ”بچے کا ذہن ایک شفاف سلیٹ کی مانند ہے جو اس پر لکھ دیا جائے، اسے مٹایا نہیں جاسکتا“۔

موجودہ دور سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ دنیا ایک عالمی گاؤں میں تبدیل ہوچکی ہے۔ اب وہی قوم یا ملک اس جہاں پر حکمرانی کرسکتا ہے جو علم اور ٹیکنالوجی میں آگے ہو گا۔ اگر کسی ملک کی نصف آبادی، یعنی خواتین پسماندہ ہوں گی تو وہ قوم کبھی ترقی نہیں کرسکتی۔ لہٰذا عورتوں کے لئے تعلیم کا حصول اور معلومات عامہ کا جاننا بہت ضروری ہوچکا ہے۔ آج کی دنیا نہایت تیز رفتاری کے ساتھ ترقی کی منازل طے کررہی ہے۔ اس لئے ایک پڑھی لکھی عورت ہی اس نئے ماحول سے مطابقت پیدا کرسکتی ہے۔ایک تعلیم یافتہ عورت اپنا مافی الضمیر آسانی سے دوسرے تک پہنچاسکتی ہے۔ وہ اپنی رائے کا اظہار بہتر طریقے سے کرسکتی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ عورت ملک کی ترقی کے لئے اپنا کردار بہتر طریقے سے ادا کرسکتی ہے۔ وہ اپنے خاندان اور معاشرتی ذمہ داریوں سے آگاہ ہوتی ہے، جبکہ غیر تعلیم یافتہ عورتیں مفید شہری ثابت نہیں ہو سکتیں۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -