ابھی ترے امتحان اور بھی ہیں 

 ابھی ترے امتحان اور بھی ہیں 
 ابھی ترے امتحان اور بھی ہیں 

  

حورین کا برانڈڈ ڈریس، گلاسز، شوز اور سکول کا بیگ دیکھ کر کچھ بچیاں قدرے حیرت کا اظہار کرتیں کہ سکول کے گیٹ پر جب اس کے پاپا اپنے پرانے سے موٹر سائیکل پر اسے چھوڑنے آتے ہیں تو ان کی  موٹر سائیکل اور پاپا کی حالت دیکھ کر نہیں لگتا کہ وہ ایسے برانڈڈ پروڈکٹس خریدنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں لیکن منہ زور حورین کی ڈانٹ کے خوف سے بہت سی ہم جماعت بچیاں خاموش ہو جاتیں۔

حورین نے فری پریڈ میں زور کا نعرہ لگایا کہ میں نے تو سوشل میڈیا پر امتحانات ملتوی کرنے کی پوسسٹس کر رہی ہوں اور اس گروپ کا حصہ بھی ہوں جو فیک ٹرینڈز چلاتا ہے، سب بچیاں شام پانچ بجے اس گروپ کو جوائن کر یں اور امتحانات مستردکےٹرینڈمیں شامل ہوجائیں۔مجھےحیرت اُس وقت ہوئی جب بہت سی ہم جماعت طالبات نے حور ین کا ساتھ دینے کا وعدہ بھی کر لیا۔

میں سوچ میں پڑ گئی کہ حورین اوراس جیسی کتنی بچیوں کے ماما پاپا دن رات محنت کرتے ہیں، اپنی خواہشات کا گلہ گھونٹ کر بچوں کی ہر خواہش پوری کر رہے ہیں لیکن یہ بچے ہیں کہ پڑھائی کا نام ہی نہیں لے رہے ۔ کورونا کے باعث ڈیڑھ سال سے سکول بند ہیں، اب حکومت نے جب امتحان لینے کا اعلان کیا ہے تو طلباء نے امتحانات ملتوی کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ طلباء  کہتے ہیں کہ امتحان کی تیاری نہیں ہے اس لئے مزید وقت دیا جائے، اسی طرح انٹرنیٹ کی بہترین سہولت نہ ہونے سے آن لائن  پڑھائی نہیں ہو سکی لیکن دوسری جانب حکومت نے اتنی بڑی سہولت دی ہے کہ نویں سے بارہویں جماعت کے لئے صرف اختیاری مضامین کے امتحانات کا اعلان کیا ہے اور یہ فیصلہ بھی چاروں صوبوں اور وفاقی اکائیوں نے مل کر کیا ہے۔

اسی طرح مزید وقت مانگنے والے طلباء اگر خدانخواستہ کسی ایک مضمون میں فیل بھی ہو جائیں تو وہ سپلیمنٹری امتحان میں شرکت کرسکتے ہیں لیکن سوال یہ ہےکہ جن طلباء نے ڈیڑھ سال کتاب کھول کر نہیں دیکھی، وہ ایک یا دو ماہ میں کیسے تیاری کر لیں گے؟  سوچنے کا مقام ہے کہ اگر اب بھی امتحانات نہ ہوں گے تو بچوں کا مستقبل کیسا ہوگا؟ فرض کریں حکومت امتحان کے بغیر بچوں کو پروموٹ کر بھی دیتی ہے پھر کبھی ان بچوں نے سوچا کہ عملی زندگی میں کیا کریں گے؟ امتحانات نہ لینے کا مطلب یہ ہوا کہ جو تھوڑی بہت پڑھائی ہونی بھی تھی، وہ بھی نہیں ہوگی۔ 

کورونا وائرس کے خطرے نے ہمارے نظامِ تعلیم کو شدید متاثر کیا ہے۔ ہم دنیا کے ایک ایسے حصے میں رہتے ہیں جہاں ہنگامی حالات کوئی نئی بات نہیں بلکہ اب تو ہم ان حالات کے اتنے عادی ضرور بن گئے ہیں کہ ان حالات میں بھی کسی نہ کسی طرح اپنے مسائل کا حل نکال ہی لیتے ہیں تاہم اس بار صورتحال کچھ مختلف ہے کیونکہ یہ حالات ہمارے نظامِ تعلیم کے لیے آزمائش بن کر آئے ہیں۔ اس معاملے کا ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ ان گنت طلباء نے دن رات محنت کی ہے، اب اگر امتحانات نہیں ہوں گے تو  ذہین اور محنتی طلباء کے ساتھ ناانصافی کا ذمہ دار کون ہوگا؟ اس لئے میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ طلبا کے امتحانات کے نام  پر تنازعات نہ کھڑے کئے جائیں اور احتجاجی طلباء کے حامی سیاست دانوں کو بھی حالات کی نزاکت سمجھنی چاہیں اور ایسے مطالبات کے حق میں ٹویٹس نہ کئے جائیں جس سے نالائق طلبا کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

 دنیا میں یہ مسلمہ اصول ہے کہ امتحانات ہی طلباء کی قابلیت جانچنے کا پیمانہ ہیں، اگر یہ امتحانات نہ ہوں تو ایک دوسرا تعلیمی سال بھی برباد ہو جائے گا۔پھر آن لائن پڑھائی اچھی نہ ہونے اور انٹرنیٹ کی سپیڈ کا گلہ کرنے والے طلباء سے پوچھنا چاہیئے کہ پوری رات نیٹ فلیکس اور فیس بک پر تو انٹرنیٹ سپیڈ کی ان کو شکایت  نہیں ہوتی تو پھر پڑھائی کی تیاری میں مسئلہ کیوں ہے؟ اس لئے طلباء کو احتجاج اور سڑکوں پر رونا دھونا کرنے کے بجائے پڑھائی پر توجہ دینی چاہیئے۔ گذشتہ سال سکول بند رہنے سے تعلیم کا بہت نقصان ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ بچوں کی اس ہٹ دھرمی کی وجہ کیا ہے؟ کیا والدین ان کی ان تمام حرکتوں سے لاعلم ہیں؟ اور ان کی ذمہ داری کیا ہے؟ 

والدین کو بھی ہر وقت یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ بچے کی تعلیمی کامیابیوں کے لئے اس کے اساتذہ کرام کی کوششوں کےساتھ ساتھ ان کی اپنی عملی شمولیت بھی از حد ضروری ہے۔اساتذہ کے ساتھ مسلسل رابطہ قائم رکھا جائے تا کہ وہ اس بات سے آگاہ ہو سکیں کہ کمرہ تدریس میں ان کے بچے کا عمومی رویہ کیا ہوتا ہے ۔ والدین دوستانہ روّیہ اپناتے ہوئے وجہ جاننے کی کوشش کریں تا کہ اسکی راہنمائی کے لئے راستہ متعّین کرنے میں آسانی ہو اور ان کو یہ بھی علم ہو کہ کس پہلو پر محنت کرنے کی زیادہ ضرورت ہے ۔

والدین کوچاہیےکہ روزانہ بچےکی کتابیں اورکاپیاں چیک کریں اوراگرکسی کاپی پراستاد کی جانب سےکوئی ہدایت درج ہو تو اس پر عمل کروایا جائے۔ جس حد تک ممکن ہو بچےکاہوم ورک والدین یا تعلیم یافتہ بڑے بہن بھائی خود کرائیں ۔۔والدین کو یہ بھی چاہیے کہ وہ اس با ت کے انتظار میں نہ رہیں کہ کب بچےّ کے استاد کا پیغام ملتا ہے تاکہ وہ جا کر اس کو مل سکیں بلکہ جب بھی مہینے میں ایک دو بار فرصت ہو اور موقع ملے تو سکو ل جا کر استاد کو مل لیا جائے۔

دنیا کے ٹاپ فیشن ہاؤسز کی بنیاد رکھنے والے مشہور فرینچ ڈیزائنر کرسچن ڈی اَور نے کہا تھا،" حقیقی شائستگی کا راز عمدہ تربیت ہے، بیش قیمت ملبوسات، حیران زیبائش اشیاء اور خیرہ کن حسن کی عمدہ تربیت کے مقابل کوئی حیثیت  نہیں"

(زینب وحید ماحولیاتی تبدیلی کیلئے کام کرنے والی معروف سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اور کیمرج کی طالبہ ہیں۔ وہ صف اول کی مقررہ،مصنفہ اورمتعددشہرت یافتہ اداروں کی سفیربھی ہیں زینب وحید لمز جیسے تعلیمی ادارے میں لڑکیوں کی تعلیم کی سفیر بھی ہیں۔ زینب وحید مضمون نویسی کے متعدد بین الاقوامی مقابلے بھی جیت چکی ہیں جس کے بعد انہیں اقوام متحدہ کی یوتھ سمٹ میں شامل کیا گیا ہے۔زینب وحید سے رابطے کے لئے ان کے فیس بک اور ٹویٹر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

twitter.com/UswaeZainab3

facebook.com/uswaezainab.official)

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -