”کمزوری! تیرا دوسرا نام مردانگی ہے“

”کمزوری! تیرا دوسرا نام مردانگی ہے“
”کمزوری! تیرا دوسرا نام مردانگی ہے“

  

اشتہار بازی وہ غیر یقینی کاروبار ہے جس کے بارے میں بڑے یقین سے کہا جاتا ہے کہ اس کے بغیر کوئی بھی کاروبار نہیں کیا جا سکتا ، تاہم ضروری نہیں کہ یہ ملٹری ایکشن کی طرز کا متوقع طور پر غیر متوقع منصوبہ کام بھی دے، نیز یہ وضاحت ہونا بھی باقی ہے کہ کس کا کام نہیں چل سکتا؟ کوئی نہیں کہہ سکتا ہے کہ کب کوئی اشتہاری مہم کامیابی سے ہمکنار ہو گی اور کب کوئی کمپنی بھاری رقوم سمیٹ کرغائب ہو جائے گی۔ ان اشتہاری مہمات میں استعمال ہونے والے بھڑکیلے جملوں کی بدترین مثال گزشتہ دسمبر میں ہونے والی پاک بھارت کرکٹ سیریز ، جس کو زیادہ تر بھارتی براخواب سمجھ کر بھول جانا چاہتے ہیں، کے دوران چلائی جانے والی اشتہاری مہم تھی۔ اس کو دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ دو حریف ممالک کے درمیان کھیل کامیدان نہیں سج رہا، بلکہ یہ 1739ءہے اور نادر شاہ درانی ، جن کا محبوب مشغلہ قتل وغارت تھا، دہلی میں کسی روز ِ روشن میں دخل اندازی فرمانے والے ہیں ۔ اس کے برعکس سب سے بہترین اشتہاری مہم جو میں نے کبھی دیکھی ہو، وہ خواتین کے کرکٹ مقابلے کے حوالے سے تھی۔ ان اشتہارات میں آدمیوں کو نہایت دل خوش کن طریقوںسے گفتگو کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور ہر کوئی خوش اور مطمئن ہے۔ اس میں کوئی راز کی بات نہیں ہے کہ ایسا کیوں تھا؟.... وجہ یہ ہے کہ خواتین کرکٹ ٹیموںکے مقابلے بہت خوش اسلوبی سے منعقد ہوئے، کیونکہ ایجنسی کو ان کی کامیابی کا یقین تھا اور یہ کامیابی محض فنڈز جمع کرنے تک ہی محدود نہیں تھی۔ 

خواتین کی کرکٹ ٹیموںکے مقابلے کافی دیر سے ہورہے ہیں۔ شروع میں تو ان کو بری طرح نظر انداز کیا گیا، لیکن پھر عوامی پذیرائی ملنا شروع ہو گئی۔ اب یوں لگتا ہے کہ خواتین کرکٹ کا تصور حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔ اسے کھیل کود کی دنیا کا تیسرا بڑا انقلاب قرار دیا جا سکتا ہے، جس نے معاشرتی قدروں کی عکاسی کی ہے۔ پہلا انقلابی قدم و ہ تھا جب برطانیہ میں ”پیشہ ور “ کھلاڑیوں اور شوقیہ کھیلنے والے ”معززین“ کی ایک ہی درجہ بندی کی گئی۔ آج اس بات کی آسانی سے تفہیم نہیںکی جا سکتی، کیونکہ آج کھیل کود سے پیسہ کمانے میں کوئی عار محسوس نہیں کیا جاتا، لیکن کبھی کھیل میں مہارت کو مالی فوائد کے لئے استعمال کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔کبھی شرفا اور پیشہ ور کرکٹروں کے میدان میں داخلے کے لئے الگ دروازے ہوتے تھے، لیکن اس انقلابی تبدیلی ، جس کا میں ذکر کر رہاہوں، کے لئے عظیم جنگوںکی ضرورت تھی....چنانچہ لڑی گئیں ، اور ایک نہیں دو۔ بیسویں صدی میں انسان نے شرفا کی شرافت کا جھوٹا معیار ختم کرنے کے لئے دو جنگیں لڑیں اور اس کام کے لئے اس سے کم کاوش درکار بھی نہیں تھی۔ اُس وقت شرفا ریشم کے مفلر پہنتے اور اس زعم میں ڈوبے رہتے کہ وہ ممتاز اس لئے ہیںکہ اُنہیں روزی کمانے کے لئے کم تر طریقے (محنت وغیرہ) نہیں اپنانا پڑتے۔ ایسے لوگ نواب اور لارڈ ز کہلاتے تھے۔ آج کھیل کود کی اقدار مختلف ہیں۔ آج کھلاڑیوں کے چناﺅ کے لئے خاندانی نام کی بجائے میرٹ اور صلاحیت دیکھی جاتی ہے۔ آج دولت کی دیوی کامیابی کے معبد کی بچارن ہے اور کامیابی بذات ِ خود کسی ذات کو نہیں جانتی۔دوسرے انقلاب نے پاکستان اور بھارت کے میدانوں کا رُخ کیا اور ان کو فکری بلوغت عطا کی۔ اس کے نتیجے میں چھوٹے چھوٹے شہروں ، قصبوں، دیہاتوں ، گلیوں ، کوچوں سے ایک نئے پاک و ہند نے جنم لیا.... ایک حقیقی دنیا ابھر کر سامنے آئی ۔ یہاںسے اٹھنے والے درمیانے طبقے کے سامنے کامیابی کے بہت سے دروازے کھلنے لگے۔ اس سے پہلے صرف شہروں میں بسنے والے اشراف کے پاس ہی نام و نسب تھا، لیکن اب کچھ اور لوگ ، جو بڑ ے خاندانوںسے نہیں تھے، اشراف کے کندھے سے کندھا ملائے کھڑے تھے اور یہ لوگ چور دروازوںسے نہیں آئے تھے.... یہ لوگ تیز باﺅلر بھی تھے اور ماہر بلے باز بھی۔ ابتدا میں کرکٹ صرف ایک تفریح تھی اور اس نے جنون کا روپ اختیار نہیں کیا تھا، لیکن اس نے حریفوں کو شکست دینے کے جذبے کے ساتھ ساتھ دولت کی دیوی کو خود پر اس طرح مہربان کر لیا کہ آج عام کرکٹر بھی اتنی بڑی رقم کما لیتے ہیں، جس کا ماضی کے دولت کے پجاری بھی خواب نہیں دیکھ سکتے تھے۔ اگر کوئی نجومی دس سالہ ایم ایس دھونی کے والدین کو بتاتا کہ یہ لڑکا بڑا ہو کر اتنا دولت مند بن جائے گا، جتنا وہ آج ہے تو وہ شاید اپنی تمام جمع پونچی خرچ کرکے چائے کا ایک عمدہ کپ خرید کر دے دیتے اور اُسے کہتے کہ وہ کچھ بھی کرنے کے لئے آزاد ہے۔ ایم ایس دھونی کا نام صرف ایک مثال کے لئے استعمال کیا ہے، ورنہ بہت سے دیگر کھلاڑی بھی انہی راہوں سے گزرے ہیں اور دھونی تو یوسف اور عرفان پٹھان سے مالی طور پر خوشحال خاندان میں ہی پیداہوئے تھے۔ 

خواتین کرکٹ نے خواتین کے بارے میں بہت سے تصورات کو تبدیل کر نے میں مدد دی ہے۔ ایک وقت تھا جب آدمی خواتین کو طنزیہ طور پر ” صنف ِ نازک “ کہہ کر پکارتے تھے، حتیٰ کہ عظیم شیکسپیئر بھی کہہ اُٹھا .... ”کمزوری، تیرا دوسرا نام عورت ہے“....آدمی عورتوں کو صنف ِ نازک جمالیاتی ذوق سے مرغوب ہو کر نہیں کہتے تھے، بلکہ اس لئے کہ وہ جسمانی قوت اور صلاحیتوں میں اُن سے کمتر تھیں۔ تاہم اب حقائق کچھ اور کہانی سناتے ہیں.... مثال کے طور پر زچگی کے دوران ہونے والی تکلیف کو برداشت کرنے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہو سکتا ہے کہ آدمی کے پٹھے مضبوط ہوں، لیکن عورتوں کا دماغ اور اعصاب زیادہ قوی ہوتے ہیں، تاہم خواتین کی یہ وکالت ادھوری کہانی بیان کرتی ہے۔ اس مردانہ حاکمیت کی دُنیا میں عورتیں شروع سے ہی مظلومیت کا شکار ہیں اور آدمی جھوٹی اخلاقیات کے پیمانے بنا کر اُن کو اپنا ماتحت بنائے ہوئے ہے، تاہم آج کھیل کود نے خواتین کو استیصال سے نجات دلا دی ہے۔ اس نے ”کمزور اور طاقتور “ کے مروجہ پیمانوں کو بدل دیا ہے۔ شاید ہم نے بھارت میںیہ بات محسوس نہیں کی، اگر چہ بھارتی لڑکیاں ٹراﺅزر یا جینز پہنتی رہی ہیں،لیکن اب پاکستانی لڑکیوں کا کھیل کے میدان میں اس لباس میں جانا کیا کسی انقلاب سے کم ہے؟شاید بہت سے ہندوستانی نہیں جانتے کہ پاکستان کے ایک سابقہ فوجی حکمران جنرل ضیاءالحق کے دور میں کچھ بنیاد پرستوںکی طرف سے یہ مطالبہ بھی سامنے آیا تھا کہ ٹی وی پر کرکٹ میچ دکھانے پر پابندی لگائی جائے، کیونکہ نہایت وجیہہ ”نوجوان “ عمران خان سرخ گیند کی چمک بڑھانے کے لئے اسے اپنے سفید ٹراﺅزر(اُس وقت رنگین کا رواج نہیںتھا) کے سامنے جب نہایت معیوب انداز میں رگڑتے ہیں تو گھروں میں موجود خواتین اس ”قبیح فعل “ کو دیکھ رہی ہوتی ہیں....(شکر ہے ضیا دور میں وقار یونس نہیں تھے، ورنہ)....۔ اُس وقت سے لے کر آج تک کتنا زمانہ بدل گیا ہے۔ ہمیںتبدیلی کے اس سفر کو خراج ِ تحسین پیش کرنا چاہئے۔ ہزاروں لبرل افراد کی تقاریر یا مضامین بھی پاکستان کا وہ روشن چہرہ اجاگر نہیں کر سکتے تھے جو کرکٹ نے کیا ہے۔ بہت سے ممالک ”اخلاقی بنیادوں ” پر خواتین کو اولمپک کھیلوں میں نہیں بھیجتے ، کیونکہ اُن کے ہاں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ نوجوان لڑکیوں کو دیکھ کر غیر اخلاقی جذبات بھڑک اُٹھتے ہیں۔ میرا خیا ل ہے کہ عورتوں کو کھیل کود سے دور رکھنے کا اس سے زیادہ بیہودہ جواز کوئی نہیں ہو سکتا ۔ اپنے چہرے اور صلاحیتوں کا اظہار فحاشی کے زمرے میں نہیںآتا۔ ہم اپنی عورتوں کو آدمیوںسے کم تر کیوں سمجھتے ہیں.... اس صورت میں تو آدمی کمزور ہے، کیونکہ یہ وہ ہے جو اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکتا۔ اس کا مطلب ہے اصل ”صنف ِ نازک “ آدمی ہے نہ کہ عورت۔ نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں ری پروڈکشن کی اجازت نہیں ہے۔  ٭

مزید :

کالم -