پنجاب اری گیشن اینڈ ڈرینج اتھارٹی

پنجاب اری گیشن اینڈ ڈرینج اتھارٹی
پنجاب اری گیشن اینڈ ڈرینج اتھارٹی

  

پاکستان میں نہری نظام کی بہتری، نہری پانی کے بہتر استعمال، ملک و قوم کو اشیائے خورونوش کی وافر فراہمی، بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر زراعت کے شعبے میں بہتری، فی ایکڑ پیداوار میں اضافے ،سماجی ترقی، غربت کے خاتمے اور دیہی و شہری ترقی میں انقلاب لانے کی خاطر حکومت پاکستان نے عالمی اداروں کے کہنے پر آبپاشی اور نہری نظام کو پرائیویٹ کرنے کا منصوبہ بنایا، جس کے بعد اس وقت کے صدر مملکت نے اس وقت کے وزیراعظم پاکستان اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ایک مکمل بحث اور تحقیق کے بعد فیصلہ کیا کہ ملک کا موجودہ نہری نظام مستقبل کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے، جسے جدید خطوط پر استوار کرنے اور کسانوں کو اس نظام میں باقاعدہ شامل کرنے سے نظام بہتر طریقے سے چلایا جا سکتا ہے۔اس نئے نظام کے تحت صوبائی محکمہ نہر(Provincial Irrigation Department) کو تبدیل کرکے پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ میں تبدیل کیا جائے، جس سے نہر کا محکمہ مرحلہ وار ایریا کے کسانوں، زمینداروں کے حوالے کیا جائے، تاکہ وہ اس نظام کو اپنی ضرورت کے مطابق بہتر طریقے سے چلائیں، لہٰذا ایک آرڈیننس کے ذریعے جنوری 1997ءمیں صوبائی اریگیشن اینڈ ڈرینج اتھارٹی عمل میں لائی گئی، جسے بعد میں تمام صوبوں کی اسمبلیوں نے ایریگیشن ایکٹ کی شکل میں منظور کیا،جس کے تحت صوبائی محکمہ اریگیشن (انہار) کو تبدیل کرکے پنجاب میں اس کا نام پیڈا۔ خیبرپختونخوا میں ،فداسندھ میں سدااور بلوچستان صوبہ میں بداکے نام سے ایک خود مختار اور آزاد ادارے کا قیام عمل میں آیا،جس کا واحد مقصد نہری نظام کی بہتری تھا،تاکہ ملک کی بڑھتی ہوئی غذائی ضروریات کو پورا کیا جا سکے، جس میں پنجاب کا اہم کرادر ہے۔ پنجاب چونکہ ملک بھر کا اناج گھر ہے، جو غلہ پیدا کرکے دوسرے صوبوں کی غذائی ضروریات بھی پوری کرتا ہے۔ پنجاب میں ترقی کا فائدہ براہ راست دوسرے صوبوں کو بھی ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہیے۔نئے اور پرائیویٹ نہری نظام کے لئے حکومت پاکستان نے عالمی اداروں سے بھی مدد کی اپیل کی۔حکومت کی اس اپیل پر جاپان کے ایک ادارے، ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک نے تعاون کیا اور فی الحال کررہے ہیں۔مثال کے طور پر جاپانی ادارہ جائیکا نے 17804ملین روپے دیئے۔لوئر باری دواب کینال کی بہتری کے لئے ایشیائی ترقیاتی بینک نے 17178ملین روپے امداد کی۔ورلڈ بینک کے اشتراک سے جناح بیراج اور اسلام ہیڈ ورکس(دریائے ستلج) کی ری ماڈلنگ کے لئے 8ارب روپے فراہم کئے۔

صوبہ پنجاب میں کسانوں اور زمینداروں کو نئے نہری نظام میں شامل کرنے کے لئے ادارہ جاتی اصلاحات پروگرام کے تحت سب سے پہلے لوئر چناب کینال (مشرقی) سرکل فیصل آباد میں پائلٹ بنیادوں پر ایریا واٹربورد قائم کیا گیا۔فیصل آباد میں 2005ءمیں کل 85کسان تنظیموں کو ہر چھوٹی بڑی نہر کی سطح پر نہری نظام میں شامل کیا گیا۔ان کسان تنظیموں کو الیکشن کے ذریعے کسانوں نے تین سال کے لئے منتخب کیا۔اس وقت تک پنجاب کے 5سرکلوں میں یہ نیا نہری نظام مکمل ہوچکا ہے،جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:1۔لوئر چناب کینال مشرقی سرکل(فیصل آباد) جس میں گوجرانوالہ،حافظ آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور شیخوپورہ کے اضلاع شامل ہیں۔2۔لوئر چناب کینال مغربی سرکل جس میں جھنگ، ننکانہ صاحب اور چنیوٹ کے اضلاع ہیں۔3۔لوئر جہلم کینال سرکل سرگودھا۔4۔بہاولنگر کینال سرکل۔5۔ڈی جی خان، تونسہ ،راجن پور سرکل۔پیڈا کا تنظیمی ڈھانچہ کچھ یوں ہے:1۔ کھال پنچائت، موگہ جات کی سطح پر۔2۔کسان تنظیم(فارمرز آرگنائزیشن Fo) نہر، راجباہ کی سطح پر۔3۔ایریا واٹر بورڈ (AWB)مین کینال سسٹم۔4۔سیکرٹری آبپاشی صوبہ پنجاب۔5۔ایم ڈی پیڈا صوبہ پنجاب۔6۔چیئرمین پیڈا صوبائی وزیرآبپاشی۔7۔نامزد کسان ممبرز جنہیں وزیراعلیٰ نامزد کرتا ہے۔اوپر بیان کی گئی نئی نہری تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقے میں انصاف کی بنیاد پر ہر کسان کو اس کے حصے کا پانی مہیا کریں،بھل صفائی کا بندوبست کریں،نہروں کے پشتے مضبوط کریں اور پانی کی وافر سپلائی کے لئے صاف اور شفاف منصوبے بنائیں۔نہری پانی کی چوری اور ضیاع کو روکیں اور نہری نظام میں کرپشن کو کنٹرول کریں۔آبپاشی کے جدید طریقے اپنائیں، جس سے کم پانی سے زیادہ زرعی پیداوارحاصل ہو سکے، مثلاً ڈرپ اریگیشن ،سپرنکل سسٹم وغیرہ ۔کسانوں سے کھال کی بنیاد پر آبیانہ اکٹھا کریں، جو ماضی میں محکمہ مال اکٹھا کرتا تھا ....اور جو آبیانہ اکٹھا ہو ،اس میں سے 50فیصد صوبائی خزانے میں جمع کروائیں، بقیہ 50فیصد نہری نظام کی بہتری اور تنظیم کے اخراجات پر لگائیں۔جہاں تک آبیانہ اکٹھا کرنے کا تعلق ہے ، اس میں تو نئے نظام کے تحت کافی بہتری آئی ہے، جو کہ مندرجہ ذیل چارت سے واضح ہے۔(چارٹ کالم کے آخر میں ملاحظہ فرمائیں)کالم کے آخر میں دیئے گئے چارٹ میں درج اعدادوشمار کی روشنی میں نیا نہری پرائیویٹ نظام ایک بہترنظام ہونا چاہیے تھا، لیکن میرے حساب سے یہ ایک عالمی سازش ہے، جس کے تحت پاکستان اور پنجاب کے نہری نظام کو پرائیویٹ کرکے مکمل تباہی تک لانا مقصود ہے، تاکہ پاکستان کو خوراک کے معاملے میں بھی عالمی طاقتوں کے تابع لایا جا سکے۔یہ مَیں اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں، کیونکہ میرا تعلق دیہات سے ہے اور مَیں خود زراعت کے شعبے سے منسلک ہوں۔مَیں اپنے ضلع اور نہر کی حد تک یقین کی حد تک کہہ سکتا ہوں کہ پیڈا کے نظام سے نہری نظام میں بہتری کی بجائے ابتری آئی ہے۔جو لوگ اس نئے نہری نظام کے لئے کسانوں سے چنے گئے ہیں، وہ متعلقہ ضلعوں اور تحصیلوں میں موجود کرپٹ حاضر و سابق ایم این ایز، ایم پی ایز حضرات کے نمائندے ہیں اور وہ حکومتی دھونس دھاندلی اور اثرورسوخ سے منتخب کروائے گئے ہیں۔ان نئے نمائندوں نے نہری نظام میں موجود پرانی کرپشن کو ختم کرنے کی بجائے اس میں 100فیصد اضافہ کیا ہے۔پانی کی سپلائی کے لئے نہروں پر موجود موگہ جات(Out lets)ہیں، ان میں بے شمار بے قاعدگیاں ہورہی ہیں، پہلے کسان سے پانی چوری کے لئے محکمہ انہار والے جو رشوت لیتے تھے، اس سے اب کم از کم ڈبل رشوت لی جاتی ہے، کیونکہ نئے نمائندے اپنے الیکشن کے اخراجات پورے کررہے ہیں اور نئے الیکشنوں کے لئے مزید پیسے اکٹھے کرنے کی سوچ موجود ہے، اس کے علاوہ 50فیصد آبیانے کی رقم جو ان نئے نمائندوں کی صوابدید پر منحصر ہے، وہ کھالوں، نہروں کی بہتری کی بجائے نمائندے اپنے لئے گاڑیاںخریدنے اور اپنی ذات پر خرچ کررہے ہیں۔پیڈا کا نظام تھیوری کی حد تک تو کافی بہتر تھا، لیکن ملک میں موجود کرپٹ حکمرانوں کے ہوتے ہوئے فی الحال اس میں کسی بہتری کی امید نہیں،شائد آنے والے وقتوں میں کوئی بہتر حکومت آ جائے تو پیڈا کا نظام بھی بہتر ہو جائے۔ ٭

مزید :

کالم -