آرمی ایکٹ کا ترمیمی بل

آرمی ایکٹ کا ترمیمی بل

  



آرمی ایکٹ میں ترمیم کے لئے قومی اسمبلی میں بل پیش کر دیا گیا ہے۔ مسودے اور تجزیہ کے مطابق قوانین میں بھی اسی طرح کی ترمیم تجویز کی گئی ہے اس لئے یہ تین بل بن گئے ہیں لیکن بنیادی طور پربل ایک ہی ہے۔ ایک روز پہلے اس کی منظوری وفاقی کابینہ نے دی تھی، توقع ظاہر کی جا رہی تھی کہ آج ہی اسے منظور کرکے سینٹ میں پیش کر دیا جائے گا۔لیکن اب اسے دفاع کی قائمہ کمیٹی کو ریفر کر دیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ دونوں ایوان(قومی اسمبلی+ سینٹ) کی کمیٹیوں مشترکہ اجلاس میں یہ بل زیر بحث آئے گا۔ اس کے بعد اسے یکے بعد دیگرے دونوں ایوانوں میں پیش کر کے منظور کرایا جائے گا۔ وزیراعظم کے اس اختیار کو کہ وہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع (یا دوبارہ تقرر)کر سکتے ہیں، واضح الفاظ میں قانون کا حصہ بنا دیا جائے گا۔ یوں وہ بحث ختم ہو جائے گی، جو گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری تھی۔ مسلم لیگ(ن) نے اس کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کر دیا ہے اور پیپلز پارٹی کی طرف سے بھی ایسے ہی اشارے مل چکے ہیں۔ پاکستان میں آرمی چیف کی تقرری یا توسیع کے حوالے سے کبھی اس طرح کی پریشاں خیالی دیکھنے میں نہیں آئی، جس کا مشاہدہ گزشتہ چند ماہ کے دوران کیا گیا۔ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا اور تاریخ میں پہلی بار اس طرح کے کسی مقدمے کی باقاعدہ سماعت ہوئی۔ اٹارنی جنرل کی اس تحریری یقین دہانی کی بنیاد پر کہ 60دن کے اندر اندر قانون سازی کرکے معاملے کو واضح کر دیا جائے گا، سپریم کورٹ نے فیصلہ صادر کر دیا۔ یہ بھی واضح لکھ دیا گیا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو6ماہ کے بعد آرمی چیف ریٹائر تصور ہوں گے۔

مقدمے کی سماعت کے دوران حکومتی کارندوں نے جو جو کچھ کیا اور جو جو نوٹیفکیشن جس جس طرح جاری کئے گئے، اب انہیں مزاحیہ شہ پاروں کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت تیز رفتاری کے ساتھ مجوزہ قانون کو آخری شکل دیتی اور قومی اسمبلی میں پیش کر دیتی، اس کے بجائے ایک بے سروپا نظر ثانی درخواست دائر کی گئی، اس میں وہ قانونی نکات بھی اٹھائے گئے، سپریم کورٹ میں باقاعدہ سماعت کے دوران کا جن ذکر تک نہیں کیا گیا تھا۔ استدعا کی گئی کہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا جائے۔ اکثر قانونی ماہرین نے اس درخواست کو حیرت کی نگاہ سے دیکھا، یہ جوہری اعتبار سے نظرثانی کی درخواست سے زیادہ اپیل تھی اور سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی دستور اجازت دیتا ہے نہ قانون۔ اس درخواست کا حشر اہل نظر کو معلوم تھا، شائد اسی لئے اس کی سماعت کا انتظار کئے بغیر آرمی ایکٹ ترمیمی بل پیش کرنے کا فیصلہ ہوا۔

مسلم لیگ (ن) کے حامی کئی دانشوروں اور میڈیا حلقوں میں اس کے تازہ موقف پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ اسے یوٹرن قرار دے کر غم و غصے کا اظہار ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا میں طوفان برپا ہے۔ پیپلزپارٹی کے حامی حلقے بھی کچھ زیادہ خوش دکھائی نہیں دیئے، لیکن ان کا معاملہ یہ ہے کہ مسلم لیگ(ن) کے اعلان کے بعد دونوں ایوانوں سے بل منظور کرانا کوئی مسئلہ نہیں رہتا۔ سینٹ میں بھی مطلوبہ اکثریت حاصل ہو جاتی ہے۔ اس لئے اگر پیپلزپارٹی اپنا راستہ الگ کر لے تو وہ تنہائی کا شکار نظر آئے گی، اس کا کردار چونکہ فیصلہ کن نہیں ہے، اس لئے اس کے حامی کسی کروٹ زیادہ پُرجوش نہیں ہو پائے۔مسلم لیگ(ن) کے حوالے سے معاملہ مختلف ہے۔ آرمی ایکٹ میں ترمیم کی حمایت کو میاں نوازشریف کے بیانیے کی شکست قرار دینے والے اودھم مچا رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ دم توڑ گیا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک جذباتی ردعمل ہےّ عملی سیاست کے معاملے اور تقاضے اپنے ہوتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے واضح کر دیا ہے کہ یہ فیصلہ خود نوازشریف صاحب کا ہے اور گزشتہ دنوں جب مسلم لیگ (ن) کے کئی سینئر رہنماؤں کو مشاورت کے لئے لندن بلایا گیا تھا تو اسی وقت یہ ہدایت کر دی گئی تھی کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کے حوالے سے تجویز کئے جانے والے قانون کی تائید کی جائے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ آنے والا وقت اس فیصلے کو درست ثابت کرے گا اور مسلم لیگ کی قیادت کی فراست اور اصابت رائے واضح ہو جائے گی۔

خواجہ صاحب کے اس تجزیے سے قطع نظر، ہم سمجھتے ہیں کہ آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے کی جانے والی قانون سازی کو متنازع بنانا کسی کی خدمت نہیں ہے۔ آرمی چیف کا تقرر وزیراعظم کا صوابدیدی اختیار ہے اس اختیار کو سلب کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ وزیراعظم عوام کا نمائندہ ہونے کے حوالے سے مقتدرہ کی سب سے اہم شخصیت ہوتا ہے، اس کے اختیارات کو کم کرنا، ریاست کی انتظامی مشینری کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ اس لئے وزیراعظم کے اختیار کی وضاحت یا اس کا پرزور تذکرہ کوئی ایسی بات نہیں کہ جس سے اختلاف کیا جائے۔وزیراعظم یوسف رضا گیلانی جنرل اشفاق پرویز کیانی کو توسیع دے کر اور وزیراعظم نواز شریف کسی کو بھی توسیع نہ دے کر ماضی میں اپنے اختیار کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔ نئے ترمیمی ایکٹ سے وزیراعظم کا پہلے سے موجود اختیار ہی واضح ہو گا،اس کی ٹوپی میں کوئی نیا پر نہیں لگے گا۔ یوں سپریم کورٹ کی تشریح کی روشنی میں بھی معاملہ صاف اور واضح ہو جائے گا۔ وزیراعظم کو جب یہ آئینی حق حاصل ہے کہ وہ آرمی چیف کا تقرر کرے تو پھر اس کے انتخاب کو موضوع بنانے کا بھی کوئی جواز نہیں۔توسیع ہونی چاہیے یا نہیں،قانون کے مطابق یہ فیصلہ وزیراعظم نے کرنا ہے۔ آرمی چیف کے طور پر جنرل قمر جاوید باوجوہ کے حوالے سے وہ اپنا یہ حق استعمال کر چکے ہیں اور سپریم کے فیصلے کی روشنی میں پیش کیے گئے ترمیمی بل کے مطابق وہ اگر اسے برنگ ِ دگر دہراتے ہیں تو اس پر اعتراض کا کیا محل ہے؟ آرمی چیف کے منصب پر تقرری (یا توسیع) کوئی ایسا معاملہ نہیں کہ جس پر سیاست کی جائے یا اسے سیاسی مباحث کا موضوع بنایا جائے۔مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی نے اس معاملے میں جو حکمت عملی اختیار کی ہے، اس پر تنقید کرنے والوں کو پاکستانی ریاست کے معروضی حالات پرنگاہ رکھنی چاہیے، فوج کسی ایک جماعت کی نہیں، ہر جماعت کی ہے، پوری قوم کی ہے، فوج اور قوم دونوں کو ہر لحظہ یہ بات نظر میں رکھنی چاہیے۔

مزید : رائے /اداریہ