”میرا اک مشورہ ہے، التجا نئیں“

”میرا اک مشورہ ہے، التجا نئیں“

معززقارئین !ہمارا شمار بھی اُن معدودے چند افراد میں کیا جا سکتا ہے جوتا حال یہ بات سمجھنے سے قطعی قاصر ہیں کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات11مئی 2013ءکو منعقد کئے جانے کے واضح اور باقاعدہ اعلان کے باوجود وطن ِعزیز میں ”انتخابی سرگرمیوں “ کے حوالے سے کسی خاص روایتی جوش و خروش کا مظاہرہ دیکھنے میں کیوں نہیں آ رہا اور یہ معاملہ ہنوز ”ہر چند کہیں کہ ہے، نہیں ہے“ کی سی گومگو صورتِ حال سے کیوں دوچار ہے!

اِن دنوں سیاسی جماعتوں کے انتخابی دفاتر میں نہ تو من چلوںاور بے فکروں کے جمگھٹے دیکھنے کو مل رہے ہیں اور نہ ہی ازلی مفت خوروںاور پیشہ ور فصلی بٹیروں کاکوئی قابل ِ ذکر جم ِغفیر ”مالِ مفت دلِ بے رحم “کی زندہ مثال بنے روٹی کھلنے کے انتظار میںمسلسل براجمان نظر آتا ہے۔ اگرنسبتاً کہیںکوئی تھوڑی بہت گہما گہمی نظر آتی بھی ہے تو صرف اُس جگہ اور اُس مقام پرہی نظر آتی ہے جہاں کسی قومی جماعت کا کوئی مرکزی رہنما بذاتِ خود خطاب کر رہا ہو، بلکہ خطاب داغ رہا ہو۔

ہماری ناقص رائے میںتمام بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً سبھی ہیوی ویٹ اُمیدواران غالباً اپنے جلسوں اور جلوسوں میںبھر پور عوامی عدم شمولیت اور دلچسپی کے فقدان سے نااُمید ہونے کے بعد ہی اپنے مخالفین پر ذاتی حملے کرنے کے انتہائی اوچھے ہتھکنڈوں پر اُتر آئے ہیںکہ ہو سکتا ہے کہ یہ آخری” نسخہ ہائے وفا“ ہی عوام کے ”ٹھاٹھیں مارتے سمندر“ کو جلسے جلوسوں میں کھینچ لانے کے سلسلہ میں کار گرثابت ہو جائے ۔ہمارے یہ ”قومی رہنما ” الیکشن کمیشن کے جاری کردہ ضابطہ ¿ اخلاق کی جس ”سج دھج “ سے دھجیاں اُڑا رہے ہیں اور ایک دوسرے کونیچا دکھانے کی غرض سے، جس طرح کی انتہائی”غیر پارلیمانی زبان“ کا برملااستعمال کر رہے ہیں، اِس ضمن میں ہماری اِن تمام رہنماﺅں سے بلاتفریق اک یہی گزارش ہے بقول مصطفی زیدی کہ:

حدیث ہے کہ اصولاً گُناہ گار نہ ہوں،

گُناہ گار پے پتھر اُچھالنے والے

خود اپنی آنکھ کے شہتیر پر نظر رکھیں

ہماری آنکھ کے تنکے نکالنے والے

 گو بتقاضائے عمر ِعزیز ہماری ذات کے لئے تو یہ بات قطعاً باعث حیرانی نہیں ہے کہ ہماری موجودہ قومی قیادت ہر قیمت پر حصولِ اقتدار کی ہوس میں تمام تر بنیادی اور ضروری اخلاقیات کو بالائے طاق رکھ کر اپنے مخالفین کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی پُرانی اور روایتی روش پر بڑے زوروں شوروں سے گا مزن ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہمیںتو مسلسل اک یہی سوچ کھائے جا رہی کہ ہماری نوجوان نسل اپنے ان نام نہاد ”رول ماڈلز“ اور ”بزرگ رہنماﺅں“ کی اس بدکلامی سے آخر کیا سبق سیکھ پائے گی۔آپ یقین کیجیے گا کہ انتخابی جلسوں جلوسوں میںمخالفین کے ”حق“ میں زیر استعمال اِس بد زبانی کی بنا پر ہمیں تو سبھی”پائے“ کے سیاست دانوں سے بیک وقت شکوہ بھی ہے اور ہمدردی بھی ، اور وہ اِس لئے کہ جس خضوع و خشوع سے ہمارے یہ سیاسی اکابرین ایک دوسرے کی شان میں تبرّے کر رہے ہیں اِس سے تو ہر ہدفِ تنقید بننے والا یہ سوچنے میں یقینا حق بجانب ہے کہ

جس کی نظروں میں ہم نہیں اچھے

کچھ تو وہ شخص بھی بُرا ہو گا!

بالخصوص جناب عمران خان صاحب کو ہمارا بالکل ہی مفت مشورہ یہ ہے کہ وہ اپنے مخالفین کی ”قصیدہ گوئی “ کرتے ہوئے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھُوٹنے دیں۔خان صاحب کی پُر جوش تقریروں سے تو لامحالہ یہی تاثر ابھرتا ہے کہ وہ اپنے تئیں ابھی سے ”نئے پاکستان“کے بِلا شرکت ِ غیرے وزیرِاعظم بن چکے ہیں۔ قرائن یہی بتاتے ہیں کہ حالیہ انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی نئی حکومت بھی ”سانجھے کی حکومت“ ہوگی، لہٰذا ”پوائنٹ آف نو ریٹرن “پر جانے میں سراسر نقصان کا سودا ہے۔ ویسے بھی وہ کہتے ہیں نا ںکہ

There is many a slips between the cup and the lips

 ہماری فہم سے یہ بات بھی بالکل باہر ہے کہ عمران خان اپنے ووٹروں اور سپورٹروں کو کھُلم کھُلا یہ مشورہ کیوں دے رہے ہیں کہ وہ نوٹ اور لیپ ٹاپ تو بیشک مسلم لیگ سے لے لیں لیکن اپنا ووٹ صرف اور صرف ”تحریکِ انصاف“ کے حق میں ہی کاسٹ کریں۔گویا دوسرے لفظوں میں خان صاحب نوجوان نسل کو11 مئی کے بعداچانک معرض وجود میں آنے والے ”نئے پاکستان“ میں فوری طور پرمتعارف اور بعد ازاں مستقل طور پر نافذالعمل کی جانے والی ”بنیادی اصلاحات“ کے سلسلہ میں ایک بالکل ”نئی اور اچھوتی“ قسم کی ”پارٹی لائن“ دے رہے ہیں۔

عمران خان صاحب کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ اب کی بار میدانِ سیاست میں اُن کا واسطہ ”فن ِ سیاست“ کے ”مہاکلاکاروں“ یعنی شریف برادران سے پڑا ہے جونہ صرف یہ کہ ضیاءالحق اور جنرل جیلانی جیسے انتہائی زیرک اورمنجھے ہوئے کھلاڑیوں کے خصوصی اور باقائدہ تربیت یافتہ ہیں، بلکہ اقتدار کی غلام گردشوں میں ہونے والی محلاّتی سازشوں کے تانے بانے بننے کے ہنر میں بھی اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے۔یہ بات بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ شریف برادران کواندرونی و بیرونی ”مقتدر“ قوتوں کے ” خاص الخاص منظورِ نظر“ہونے کا شرف ہمیشہ حاصل رہا ہے۔ انہیں مطلق العنان حکمرانوں کی آنکھ کا تارا بننے میں چنداں دیر نہیں لگتی اور وہ جمہوری طور پر منتخب کردہ وزیراعظم محمدخان جونیجو جیسے سادہ لوح سیاست دان کو دن میں تارے دکھانے کی خاطر کسی بھی حد تک جانے میں قطعاً کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے۔

جناب خان صاحب یاد رکھیئے کہ کھیل کے میدان اور میدانِ سیاست کے اپنے اپنے اصول و ضوابط ہیں۔ سیاست کی پچ پر پھینکی گئی ایک لوز بال بھی پورے میچ کا پانسہ یکسر پلٹ سکتی ہے، لہٰذا ہمارا مشورہ یہی ہے کہ سیدھے سیدھے وکٹوں میں گیند کیجئے ، ”نوبال“ سے قطعی پرہیز فرمائیے اور باونسرز کی تو بالکل کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔

مزید : کالم