پاکستانی حکومت ، غربت اور غریب ۔۔۔

پاکستانی حکومت ، غربت اور غریب ۔۔۔
پاکستانی حکومت ، غربت اور غریب ۔۔۔

  

مہنگائی نے تو ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔۔۔بڑھتی ہوئی مہنگائی کی شرح نے عوام کے لیے سحری و افطاری کے سامان لینا بھی مشکل کردیا ہے۔۔۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی بلند ترین سطح کو ٹچ کر رہی ہے۔۔۔عید قریب آنے کو ہے اور مہنگائی ہے کہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ وزیراعظم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اگلے مالی سال میں شرح نمو اضافہ پر توجہ دی جائیگی ۔ انہوں نے کہا کہ نئے منصوبوں میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ اور روزگار کے مواقع فراہم کئے جائے گے۔۔۔ 

تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کی حکومت کو تین سال کے قریب وقت ہوگیا ہے۔۔۔ پاکستان میں ہر آئے دن مہنگائی کی شرح میں اضافے نے عوام کی ہوش ٹکھانے لگا دی ہے  تاہم موجودہ صورتحال بہرکیف تشویشناک ہے ۔۔۔ وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح نے پیچھلے 14 مہینوں کا ریکارڈ توڑ دیا ہے ۔۔۔ مارچ  میں یہ شرح نو اعشاریہ ایک فیصد تھی لیکن اپریل میں یہ شرح بڑھکر 11اعشاریہ ایک   فیصد ہوگئی ہے ۔۔۔ بڑھی ہوئی شرح یہ ظاہر کر رہی ہے کہ غریب کے ساتھ ساتھ متوسط طبقہ کو بھی  مہنگائی اپنے لپیٹ میں لے رہی ہے ۔ 

عالمی بنک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد لوگ دہی علاقوں میں غربت کا شکار ہیں، جس سے  غریب مزید غریب ہوتا جارہا ہے ۔۔۔صوبہ بلوچستان میں 62 فیصد افراد دہی علاقوں میں غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں البتہ صوبہ سندھ ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کی نسبت زیادہ ہے۔۔ ۔ صوبہ سندھ میں 30 فیصد جبکہ پنجاب اور خیبر میں 13 اور 15 فیصد ہے ۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ شہری علاقوں کی بجائے دہی علاقوں میں شرح کا فرق صوبوں کے مطابق زیادہ ہے جوکہ 18 کے مقابلے میں 36 فیصد بنتی ہے ۔ 2001ء سے 2002ء سے یہ فرق برقرار ہے یعنی اس میں کوئی فرق نہیں ہے ۔۔۔ 

عالمی بنک نے یہ بھی انکشاف کیا کہ آئندہ عالمی سال میں غربت میں اضافہ کا امکان ہے۔۔ ۔ آپ اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پاکستان ایک ایسا فرد جو مہنگائی کی وجہ سے غربت کی لکیر میں گیا اور پھر اس میں سے نکل ہی نہ سکا۔۔۔ غربت نے قوم کے منہ کا آخری نوالہ بھی چھین لیا ہے۔۔۔ پاکستان میں رہنے والے افراد کو اپنے مسقبل کی فکر ہوتی جارہی ہے۔۔۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کورونا وائرس نے پوری دنیا میں لوگوں کے لیے مسائل پیدا کئے ہیں اور ایسے مسائل پیدا کئے گیے جو جلد حل ہونے کا نام ہی نہیں لیں گے۔۔۔ 

پاکستان کا بھی شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں کورونا وبا سے غربت بڑھنے کا خدشہ ہے۔۔۔ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں یومیہ کمانے والے ایک کروڑ افراد کو غریب ہونے کا خدشہ ہے۔ 

حکومت کو چاہیے آئندہ مالی سال میں بجٹ میں مہنگائی سمیت ہر اس چیز کو  مدنظر رکھا جائے جس سے ملک کو نکالنا مشکل نہ ہو  ۔۔۔ مہنگائی اگر کم کرلی گئی تو یہ ایک واحد حل ہے جو پاکستان کو غربت کی لیکرسے نکال سکتا ہے۔۔۔ کارخانے بڑے پیمانے پر تیار ہونے چاہیے۔۔۔ قابل لوگوں کو کام کرنے کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے ۔ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ لوگ خوشحال ہوں گے تو پاکستان خوشحال ہوگا۔۔۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -