عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 83

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 83
عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 83

  

وہ قاسم کے قریب بیٹھ کر روتی رہی اور جب اس کے بہت سے آنسو بہہ گئے تو خود بخود مسکرا دی۔ یہ عجیب منظر تھا۔ اس کی برسی ہوئی آنکھیں ابھی گیلی تھیں اور اس کے نازک رخساروں پر آنسوؤں کی لکیریں ابھی چمک رہی تھیں۔ جبکہ وہ کسی معصوم بچے کی طرح مسکرا رہی تھی۔ اس کے گلابی ہونٹوں کے عقب میں موتیوں کی قطار جگمگا رہی تھی اور قاسم سوچ رہا تھا کہ وہ ’’آیا صوفیاء‘‘ کی خادمہ نہیں بلکہ آسمانوں کی کوئی فرشتہ ہے۔‘‘

قاسم بھی پر خلوص اندازمیں مسکرا دیا اور بولا’’تم بھی عجیب ہو سونیا! روتی بھی ہو اورہنستی بھی ہو۔ جاؤ دروازہ کھول کے آؤ۔ اس طرح دروازہ بند کرکے بیٹھنا اچھی بات نہیں۔‘‘

سونیا کو قاسم کا اپنائیت بھرا لہجہ مزادے گیا۔ وہ جھومتی ہوئی اٹھی اور جاکر دروازہ کھول دیا۔ اس نے صرف دروازے کی کنجی ہٹائی تھی پٹ نہ کھولے تھے۔ وہ پھر قاسم کے نزدیک آئی اور شرارت زدہ لہجے میں بولی۔

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 82 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’کیا آپ کوسسٹر میری بہت اچھی لگتی ہیں؟ میں آپ کو بتاؤں، مجھے خود سسٹر میری بہت اچھی لگتی ہیں۔ میں دن میں ایک آدھ مرتبہ ان کے پاس ضرورجاتی ہوں۔۔۔اور آپ کو پتہ ہے میرا دل جب بھی اداس ہوتا ہے میں سسٹر میری کے پاس چلی جاتی ہوں۔ وہ میرے ساتھ ایک بہن کی طرح پیش آتی ہیں اور میری اداسی لمحوں میں دور ہو جاتی ہے۔‘‘

مارسی کے ذکر سے قاسم کا دل ڈولنے لگا۔ سونیا کی یہ بات کہ وہ مارسی کے پاس روزانہ جاتی ہے قاسم کو چونکا دینے کے لیے کافی تھی۔ یکلخت قاسم کے دل میں ایک عجیب و غریب خیال آیا۔ قاسم کچھ دیر تک اپنے خیال پر غور کرتا رہا اور پھر کسی فیصلے پر پہنچ کر خودبخود مسکرا دیا۔ اگلے لمحے وہ اپنے جگہ سے اٹھا اور اور اپنے سامان میں سے مارسی کی انگوٹھی نکال لایا۔ وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھاکہ اس کے اس اقدام سے بے چاری سونیا تو اورزیادہ غلط فہمی میں مبتلا ہو جائے گی۔ وہ ایک لمحے کے لئے جھجکا بھی لیکن پھر اپنا بڑا مقصد دل میں سوچ کر مطمئن ہوگیا۔ وہ دو قدم سونیا کی جانب بڑھا اور مارسی کی انگوٹھی سونیا کی جانب بڑھاتے ہوئے انتہائی اپنائیت سے کہنے لگا۔

’’سونیا! میں ایک راہب ہوں۔۔۔تمہیں جسمانی محبت تو دے نہیں سکتا۔ البتہ اپنی روحانی محبت کا تحفہ تمہیں دیتا ہوں۔ میری خواہش ہے کہ تم مجھ سے زیادہ امیدیں وابستہ مت کرو۔ کیونکہ تم جانتی ہوکہ ایک راہب محبت تو کرسکتا ہے لیکن شادی کبھی نہیں۔۔۔یہ لو! یہ انگوٹھی پہن لو۔‘‘

سونیا کی حالت دیکھنے والی تھی۔ قاسم کے الفاظ سونیا کے کانوں میں کسی رسیلی شراب کی طرح اترے اور وہ وارفتہ ہوگئی۔ اسکی آنکھیں عقیدت کے نشے سے بھر گئیں اور ہونٹ فرط جذبات سے کانپنے لگے۔ اسے اپنے نصیب سے خوف آنے لگا۔ آج تو قاسم نے انگوٹھی کا تحفہ دے کر اسے مار ہی دیا تھا۔ اس نے اپنا داہنا ہاتھ آگے بڑھایا اور انگوٹھی پہننے کے لئے انگلی الگ کرلی۔ قاسم کے ہاتھ نے اس کی نرم و نازک انگلی کو چھوا تو جسم میں سنسنی دوڑنے کی بجائے سونیا کے کانپتے ہوئے جسم کو قرار آگیا۔ اسے یوں لگا کہ یہ انگلی پکڑکر قاسم نے جیسے اسے دنیا کے جہنم سے باہر کھینچ لیا تھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کے دو موٹے موٹے قطرے یکے بعد دیگرے ٹپ ٹپ فرش پر گرے اور سونیا کو یوں لگا جیسے ایک دم دنیا جہان کے سارے دکھ اس کے کندھوں سے اتر گئے ہوں۔

عین اس وقت جب قاسم سونیا کو انگوٹھی پہنچا چکا۔ قاسم کے کمرے کا دروازہ ’’چراک‘‘ کی آواز کے ساتھ کھلا اورایک اجنبی چہرے کو دیکھ کر قاسم کے اوسان خطا ہوگئے۔ سونیا بھی بری طرح سہم کر ایک جانب سمٹ گئی۔ کیونکہ دروازے میں نظر آنے والا اجنبی کینہ توز نطروں سے قاسم اور سونیا کو گھور رہا تھا۔ یہ پچاس سال کے پیٹے کا ایک ادھیڑ عمر لیکن توانا شخص تھا۔ اس کا قدم لمبا اور جسم بھرا ہوا اور مضبوط تھا۔ اس کی آنکھوں میں سب سے زیادہ قوت تھی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے اس کی آنکھیں دو سرخ انگاروں کی طرح دہک رہی ہوں۔ اس کے جسم پر بطریقوں جیسا لباس تھا اور اس نے ہاتھ میں ایک لمبا عصا پکڑ رکھا تھا۔ اس کی سانپ جیسی پھنکارتی ہوئی آنکھوں کے اوپر اس کی بھونیں اتنی گھنی تھیں کہ اجنبی کی آنکھ بھنوؤں کے سائے میں نیم تاریک دکھائی دیتی تھی۔ 

یہ ’’شاگال‘‘ تھا۔۔۔آیا صوفیاء کا جن ۔۔۔سونیا اسے ’’آیا صوفیاء‘‘ کا جن کہا کرتی تھی۔ بلکہ سونیا کسی حد تک سچ مچ اسے بھوت پریت ہی مانتی تھی۔ کیونکہ یہ جب کئی کئی دن کے لئے غائب ہو جاتا تو پوری دنیا میں کسی کو کوئی خبر نہ ہوتی کہ ’’شاگال‘‘ کہاں ہے؟ اور پھر یہ کبھی اچانک ’’آیا صوفیاء‘‘ میں لوگوں کو دکھائی دیتا تو سب سہم جاتے۔ ایک بات یہ بھی مشہور تھی کہ کوئی شخص شاگال کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہیں دیکھ سکتا۔ حتیٰ کہ بطریق اعظم تک سب ہی شاگال سے آنکھیں چراتے تھے۔ لوگوں میں تو یہاں تک خیال پایا جاتا تھا کہ ’’شاگال‘‘ کی آنکھوں میں ایک منٹ سے زیادہ دیر تک دیکھنے والا زندہ نہیں رہتا۔ وہ چوبیس گھنٹے کے اندر اندر مر جاتا ہے۔ یہ بات کچھ اتنی زیادہ غلط نہ تھی۔ سونیا کی آنکھوں کے سامنے شاگال نے ایک دو لوگوں کو اسی طرح ہلاک کیا تھا۔ شاگال زیادہ تر خاموش رہتا۔ اس کا چہرہ اس قدر پراسرار تھا کہ اسے غور سے دیکھنے والا دہشت زدہ ہوجاتا۔ چرچ میں اور لوگوں کا بھی خیال تھا کہ شاگال انسان نہیں بلکیہ ’’قسطنطین‘‘ کا جن ہے جس کی عمر تین سو سال سے زیادہ ہے اور جو قسطنطنیہ کی نگرانی کے لئے خداوند یسوع مسیح ؑ نے مقرر کیا ہے۔ اسے طویل عمر کہنے والوں کی دلیل یہ تھی کہ وہ شاگال کو پچھلے کئی سالوں سے ایک ہی شکل و صورت اور ایک ہی رنگ روپ میں دیکھتے آئے تھے۔ بطریق اعظم سمیت بعض بڑے لوگوں کا اس بات پر تو یقین نہ تھاکہ شاگال جن ہے لیکن وہ سب یہ ضرور مانتے تھے کہ شاگال پراسرار قوتوں کا مالک ہے اور کالا علم بھی جانتا ہے۔

شاگال نے عین اس وقت قاسم کے کمرے کا دروازہ دھکیلا تھا جب قاسم سونیا کو انگوٹھی پہنا رہا تھا لیکن یہ تو بچت ہوگئی تھی کہ دروازہ کھلنے کی آواز سنتے ہی قاسم اور سونیا نے اپنے ہاتھ کھینچ لئے تھے۔ قاسم کو شاگال کے عقب میں اپنا خادم ’’ڈیوڈ‘‘ بھی نظر آیا۔ قاسم کو اس لمحے ڈیوڈ بھی بہت پراسرار لگا۔ سونیا تو شاگال کو پہچانتی تھی جبکہ قاسم اسے پہلی بار دیکھ رہا تھا۔ شاگال قاسم سے اجازت لئے بغیر کمرے میں داخل ہوگیا۔ اس کے قدم اٹھانے کا انداز ہندوستان کے سوامیوں جیسا تھا۔ وہ اپنے ہاتھ میں تھامے قد آدم عصاکوفرش پرٹیکتا ہوا کمرے کے وسط میں آگیا۔ اسکی آنکھوں سے نکلنے والی تپش خیال ہی خیال میں قاسم کو اپنے چہرے پر محسوس ہونے لگی۔ وہ قاسم کے بالکل سامنے آیا اور قاسم کے سامنے تن کرکھڑا ہوگیا۔ اگلے لمحے اسنے قاسم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔ قاسم کو شاگال کے آنے کا یہ انداز سخت برالگا تھا۔ چنانچہ قاسم نے بھی اپنے غصے سے بھری آنکھیں شاگال کی آنکھوں میں گاڑ دیں لیکن اگلے لمحے قاسم کو یوں لگاجیسے سامنے انسان نہیں کوئی شیطان کھڑا ہو۔ قاسم کو اس کی آنکھوں سے نکلنے والی تپش بے قرار کرنے لگی اور اسے اپنا جسم اپنے وزن سے کوئی گناہ بھاری محسوس ہونے لگا۔

اس سے پہلے کہ قاسم اس کی آنکھوں کی تاب نہ لا کر اپنی آنکھیں ہٹانے کی کوشش کرتا، پریشان حال سونیا دوڑتی ہوئی قاسم کے پاس آئی اور قاسم کو ایک جھٹک کیساتھ شاگال کے سامنے سے ہٹا دیا۔ اور ساتھ ہی کپکپاتی ہوئی آواز میں کہا۔

’’یہ بطریق شاگال ہیں۔۔۔ان کی آنکھوں میں دیکھنے والا زندہ نہیں رہتا۔ انکی طاقت ہزار جنوں سے زیادہ ہے۔‘‘

سونیا اس سے آگے کچھ نہ کہہ سکی۔کیونکہ شاگال کی گھورتی ہوئی نظریں اس پرجا پڑیں۔ نہ جانے قاسم کوکیوں لگا جیسے شاگال کے عقب میں کھڑا ڈیوڈ مسکرا رہا تھا۔ لیکن قاسم نے اپنے غصے کو کچھ زیادہ چھپانے کی کوشش نہ کی اور شاگال سے مخاطب ہوا۔

’’محترم بطریق! آپ مجھے حکم کرتے، میں حاضر ہو جاتا۔ اس طرح بغیر اجازت کسی کے کمرے میں داخل ہونا نازیبا بات ہے۔‘‘

’’ہوں ں ں ! تم ٹھیک کہتے ہو۔۔۔میں نے تم دونوں کو خوامخواہ پریشان کیا لیکن مجھے حیرت ہے کہ قسطنطنیہ پر موت کے خطرات منڈلا رہے ہیں اور تم دونوں ’’آیا صوفیاء‘‘ کے مقدس ہجروں میں رومانس کر رہے ہو۔۔۔میں نے سنا ہے کہ تم تھریس سے آئے ہو۔ کیا یہ سچ ہے؟‘‘

اب قاسم کا غصہ ایک دم ہوا ہوگیا اور اس کے پیروں تلے زمین ہلنے لگی۔ شاگال کے لہجے میں لومڑیوں کی سی مکاری تھی ۔ قاسم کو یہ لہجہ بہت پراسرار لگا۔ لیکن قاسم نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا۔

’’جی ہاں!۔۔۔یہ سچ ہے۔‘‘

’’بہت اچھی بات ہے۔ مجھے تھریس بہت پسند ہے۔ میں اکثر تھریس کے کلیساؤں میں جاتا رہتاہوں۔ حیرت ہے تم سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔‘‘

اب قاسم کیاکہتا۔ اس نے جان چھڑانے کے لیے بات کونظر انداز کرنے کی کوشش کی۔’’جی دراصل میں زیادہ تک تنہائی کی عبادت میں مصروف رہتاہوں۔ اسلئے کئی لوگوں سے مل نہیں پاتا۔ میری بدقسمتی ہے کہ آپ سے ملاقات نہیں ہوئی۔‘‘

’’ہوں ں ں !۔۔۔یہ تو واقعی تمہاری بدقسمتی ہے ۔ خیر! ۔۔۔اب جوہوگئی ہے ملاقات۔ اب تو تم بدقسمت نہیں رہے میں تم سے پھر ملوں گا۔ کچھ ضروری باتوں کے لیے میرے منتظر رہنا۔‘‘

قاسم کوایسے لگاجیسے شاگال دھمکی دے رہا ہو۔ لیکن پھر بھی قاسم نے مسکراتے ہوئے کہا’’ضرورضرور۔۔۔میں آپ کا منتظر رہوں گا۔‘‘

شاگال جس طرح آیا تھا ویسے ہی کمرے سے نکل گیا۔ لیکن ڈیوڈ اپنی جگہ پرکھڑا رہا۔ قاسم نے ڈیوڈ کو مخاطب کرکے سوال کیا’’کیا بطریق اس طرح ہوتے ہیں؟ انسانیت کو محبت کا درس دینے والے یسوع مسیح کے راہب اس طرح نہیں ہوتے۔ ان موصوف کا ’’آیا صوفیاء‘‘ کے ساتھ کتنا پرانا تعلق ہے؟‘‘

’’یہ تو کوئی نہیں جانتا ۔جسے سے پوچھا وہ یہی کہتا ہے کہ بطریق شاگال کو اس نے روز اول سے ہی اس طرح دیکھا ہے۔‘‘

نہ جانے کیوں قاسم کو ایسے لگاکہ ڈیوڈ اسے شاگال سے ڈرانے کی کوشش کر رہا ہے قاسم ڈیوڈ کی بات پر تمسخر اڑانے کے انداز میں ہنس دیا اور بولا’’اچھا ٹھیک ہے تم لوگ جاؤ مجھے آج کی مجلس کے لیے کچھ ضروری کام نمٹانے ہیں۔‘‘

سونیا ابھی رکنا چاہتی تھی۔ لیکن قاسم نے دونوں کو جانے کے لیے کہا تو اسے بھی مجبوراً جانا پڑا۔ وہ دونوں چلے گئے تو قاسم نے اٹھ کر کمرے کا دروازہ اندر سے بندکر دیا اور پھر سے اپنے کام میں مشغول ہوگیا۔ وہ سر نیچے کئے کچھ لکھ رہا تھا کہ ایک دم بری طرح چونکا اسے یوں لگا جیسے شاگال اس کے سامنے کھڑا تیز نظروں سے اسے گھور رہاہے۔۔۔قاسم نے بجلی کی تیزی سے سر اٹھا کر سامنے دیکھا۔ لیکن کوئی نہ تھا۔ یہ قاسم کا واہمہ تھا۔ تب قاسم نے اپنے آپ کوڈانٹاکہ وہ ایک مومن ہو کر شیطان سے خوفزدہ ہو رہا ہے۔ اور پھر دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہوگیا۔

سونیا اپنے چھوٹے سے رہائشی کمرے میں آئی تو اس کے پاؤں زمین پرنہ پڑ رہے تھے اسے قاسم کی طرف سے انگوٹھی ملنے کی خوشی چین نہ لینے دیتی تھی اس نے کمرے میں داخل ہو رہی جلدی کے ساتھ دروازہ بند کر دیا۔ اب وہ قاسم کی انگوٹھی ہاتھ میں پکڑے انتہائی پیار سے دیکھ رہی تھی ۔ وہ بار بار اس انگوٹھی کو چومتی اور بار بار اس کی آنکھیں اپنے سابقہ دکھوں کو یاد کر کے تر ہوجاتیں۔ وہ تو چرچ میں پناہ لینے آئی تھی لیکن یہاں آکر ایک ایک راہب نے الگ الگ اس کی آبروریزی کی۔ وہ جن دکھوں کو پیچھے چھوڑ آئی تھی ان سے زیادہ دکھ ’’آیا صوفیاء‘‘ میں اس کے منتظر تھے۔ اس نے جب آیا صوفیاء میں ہی اپنا لباس اترتے دیکھا تو اسے یقین ہوگیا کہ دنیا میں کوئی جائے پناہ نہیں جہاں حوا کی بیٹی محفوظ رہ سکے۔ چنانچہ اس نے خود کو ’’آیا صوفیاء‘‘ کے مطابق ڈھالنا شروع کر دیا۔

لیکن آج قاسم نے اسے محبت کی نشانی انگوٹھی تحفے میں دے کر ایک بار پھر زندہ کر دیا تھا۔ اب اسے ’’آیا صوفیاء‘‘ میں گزرے ہوئے اپنے ماضی پر پچھتاوا ہونے لگا۔ کاش! اسنے اپنی آبرو محفوظ رکھی ہوتی توآج وہ ایرون کے قدموں میں فخر کے ساتھ سب کچھ نچھاور کر دیتی۔ یہ پچھتاوا پارے کی طرح اس کے دل و دماغ میں گردش کرنے لگا اور وہ بے حد مضطرب ہوگئی۔ ادھر وہ قاسم کی انگوٹھی کو دیکھ کر خوش ہوتی تو ساتھ ہی اپنے وجودکی ناپاکی کاخیال کرکے پریشان ہو جاتی۔ وہ جس قدر بیتاب آج ہوئی تھی اس سے پہلے کبھی اس قدر بے قراری اس پر نہ چھائی تھی۔ معا اس کے ذہن میں ’’سسٹر میری‘‘ کا شفیق چہرہ گردش کرنے لگا۔ ایسے موقع پر ایک سسٹر میری ہی تھی جو اسے حوصلہ دے سکتی تھی۔ چنانچہ سونیا نے اپنی پلکیں صاف کیں اور سسٹر میری کے پاس جانے کے لیے تیار ہو گئی۔

(جاری ہے ۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید :

کتابیں -سلطان محمد فاتح -