صدر کی عام انتخابات سے قبل بلدیاتی الیکشن کی تجویز قبول نہیں :سیاسی و مذہبی رہنما

صدر کی عام انتخابات سے قبل بلدیاتی الیکشن کی تجویز قبول نہیں :سیاسی و مذہبی ...

  



لاہور، ملتان (جنرل رپورٹر، نمائندہ خصوصی، خصوصی رپورٹ، خبرنگار) سیاسی ومذہبی جماعتوں کے رہنماﺅں نے صدر زرداری کی عام انتخابات سے قبل بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کی تجویز کو مستر دکردیا ہے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی راہنماﺅں مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہد اللہ خان، پرویز ملک اور احسن اقبال نے کہا کہ درحقیقت حکومت کے ”پلے“ نہ کچھ عام انتخابات کروانے کے لئے ہے نہ بلدیاتی انتخابات کے لئے وہ عوام کے لئے کچھ کررہی نہیں سکی اور انتخابی میدان میں کیسے جائے گی اس لئے نت نئی چالیں چلتی ہے انہوں نے کہا کہ یہ وقت بلدیاتی انتخابات کا نہیں ہے قومی انتخابات کا ہے وہ بلدیاتی انتخابات کا نام اس لئے لے رہے ہیں کہ اسے اپنی شکست دیوار پر لکھی ہوئی نظر آرہی ہے اس لئے وہ بلدیات کروا کر دھاندلی کرنا چاہتی ہے اس لئے وہ قومی انتخابات سے راہ فرار اختیار کررہی ہے۔ مسلم لیگ ق کے سیکرٹری اطلاعات سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ حکومت اور اس کے اتحادی ہما وقت انتخابات کے لئے تیار ہیں صدر مملکت کا بلدیاتی انتخابات کرانے کا اعلان اپنی جگہ لیکن اگر عام انتخابات ہوجائیں تو اچھا ہے تاہم جو فیصلہ کریں گے پارٹی قیادت کے مشورہ سے کریں گے ہم دونوں انتخابات کے لئے تیار ہیں مسلم لیگ ق کے مرکزی رہنما اور سابق صوبائی وزیر بلدیات محمد بشارت راجہ نے کہا کہ مسلم لیگ ن جو ابھی تک اپنا بلدیاتی نظام نہیں دے سکی وہ کیوں ان انتخابات کی حامی ہوگی تاہم بلدیاتی انتخابات عام انتخابات سے قبل ہونے چاہئیں سابق وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے کہا کہ صدر اور ان کے اتحادیوں کی کوئی بات وعدہ اور اعلان سچا نہیں ہے صدر اور ان کے اتحادی انتخابات ضرور کرائیں مگر اس سے قبل بہاولپور صوبہ کا قیام عمل میں لائیں ہمیں انتخابات سے قبل صوبہ چاہیے ۔ سابق وزیر خارجہ گوہر ایوب نے کہا کہ حالات اور وقت قومی انتخابات کا تقاضا کررہے ہیں بلدیاتی انتخابات کرانے میں حکومت مخلص ہوتی تو کراچکی ہوتی۔ تحریک انصاف کے عبدالعلیم خان نے کہا کہ حکومت دونوں انتخابات کروائے درحقیقت کبھی قومی اور کبھی بلدیاتی انتخابات کے نام پر حکومت نت نئے ڈرامے کررہی ہے تحریک انصاف دونوں انتخابات کے لئے تیار ہے۔ اس حوالے سے جماعت اسلامی کے امےر سےد منور حسن نے کہا کہ ہم عام انتخابات کے التواءکی کوئی سازش کامےاب نہیں ہونے دیں گے ،پیپلز پارٹی نے اپنے چار ادوار حکومت میں ایک بار بھی بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے اور اب بھی ان سے بلدیاتی انتخابات کرانے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ حکومت میں شامل چار کا ٹولہ اپنے اقتدار کو مزید طول دے کر عوام کے دکھوں میں مزید اضافے کا سبب بنے گااس لیے اپوزیشن کی تمام جماعتیں متحد ہوکر گرینڈ الائنس بنا کر کرپٹ حکمرانوں کے خلاف میدان میں نکلیں مرکزی جمےعت اہلحدےث کے سربراہ پروفےسر ساجد مےر نے کہاکہ زرداری اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو دےکھتے ہوئے عام انتخابا ت سے راہ فرار حاصل کرنے کی کوششوں مےں لگ گئے ہےں ان کا سےاسی مستقبل نشان عبرت بننے والا ہے قوم ان کو بھاگنے نہیں دے گی جے ےوآئی کے مرکزی سےکر ٹری جنر ل مولانا عبدالغفور حےدری نے اس حوالے سے کہا کہ ہم تو بہت پہلے سے کہہ رہے ہےں کہ عام انتخابات کو ٹالنے اور حکمران اپنے اقتدار کو طول دےنے کی ترکےبےں ڈھونڈ رہے ہےںاور اس کےلئے بس انہےں ن لےگ کی ہاں چاہئے جس کےلئے دونوں جماعتوں کے درمےان رابطے بھی جاری ہےں۔ سابق گورنر پنجاب غلام مصطفی کھر نے ”پاکستان“ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر موجودہ حکومت واقعی ہی جنرل الیکشن وقت پر کرانے کا ارادہ رکھتی ہے تو پھر بلدیاتی الیکشن نہیں ہو سکتے۔ ضروری ہے کہ موجودہ حکمران پہلے عام انتخابات کروائیں اور نئی حکومت برسراقتدار آئے وہ خود بلدیاتی الیکشن اپنی نگرانی میں کرائے جب جنرل الیکشن ہوں گے تو اس وقت نگرانی حکومت ہو گی اور نگران حکومت کی موجودگی میں صاف شفاف بلدیاتی الیکشن نہیں ہو سکتے اور نہ ہی موجودہ حکومت کے ہوتے ہوئے صاف شفاف بلدیاتی انتخابات ہو سکتے ہیں کیونکہ بلدیاتی انتخابات میں بیورو کریسی اور پولیس بڑی اثر انداز ہوتی ہے۔ صدر زرداری نے ایک شوشہ چھوڑا ہے۔ اگر سال سے پہلے جنرل الیکشن ہونا ہیں تو پھر ان کا یہ بیان محض سیاسی ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔سابق وفاقی وزیر الحاج سکندر بوسن نے ”پاکستان“ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے۔ موجودہ حکمرانوں نے ساڑھے چار سالوں میں تو بلدیاتی الیکشن نہیں کروائے تو اب یہ لوگ کہاں سے بلدیاتی الیکشن کرائیں گے۔ اتنا عرصہ موجودہ حکمرانوں نے لوٹ مار میں گزار دیا اور جب ان کے جانے کا وت قریب آ گیا ہے تو یہ لوگ ایسے شوشے چھوڑ رہے ہیں جو کہ ممکن نہیں ہے۔ سینئر و مسلم لیگ ن کے رہنما ملک رفیق رجوانہ نے ”پاکستان“ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر صدر زرداری کی باتوں پر اعتماد کیا جاتا تو پھر کیا ہی بات تھی یہ سب الیکشن سٹنٹ ہے۔ صدر زرداری کے یہ محض سیاسی نعرے ہیں۔ سابق سٹی ڈسٹرکٹ ناظم ملتان میاں فیصل مختار نے کہا ہے کہ ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر عام انتخابات وقت کی اہم ضرورت ہے۔سابق ٹاﺅن ناظم شیر شاہ ٹاﺅن مخدوم عباس اکبر مونی شاہ نے کہا ہے یہ بیان بھی صدر زرداری کی ایک چال ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے کبھی بھی بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے جبکہ بلدیاتی نظام کی بدولت گراس روٹ لیول پر عوام کے مسائل حل ہوتے ہیں اور موجودہ حکمران بلدیاتی انتخابات کبھی بھی نہیں کروائیں گے کیونکہ ان کے ایم این ایز اور ایم پی ایز کی اجارہ داری ختم ہو جائے گی۔

مزید : صفحہ اول