افریقی قبیلے سے تعلق رکھنے والی خاتون پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ اسمبلی پہنچ گئی، یہ دراصل کون ہے؟ وہ باتیں جو آپ جاننا چاہتے ہیں

افریقی قبیلے سے تعلق رکھنے والی خاتون پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ اسمبلی ...
افریقی قبیلے سے تعلق رکھنے والی خاتون پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ اسمبلی پہنچ گئی، یہ دراصل کون ہے؟ وہ باتیں جو آپ جاننا چاہتے ہیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کراچی (ویب ڈیسک)غلامی سے مشکلات اور مشکلات سے محرومیاں ، اٹھارویں صدی میں غلام بن کر آئے تھے ۔ پچاس ہزار سے زائد شیدی سندھ کے ہوگئے، مگر زندگیاں وہی، اٹھارویں صدی ولی ۔ بلآخر شیدی قوم کو تنزیلا کمبرانی کی صورت میں سندھ اسمبلی میں اپنی نمائندہ مل گئی۔تنزیلہ کا کہنا ہے کہ  کسی طرح سے بھی عورت کو آزادی نہیں باہر نکلنے کی جس سے وہ اپنے آپ کو منوا سکیں۔

تنزیلہ کو سندھ کی دیہی خواتین پر ناز ہے, وہ فخر سے کہتی ہیں کہ دیہی خواتین، شہری عورتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ باہمت ہوتی ہیں لیکن صحت اور تعلیم کے مسائل انہیں آگے بڑھنے نہیں دے رہے۔

تنزیلہ نے بتایا، "میراتعلق شیدی برادری سے ہے۔ ہمارے یہاں بچہ جیے بھٹو کے نعرے کے ساتھ پیدا ہوتا اور اسی نعرے کے سائے تلے پل کر بڑا ہوتا ہے۔ میرے والد ایڈوکیٹ ہونے کے ساتھ ساتھ پارٹی عہدیدار بھی تھے جبکہ والدہ ایک سکول میں ہیڈ مسٹریس تھیں۔“تنزیلہ نے بتایا کہ سن 70 کی انتخابی مہم بھٹو صاحب نے ضلع بدین میں ان کے گھر سے شروع کی تھی اور ان کے ہاں ہی قیام کیا تھا۔ اس لیے، ان کے بقول ان کا سیاست میں آنا اور پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے کام کرنا ایک طرح سے طے شدہ تھا۔مورخین کا کہنا ہے کہ سندھ اور بلوچستان میں آباد 'شیدی' برادری کے آباﺅ اجداد کا شجرہ افریقہ سے جا ملتا ہے۔کراچی میں اس برادری کی بڑی تعداد آباد ہے اور اس لیے تنزیلہ قمبرانی کا کراچی آنا جانا لگا رہتا ہے۔

تنزیلہ عمر کی 39 بہاریں دیکھ چکی ہیں اور سادگی سے رہنا پسند کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا رہن سہن شیدی برادری کی روایتی خواتین سے زیادہ مختلف نظر نہیں آتا۔انہوں بتایا "میں نے سندھ یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کیا ہے۔ میرے تین بچے ہیں, میں پیپلز پارٹی کی مخصو ص نشستوں پر سندھ اسمبلی کی رکن بنی ہوں جب کہ پانچ سال سے ماتلی میں خواتین کی فلاح و بہبود اور پارٹی کے لیے کام کر رہی ہوں۔"تنزیلہ تین سال سے پی پی پی کے علاقائی خواتین ونگ کی صدر ہیں جب کہ وہ ماتلی میونسپل کمیٹی کی سربراہ بھی رہ چکی ہیں۔

ایک سوال پر تنزیلہ کا کہنا تھا کہ وہ اسمبلی میں جا کر ان شعبوں میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کریں گی جن میں قانون سازی کی گنجائش موجود ہے۔ان کے بقول دیہی خواتین، شہری خواتین کے مقابلے میں کہیں زیادہ باہمت ہوتی ہیں لیکن تعلیم اور صحت کے مسائل نے انہیں معاشرے میں پوری طرح طاقت ور بننے نہیں دیا۔ان کے بقول، "تعلیمِ یافتہ نہ ہونے یا کم پڑھی لکھی ہونے کے سبب خواتین آگاہی نہیں رکھتیں۔ اگر وہ پڑھی لکھی اور ہر مسئلے کے حل سے آگاہ ہوں تو اپنی صحت کی طرف توجہ دے سکتی ہیں۔ آپ کو تو صرف مشاہدہ ہوگا مجھے تجربہ ہے۔ ہماری خواتین کو صاف پینے کے پانی تک کا مسئلہ درپیش ہے۔ اب سے نہیں برسوں سے۔ تعلیم نہ ہونے کے سبب وہ کم عمری کی شادی کے مسائل اور بچوں کی پیدائش میں وقفہ رکھنے کے فوائد سے انجان ہیں۔ اسی لیے زچگی کے دوران ان گنت مسائل انہیں آ گھیرتے ہیں۔ اسی سبب اموات کی شرح زیادہ ہے۔"

سندھ اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کے متعلق تنزیلہ تنزیلہ کا کہنا تھا، "ہمارے آباﺅ اجداد تقریباً ایک صدی پہلے تنزانیہ سے ہجرت کرکے سندھ میں آباد ہوئے تھے۔ پہلے یہ محسوس ہوتا تھا کہ شیدی برادری کے پیروں کے نیچے جیسے زمین ہی نہیں ہو۔ لیکن اسمبلی میں پہنچنے کے خوش کن خیال سے یوں لگتا ہے جیسے ہماری صدیوں پرانی مشکلات ختم ہوجائیں گی اورہمارے پاﺅں تلے بھی زمین آ جائے گی۔"ویڈیو دیکھئے 

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی /الیکشن /سندھ اسمبلی