کیا آپ جانتے ہیں کہ شاہد خاقان عباسی کو این اے 57 سے شکست دینے والے پی ٹی آئی امیدوار صداقت علی عباسی دراصل کتنے پڑھے لکھے ہیں ؟ سن کر عمران خان کی آنکھیں بھی کھلی کی کھلی رہ جائیں گی

کیا آپ جانتے ہیں کہ شاہد خاقان عباسی کو این اے 57 سے شکست دینے والے پی ٹی آئی ...
کیا آپ جانتے ہیں کہ شاہد خاقان عباسی کو این اے 57 سے شکست دینے والے پی ٹی آئی امیدوار صداقت علی عباسی دراصل کتنے پڑھے لکھے ہیں ؟ سن کر عمران خان کی آنکھیں بھی کھلی کی کھلی رہ جائیں گی

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن ) پاکستان تحریک انصاف عام انتخابات میں اکثریتی جماعت بن کر سامنے آئی ہے اور اس وقت حکومت بنانے کیلئے کوششوں میں مصروف ہے تاہم شاہد خاقان عباسی کو شکست دینے والے پی ٹی آئی کے امیدوار صداقت علی عباسی تعلیمی میدان میں بھی آگے نکلے ۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے صداقت علی عباسی نے اپنی تعلیمی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اسلامک یونیورسٹی سے ایم ایس سی اکنامکس مکمل کی جبکہ وہ اکنامکس میں ایم فل بھی کر چکے ہیں اور ساتھ ہیں ایم ایس آئی ٹی کی ڈگری بھی رکھتے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ وہ ٹیچنگ کے شعبہ سے وابستہ ہیں ، وہ اسلام آباد میں اے لیول کے طلبہ کو اکنامکس پڑھاتے تھے اور انہوں نے اپنے سکول بھی بنائے تاہم گزشتہ سال سیاست کو وقت دینے کیلئے انہوں نے یہ مصروفیات ترک کر دیں ۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ صداقت علی عباسی گزشتہ سال الیکشن ہار گئے تھے تاہم اس بار انہوں نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو شکست دیدی ہے ۔

ان کا کہناتھا کہ جس شخص کے خلاف میں نے الیکشن لڑا وہ چھ مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور سابق وزیراعظم بھی رہ چکے ہیں ،اس لیے میں جانتا تھا کہ انہیں شکست دینا اتنا آسان نہیں ہوگا اس لیے خصوصی محنت کی ضرورت ہوگی جس کے باعث میں نے اسے ایک جنگ تصور کیا اور اپنا سب کچھ اس میں لگا دیا ۔

شاہد خاقان کو ہرانا ایک مشکل کام تھا لیکن اس کے باوجود میں نے کمپین جاری رکھی اور بیانیہ اپنایا کہ جو شخص وزیراعظم رہ کر آپ کیلئے کچھ نہیں کر سکا تو و ہ قومی اسمبلی کا ممبر بن کر آپ کیلئے کیا کرے گا ۔انہوں نے کہا کہ یہ پہاڑی علاقہ ہے یہاں پر کمپین کیلئے جسمانی قوت کا ہونا بھی ضرور ی ہے اس لیے جب میر والدہ مجھ سے کمپین کے دوران یہاں ملنے کیلئے آئیں تو وہ میری حالت دیکھ کر رونے لگ گئیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سارا علاقہ پہاڑیوں پر ہے اس لیے یہاں پر پیدل بہت زیادہ چلنا پڑتا ہے جبکہ میں صرف دو گھنٹوں کیلئے ہی سوتا تھا ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس