وہ جنگل میں بھٹک رہا تھا اچانک ایک ہاتھ آیا جس نے اسے پستی سے اٹھا یا اور پہاڑ کی چوٹی پر بٹھا دیا ، جہاں سے وہ سب کچھ واضح دیکھ سکتا تھا

وہ جنگل میں بھٹک رہا تھا اچانک ایک ہاتھ آیا جس نے اسے پستی سے اٹھا یا اور پہاڑ ...
وہ جنگل میں بھٹک رہا تھا اچانک ایک ہاتھ آیا جس نے اسے پستی سے اٹھا یا اور پہاڑ کی چوٹی پر بٹھا دیا ، جہاں سے وہ سب کچھ واضح دیکھ سکتا تھا

  

مصنف : اپٹون سنکلئیر

ترجمہ :عمران الحق چوہان 

 قسط:156

آسٹرِنسکی نے بتایا کہ سوشلسٹ ہر مہذب قوم میں منظم تھے۔ یہ ایک عالمی سیاسی جماعت تھی۔ دنیا میں اس سے بڑی جماعت پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ اس سے وابستہ لوگوں کی تعداد 30 ملین تھی جن میں ووٹ دینے والے ارکان 8 ملین تھے۔ جاپان میں اس نے اپنا پہلا اخبار شائع کیا تھا اور ارجنٹینا میں اپنا پہلا ڈپٹی منتخب کروانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ فرانس میں اس نے کیبنٹ کے ارکان کی نامزدگی کی تھی جب کہ اٹلی اور آسٹریلیا میں طاقت کا توازن ان کے ہاتھ میں تھا اور انھوں نے وزیروں کو معطل کروایا تھا۔ جرمنی میں جہاں ان کا مجموعی ووٹ پوری سلطنت کے ایک تہائی سے زیادہ تھا، ساری دیگر جماعتیں اور طاقتیں سوشلسٹوں کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہوگئی تھیں۔ اب سوشلسٹ تحریک ایک عالمی تحریک تھی، تمام بنی نوع انسان کی تنظیم جو آزادی اور بھائی چارہ قائم کرنا چاہتی تھی۔ یہ انسانیت کا نیا مذہب تھا۔۔۔ یا آپ کَہہ سکتے ہیں کہ یہ پرانے مذہب کی تکمیل تھی، کیوں کہ یہ حضرت عیسیٰؑ کی تعلیمات پر حقیقتاً عمل درآمد کرتی تھی۔

یورگس آدھی رات سے زیادہ اس گفتگو میں کھویا رہا۔ یہ اس کے لیے انتہائی حیران کن تجربہ تھا۔۔۔ ایک مافوق الفطرت تجربہ۔ خلاءکی چوتھی بُعد کی کسی مخلوق سے آمناسامنا ہونے جیسا، جو ساری حدود سے ماوراءہو۔ چار سال سے یورگس جنگل میں بھٹک رہا تھا اور اب اچانک ایک ہاتھ آیا تھا جس نے اسے پکڑ کر اس پستی سے اٹھا یا اور ایک پہاڑ کی چوٹی پر بٹھا دیا تھا، جہاں سے وہ سب کچھ واضح دیکھ سکتا تھا۔ وہ راستے جن پر وہ بھٹکا پھرتا تھا، وہ دلدل جس میں وہ دھنس گیا تھا،ان شکاری درندوں کی کمیں گاہیں جو اس پر ٹوٹ پڑے تھے۔ پیکنگ ٹاؤن کے تجربات، مثلاً پیکنگ ٹاؤن کے وہ پہلو جن کی وضاحت آسٹرِنسکی نہیں کر سکا تھا ! یورگس کے لیے پیکرز ایک طرح سے مقدر کے برابر تھے۔ آسٹرِنسکی نے بتایا کہ وہ ایک ”بیف ٹرسٹ “( Beef Trust) تھے۔ وہ سرمائے کا بہت بڑا مجموعہ تھے، جس نے ساری مخالفت کو کچل دیا تھا، انھوں نے ملکی قوانین کو اٹھا کر پرے پھینک دیا تھا اور لوگوں کا شکار کھیل رہے تھے۔ یورگس کو یاد آیا کہ جب وہ پہلی بار پیکنگ ٹاؤن آیا تھا تو اس نے سؤر کو ذبح ہوتے دیکھا تھا، تب اسے یہ سب کتنا ظالمانہ لگا تھا اور اس نے شکر ادا کیا تھا کہ وہ سؤر نہیں ہے۔ لیکن اب نئے دوست نے اسے بتایا تھا کہ وہ بھی ایک سؤر ہی تھا۔۔۔ پیکرز کے لیے۔ سؤر سے وہ کیا چاہتے تھے ؟ صرف منافع، جتنا بھی حاصل ہو سکے، یہی وہ محنت کش سے چاہتے تھے اور یہی عوام سے چاہتے تھے۔ سؤ ر کیا سوچتا ہے، اس پر کیا گزرتی ہے، یہ ان کا مسئلہ نہیں تھا۔ اسی طرح مزدور ان کا مسئلہ نہیں تھا اور نہ ہی گوشت کا خریدار ان کا مسئلہ تھا۔یہی پوری دنیا کی سچائی تھی اور بالخصوص پیکنگ ٹاؤن کی۔ ذبح کے اس کام میں جو بے رحمی اور وحشت تھی وہی پیکرز کے کاروباری نظرئیے میں تھی۔ ان کی نظر میں سو محنت کشوں کی جان کی قدرمنافع کے ایک پیسے کے برابر بھی نہیں تھی۔ جب یورگس سوشلسٹ ادب سے واقف ہوا، جو وہ بہت جلد ہوگیا، تو اس نے بیف ٹرسٹ کا دیگر پہلوؤں سے جائزہ لیا اور ہر پہلو سے اسے یہ ایک جیسا ہی لگا۔ یہ اندھے اور بے حس لالچ اور لوبھ کی تجسیم تھا۔ یہ ایک عفریت تھا جو ہزاروں مونھوں کے ساتھ نگل رہا تھا، ہزاروں قدموں سے روند رہا تھا۔ یہ ایک عظیم قصائی تھا۔ سرمایہ دارانہ نظام ایک پیکر میں ڈھل گیا تھا۔ کامرس کے سمندر میں یہ بحری قزّاقوں کا جہاز تھا جس نے سیاہ جھنڈا لہراتے ہوئے تہذیب کے خلاف اعلان جنگ کر دیا تھا۔ رشوت اور بدعنوانی اس کے روز مرّہ کے ہتھکنڈے تھے۔ شکاگو میں سٹی گورنمنٹ محض اس کا ایک برانچ آفس تھی۔ وہ شہر کا اربوں گیلن پانی کھلم کھلا چوری کرتے تھے۔ وہ ہڑتال کرنے والوں کے خلاف عدالتوں کے فیصلے لکھواتے تھے۔ وہ میئر کو تعمیراتی قوانین پر عمل درآمد سے روک دیتے تھے۔ قومی سرمائے کی سطح پر وہ اپنی مصنوعات کا معائنہ نہیں ہونے دیتے تھے اور سرکاری رپورٹس میں ہیر پھیر کرتے تھے۔ وہ ریبیٹ (rebate) قوانین کی خلاف ورزی کرتے تھے اور جب کبھی تفتیش کا خطرہ ہوتا تو اپنا رکارڈ جلا دیتے اورمجرموں کو بیرونِ ملک فرار کروادیتے۔کاروباری دنیا میں یہ جگن ناتھ (Juggernaut) کا رَتھ تھا جو ہر سال ہزاروں کاروبار ملیا میٹ کر دیتا تھا۔ وہ لوگوں کو پاگل کرکے خودکشی پر مجبور کردیتا تھا۔ اس نے مویشیوں کی قیمت اتنی گرا دی کہ مویشی پالنے کی صنعت تباہ کردی، وہ پیشہ جس پر ساری ریاستوں کا وجود قائم تھا۔ اس نے ان ہزاروں قصائیوں کو برباد کردیا جنھوں نے ان کی مصنوعات کے لین دین سے انکار کیا۔ انھوں نے ملک کو اضلاع میں تقسیم کر کے سب جگہ گوشت کی قیمت مقرر کردی۔ تمام ریفریجریٹرز کاریں ان کی ملکیت تھیں، چنانچہ وہ تمام پولٹری، انڈے، پھل اور سبزیوں کی ترسیل پر بھاری معاوضہ لیتے تھے۔ ہفتے بھر میں ہونے والی کروڑوں ڈالر کی آمدنی کے باعث وہ دوسرے کاروباروں پر بھی کنٹرول کے لیے ہاتھ بڑھانے لگے تھے مثلاً، ریل روڈز اور ٹرالی لائینز، گیس اور بجلی کی فرنچائزز وغیرہ۔ وہ پہلے ہی ملک میں چمڑے اور غلّے کے کاروبار پر قبضہ کر چکے تھے۔ لوگ اس تجاوز پر بے چین تھے لیکن کسی کے پاس اس کا کوئی حل نہیں تھا۔ یہ سوشلسٹوں کا کام تھا کہ لوگوں کو سمجھائیں اور منظم کریں اور انھیں اس وقت کے لیے تیار کریں جب اس مشین کو روکا جائے گا جسے بیف ٹرسٹ کہتے ہیں، اور اسے قزاقوں کے ایک گروہ کے لیے دولت کے ڈھیر لگانے کے بجائے انسانوں کے لیے خوراک پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔۔۔ جب یورگس باورچی خانے کے فرش پر لیٹا تو آدھی رات ڈھل چکی تھی پھر بھی اسے ایک گھنٹے تک نیند نہیں آئی۔ اسے اس خوشگوار تصوّر نے جگائے رکھا جب پیکنگ ٹاؤن کے لوگ مارچ کرتے ہوئے یونئین سٹاک یارڈ پر قبضہ کریں گے۔( جاری ہے ) 

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -