نیب لاہور 2017سے اب تک 75ارب سے زائد کی ریکوری کرچکا 

نیب لاہور 2017سے اب تک 75ارب سے زائد کی ریکوری کرچکا 

  

 اسلام آباد (این این آئی)قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال کی زیرِ صدارت مین ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں نیب لاہور کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس جنرل ڈائریکٹر جنرل نیب لاہور  نے نیب لاہور کی مجموعی کارکردگی پر جامع بریفنگ دی گئی۔بریفنگ میں چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت کے دوران(2017 سے تاحال) نیب لاہور کیجانب سے ہونیوالی ریکوری کا نیب کے قیام 1999سے 2016 تک کی مجموعی ریکوری سے مکمل اعداد و شمار کے ساتھ تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ڈی جی نیب لاہور کی نگرانی میں گزشتہ چار سالہ دور میں نیب لاہور کی ڈائریکٹ و اِن ڈائریکٹ ریکوری، پنجاب کی56کمپنیوں میں ہونیوالی ڈائریکٹ و اِن ڈائریکٹ ریکوری کے علاوہ کمپنیز سکینڈل کی موجودہ صورتحال، ہاؤسنگ سیکٹر میں ہونیوالی ڈائریکٹ و اِ ن ڈائریکٹ ریکوری، معزز احتساب عدالتوں میں دائر کئے گئے ریفرنسز کی صورتحال کے علاوہ ملزمان کو سزائیں دلوانے کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا تفصیلات کے مطابق ڈی جی نیب لاہور نے بورڈ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ موجودہ قیادت کے دور میں  2017  سے تاحال نیب لاہور مجموعی طور پر  75 ارب  سے زائدکی ریکوری کر چکا   جس میں 14.4 ارب ڈائریکٹ جبکہ 66.6  ارب  اِن ڈائریکٹ ریکوری کے طور پر ملزمان سے برآمد کروائے گئے ہیں تاہم ماضی میں نیب کے قیام 1999سے2016تک کے 17  سالہ دور میں نیب لاہور نے مجموعی طور پر  41  ارب   7کروڑ کی ریکوری کی جس میں 17 ارب  7 کروڑ ڈائریکٹ اور  23  ارب کی اِن ڈائریکٹ ریکوری شامل ہے اسی طرح متاثرین کے نقصان کے ازالہ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ماضی کے 17 سالہ دور میں کل 8500 متاثرین کی داد رسی کی گئی جن میں 2014ء میں 1629متاثرین،   2015ء  میں 1401  متاثرین اور 2016ء میں 2524 متاثرین کے نقصان کا ازالہ شامل ہے جبکہ 1763 متاثرین کو اِن ڈائریکٹ ریکوری کروائی گئی اسی طرح موجودہ قیادت کے دور میں مجموعی طور پر58,790 متاثرین کے نقصان کا ازالہ کروایا گیا جسکی تفصیلات کیمطابق  14,200 متاثرین کو ڈائریکٹ کیش یا پے آرڈر(Orders Pay)کی صورت میں  5 ارب 60 کروڑ روپے تقسیم کئے گئے جبکہ 21628  متاثرین میں اِن ڈائریکٹ ریکوری کے طور پرمکانات، پلاٹ و  فلیٹ تقسیم کئے گئے۔ علاوہ ازیں 22,962 متاثرین  کو احتساب عدالتوں میں ریفرنس دائر کرنیکی صورت میں ریلیف فراہم کیا گیا۔پنجاب کی 56کمپنیوں کے کیس پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ نیب لاہور نے مذکورہ کیس میں 4  ریفرنس احتساب عدالتوں میں دائر کئے ہیں جن میں لاہور پارکنگ کمپنی (LPC) کیس، پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی (PPDC) کیس، پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی (PLDC) کیس اور پنجاب صاف پانی کمپنی۔ساؤتھ (PSPC) کیس شامل ہیں۔ فی الوقت نیب لاہور میں 7کمپنیوں کے کیسز کی انکوائریوں پر تحقیقات آخری مراحل میں جاری ہیں جبکہ 16کمپنیوں کے کیسز نیب ہیڈ کواٹرز کو مزید کارروائی کیلئے ارسال کئے گئے  علاوہ ازیں 33انکوائریاں عدم شواہد کی بنیاد پرقانون کے مطابق بند یا  مزید کارروائی کیلئے متعلقہ اداروں کو ریفر کی گئی ہیں جن میں 1انکوائری محکمہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (ACE) کو بھی منتقل کی گئی ہے۔ اسی طرح 2  انکوائریاں پہلے سے جاری انکوائریوں کے ساتھ ضم کر دی گئی ہیں۔ 56 کمپنیز سکینڈل میں ہونیوالی بڑی ریکوری پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی کیس میں ملزم اکرام نوید سے اِن ڈائریکٹ ریکوری کیصورت میں کم  و بیش ایک ارب مالیت کے اثاثہ جات  کی برآمدگی رہی جبکہ لاہور پارکنگ کمپنی کیس میں پلی بارگین کے تحت  8 کروڑ روپے کی ریکوری کی گئی ہے۔ 56 کمپنیز سکینڈل میں ایک اور قلیدی پیش رفت لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (LWMC) کیس میں کمپنی کو نیب لاہور کے اقدامات سے دو بین الاقوامی فرمز سے صفائی کیلئے استعمال ہونیوالی کم و بیش 500  ہیوی وہیکلز (Vehicles)  اور مشینری کے ملکیتی حقوق کی فراہمی کرواناہے۔ ان تمام وہیکلز و مشینری کی موجودہ مالیت کا تخمینہ4 سے 5ارب روپے لگایا جاتا ہے جو نیب لاہور حکام ہی کی انتھک کاوشوں کے سبب ممکن ہوسکا ہے۔ بریفنگ میں ڈی جی نیب لاہور نے کہا کہ عوام کو منافع کا لالچ دیتے ہوئے زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم کرنے والے المعروف ڈبل شاہ کیس میں ملوث ملزمان سے 3 ارب 49کروڑ روپے برآمد کروائے گئے جن میں سے   2  ارب 40 کروڑ روپے کی خطیر رقم متاثرین کو واپس بھی لوٹائی جا چکی ہے جو نیب لاہور کی اہم کامیابی ہے اس موقع پر چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کیجانب سے ڈی جی نیب لاہور کی سربراہی میں نیب لاہور کے اقدامات کو بھرپورسراہا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے ہر ممکن اقدامات بلا کسی دباؤ کے اٹھاتا رہے گا۔ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب نے موجودہ انتظامیہ کے دور میں 487ارب روپے کرپٹ عناصر سے وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کروائے ہیں جو نیب کی ایک نمایاں کامیابی ہے۔

کارکردگی رپورٹ

مزید :

صفحہ آخر -