ایل ڈی اے میں زمین رجسٹریشن کے طریقہ کار پر دلائل دینے کا حکم

ایل ڈی اے میں زمین رجسٹریشن کے طریقہ کار پر دلائل دینے کا حکم

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے گرین ایریاز پر ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے قیام کیخلاف کیس میں ریمارکس دیئے ہیں کہ بیرون ملک گرین ایریا سے ایک پتہ بھی ادھر سے ادھر نہیں ہوتا ہے اور یہاں پر گرین ایریاز پر سیمنٹ کے بڑے بڑے گھر بنائے جا رہے ہیں،زرعی اراضی پر ہاؤسنگ سوسائٹیز بنانے کیخلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران فاضل جج نے حیرت کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلند و بالا عمارتوں کی طرف نہیں گئے بلکہ گرین ایریاز پر بڑے بڑے گھر بنا رہے ہیں،  چیف جسٹس نے باور کرایا کہ جس فرد نے 2 کنال کا پلاٹ لے لیا ہے تو وہ بھی اس نے اپنی زندگی کی جمع پونجی جمع کر کے حاصل کیا ہے،ایک ملین گھر زرعی اراضی پر بن چکے ہیں،انہیں کون گرائے گا؟ شائد پنجاب کا زمیندارانہ مزاج ہم وراثت میں لے رہے ہیں،فاضل جج نے کہا کہ ذہین تبدیل نہیں کئے جسے تبدیل کرنے کی ضرورت تھی،دوران سماعت سرکاری وکیل نے عدالت کوبتایا کہ ایل ڈی اے ایکٹ کے خلاف ورزی کرنیوالے پر فرد جرمانے و قید کی سزا مقرر کی گئی ہے اور لے آؤٹ پلان ہے،بغیر ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے والے کے خلاف جرمانے عائد کئے جا سکتے ہیں،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ایل ڈی اے نے اس قانون پر عمل بھی کیا ہے؟ سرکاری وکیل نے عدالت کوبتایا کہ یہی تو المیہ ہے، ایل ڈی اے کے قانون پر عمل درآمد ہو جاتا تو آج یہ کیسز نیب کو نہ جا رہے ہوتے، عدالت نے آئندہ سماعت پر ایل ڈی اے میں زمین رجسٹریشن کے طریقہ کار پر دلائل دینے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتو ی کردی  درخواست گزار کا موقف ہے کہ سوسائٹیز اور کالونیاں ایل ڈی اے کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں، لاہور میں 64 کالونیز ہیں جن میں سے61 کالونیز زرعی زمین پر بنائی گئیں۔

سماعت ملتوی 

مزید :

صفحہ آخر -