شہدائے جموں اورقیام پاکستان

شہدائے جموں اورقیام پاکستان
 شہدائے جموں اورقیام پاکستان

  

برصغیرایک وسیع وعریض خطہ تھا جس کی سرحدیں ایک طرف درہ خیبرسے چاٹگام اور دوسری طرف کوہستان ہمالیہ سے راس کماری تک پھیلی ہوئی تھیں۔جب پاکستان کے قیام کی تحریک شروع ہوئی توبرصغیر کے ہرگوشے اورکونے میں رہنے والے مسلمانوں نے اس میں حصہ لیا اورہرطرح کی جانی ومالی قربانیاں دیں لیکن پاکستان کے قیام کے لئے جوقربانیاں جموں کے مسلمانوں نے دی ہیں اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔ جموں میں مسلمانوں کے قتل عام کا المیہ اور سانحہ سب سے الگ تھا۔ ہندوستان میں کانگریس بغل میں چھری اور منہ میں رام رام کے فارمولے اور مقولے پر عمل پیرا رہی لیکن جب جموں میں مسلمانوں کا قتل عام شروع ہوا تو ریاست کے مہاراجہ ہری سنگھ کی بغل میں بھی چھری تھی اور منہ میں بھی چھری تھی۔ ریاستوں اور مملکتوں میں جب فسادات ہوں تو حکمران اپنے ہم مذہبوں کے ساتھ ہمدردی کے باوجود ظاہری طور پر ہی سہی کچھ نہ کچھ غیر جانبداری کا بھرم ضرور قائم رکھتے ہیں۔ ہری سنگھ وہ حکمران تھا جس نے تمام رکھ رکھاؤ اور ظاہری تکلفات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مسلمانوں کے قتل عام کی نہ صرف کھلم کھلا سرپرستی کی بلکہ کوٹ میرا تحصیل اکھنور میں خود اپنے ہاتھوں سے مسلمانوں پر گولی چلا کر قتل عام کا آغاز کیا۔ جب مہاراجہ کا مسلمانوں کے ساتھ اس قدر منتقمانہ رویہ تھا تو اس کے فوجیوں، سپاہیوں، ہندو بلوائیوں اور آر ایس ایس غنڈوں کو بھلا کون روک سکتا تھا۔ جب تقسیم ہند کا حتمی فیصلہ ہو گیا تو ہندوؤں کی نیم عسکری تنظیم آر ایس ایس جموں میں رضاکاروں کی بھرتی شروع کر دی۔ مہاراجہ نے پنجاب کی سکھ ریاستوں سے تعاون حاصل کیا اور سادہ لباس میں ملبوس سکھ فوجی ریاست میں بلوائے گئے۔ آر ایس ایس کے مسلح تربیت یافتہ رضاکاروں اور سکھ فوجیوں کی مجموعی تعداد 50 ہزار کے قریب تھی جبکہ مہاراجہ کی اصل ریاستی طاقت 13بٹالین فوج اور پولیس کی نفری اس پر مستزاد تھی۔ ان سب نے مل کر ریاست کشمیر اور بالخصوص جموں میں مسلمانوں کی آبادیاں لوٹ لیں اور ان کا بے پناہ و بے دریغ قتل عام کیا۔جموں میں مسلمانوں کے ساتھ جو ہوا وہ المناک اور خون کے آنسو رلا دینے والا باب ہے۔ اس کی تفصیل جاننے سے پہلے مختصراً یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ڈوگرے کون تھے؟ وہ 80فیصد مسلمان آبادی والی ریاست کے حکمران کیسے بنے اور مسلمانوں کے ساتھ ان کے حد سے بڑھے ہوئے معاندانہ رویہ کی وجہ کیا تھی۔۔۔۔۔۔؟ان حقائق و معاملات کو سمجھنا اس لئے ضروری ہے کہ ان کا جموں میں مسلمانوں کے قتل عام سے گہرا تعلق ہے۔

ڈوگرا راج کا بانی گلاب سنگھ دو روپے ماہوار پر رنجیت سنگھ کی فوج میں بھرتی ہوا۔ یہ نہایت ہی دھوکے باز اور انتہا درجے کا خودغرض شخص تھا۔ اس کی بے رحمی کو دیکھتے ہوئے رنجیت سنگھ نے 1819ء میں جموں جاگیر کا انتظام اس کے سپرد کر دیا۔ جب سکھوں اور انگریزوں کی باہم آویزش شروع ہوئی تو گلاب سنگھ درپردہ انگریزوں سے سازباز کر چکا تھا۔ سکھوں کو انگریزوں کے مقابلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے بطور تاوان اپنے علاقے جن میں جموں کشمیر بھی شامل تھا انگریزوں کو پیش کر دیے۔ انگریزوں نے مارچ 1846ء میں جموں کشمیر کا 84ہزار مربع میل کا علاقہ 75 لاکھ نانک شاہی (آج کے پچاس لاکھ کے برابر) کی معمولی رقم، چند بھیڑوں اور کمبلوں کے عوض گلاب سنگھ کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ اس سودے بازی میں ریاست کی سرزمین 14پیسے فی ایکڑ اور باشندے سات روپے پچاس پیسے فی کس کے حساب سے فروخت ہوئے۔۔۔اس طرح 80 فیصد مسلمان آبادی والی ریاست میں ڈوگرا راج کی بنیاد پڑی۔ گلاب سنگھ کو چونکہ انگریزوں کی پشت پناہی حاصل تھی اس لئے اس نے اقتدار سنبھالتے ہی ریاست میں توسیع کی غرض سے قرب وجوار کی مسلمان جاگیروں مظفرآباد، راجوری، بھمبر، پونچھ اور دیگر علاقوں پر چڑھائی شروع کر دی۔اس طرح وہ اپنی ریاست میں توسیع کرتا چلاگیا۔

ڈوگروں کا ریاست جموں کشمیر پر قبضے کا دورانیہ ایک سو سال پر محیط ہے اس عرصے میں انہوں نے مسلمانوں پر جو مظالم روا رکھے زبان انہیں بیان کرنے اور قلم احاطہ تحریر میں لانے سے قاصر ہے۔ ڈوگرے مذہباً ہندو تھے، نسلی برتری کا شکار اور ذات پات کی تفریق کے سختی سے قائل تھے یہی وجہ تھی کہ کشمیری مسلمانوں کے ساتھ ان کا رویہ حاکم اور رعایا والا نہیں بلکہ ہندو اور مسلمان والا تھا۔ ظلم، جبر، استحصال، بیگار، غربت، جہالت، عزتوں کی پامالی، دین پر پابندی، اسلامی شعائر کی توہین اور ٹیکسوں کے ذریعے معیشت و زراعت کی تباہی یہ ڈوگرا دور کی عام سوغات تھیں۔گلاب سنگھ نے اپنے اقتدار کی بنیاد اس اصول پر رکھی تھی کہ جہاں تک ممکن ہو اسلام کو دفنا دو، مسلمانوں کو مٹا دو اور ہندو مذہب کو فروغ دو۔ 1885ء میں پرتاب سنگھ تخت نشین ہوا تو اس کے دور میں سرکاری سطح پر شدھی، سنگھٹن اور ہندو مہاسبھائی تحریکوں کی سرپرستی کی گئی۔

اسلام اور مسلمان دشمن سرگرمیوں کا سب سے بڑا مرکز جموں تھا اس لئے کہ یہ گلاب سنگھ کا جائے پیدائش اور ڈوگرا راج کی سیاسی و انتظامی طاقت کا مرکز تھا۔ لیکن جس طرح فرعون کے گھر موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے ایسے ہی ڈوگرا دور میں اسلام کے تحفظ اورآزادی کی پہلی موثر آواز جموں سے ہی اٹھی۔ 29اپریل 1931ء کو جموں میں خطبہ عیدالاضحیٰ کی بندش، جموں پولیس لائنز میں ایک ہندو کانسٹیبل کے ہاتھوں توہین قرآن کے واقعات نے جموں کے مسلمانوں کے ایمان کو گرما اور تڑپا کر رکھ دیا۔ اس کے بعد 13جولائی 1931ء کو سری نگر میں اذان مکمل کرتے 22کشمیری مسلمانوں کی مظلومانہ شہادت۔۔۔ ایک سال میں یکے بعد دیگرے رونما ہونے والے یہ تین واقعات تحریک آزادی کشمیر کا نقطہ آغاز ثابت ہوئے۔ آزادی کی یہ تحریک سری نگر کی جامع مسجد کے مقدس ماحول اور منبر ومحراب میں پلی، بڑھی اور جوان ہوئی۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس تحریک کی بنیاد ۔۔۔۔۔۔ کلمہ طیبہ پر تھی۔ جب قیام پاکستان کی تحریک چلی تو اس کی بنیاد بھی کلمہ طیبہ پر تھی اس لئے دونوں تحریکوں کا یکجا ہونا فطری امر تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب ہندوستان کے طول و عرض میں پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ کا نعرہ گونجا تو اہل کشمیر نے بلاتامل اپنا مستقبل پاکستان سے وابستہ کر لیا۔ سچی بات یہ ہے کہ اگر’’ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ محمد الرسول اللہ ‘‘کا نعرہ نہ لگتا تو جموں کشمیر کے مسلمان اپنا مستقبل کبھی بھی پاکستان سے وابستہ نہ کرتے۔ اسی طرح اگر اہل کشمیر کے مسائل و معاملات اور مطالبات سماجی، انتظامی یا ذاتی نوعیت کے ہوتے توجموں کے مسلمانوں کو خون کے دریا سے نہ گزرنا پڑتا لیکن چونکہ وہ اپنا مستقبل پاکستان سے وابستہ کر چکے تھے اس لئے مہاراجہ ہری سنگھ، کانگریس اور انگریز کی طرف سے ان کو بہت ہی بھیانک اور المناک سزا دی گئی۔ بڑے منظم طریقے سے ان کے قتل عام کی منصوبہ بندی کی گئی۔ مہاراجہ کی 13بٹالین فوج میں ایک بٹالین مسلمانوں کی تھی اسے غیر مسلح کر دیا گیا۔ مسلمان پولیس افسروں اور سپاہیوں کو برطرف کر دیا گیا۔ جموں میں جن مسلمانوں کے پاس اسلحہ تھا وہ بحق سرکار ضبط کر لیا گیا۔جموں میں قتل عام کے منصوبے کی نگرانی جموں کے گورنر چیت رام چوپڑا اور ہری سنگھ کی بیوی تارا دیوی نے خود کی۔ ریاست کا وزیراعظم مہر چند مہاجن بھی پیش پیش تھا۔ مہاجن نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ اگر وہ اپنی جان ومال اور عزتوں کا تحفظ چاہتے ہیں تو پاکستان کی طرف ہجرت کر جائیں۔ آپ سب کے پاکستان جانے کا انتظام سرکاری سطح پر کیا جائے گا۔ چنانچہ جموں کے مسلمانوں کا قافلہ تقریباً 60بسوں میں پاکستان جانے کیلئے تیار ہو گیا۔ جب یہ قافلہ سانبہ سے چند میل کے فاصلے پر مہوا کے قریب پہنچا تو وہاں ڈوگرافوجی پہلے سے گھات لگائے بیٹھے تھے۔ انہوں نے پہلے اہل قافلہ سے نقدی اور قیمتی اشیاء چھینیں، پھر اندھا دھند قتل عام شروع کر دیا اس کے بعد نوجوان لڑکیوں کو اغوا کر لیا گیا۔ اہل قافلہ میں سے بمشکل چند افراد ہی جانیں بچا کر بھاگ سکے تھے۔ ٹائمز آف لندن کے مطابق چند دنوں میں صرف جموں کے ڈھائی لاکھ مسلمان شہید کر دیئے گئے اور 5 لاکھ سے زائد افراد پاکستان ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ یہ ہے جموں کے مسلمانوں پر گزرنے والی قیامت صغریٰ کا مختصر تذکرہ لیکن آ ج یہ سب کچھ کس کو یاد ہے۔۔۔؟ کون جانتا ہے کہ جموں کے مسلمانوں کی پاکستان سے محبت۔۔۔۔۔۔ کیسی آزمائش بن گئی اور ان کو اس آزمائش و محبت کی کتنی قیمت ادا کرنا پڑی۔۔۔؟ مگر آفرین ہے ان اہل وفا پر کہ جان، مال، عزت، آبرو، عزیزواقارب، گھربار، کاروبار ۔۔۔ سب کچھ قربان کر کے بھی وہ پاکستان کے ساتھ محبت و تعلق میں ثابت قدم رہے اور آج بھی ثابت قدم ہیں، اگرچہ1947ء میں جموں کے مسلمانوں نے اپنا فرض پورا کر دیا تھا اس کے بعد ضروری تھا کہ ہمارے حکمران اپنا فرض پورا کرتے، بھارت کے ساتھ تعلقات، معاملات، مذاکرات، روابط اور تجارت میں مسئلہ کشمیر سر فہرست رکھتے۔ UNکی قراردادوں پر عملدرآمد کی سنجیدہ کوششیں کرتے۔ مقبوضہ جموں کشمیر کے مسلمانوں کے مسائل و مصائب کو اپنے مسائل سمجھتے۔۔ کشمیر کی آزادی کیلئے اسی طرح نتیجہ خیزجدوجہد کرتے جس طرح اہل کشمیر نے قیام پاکستان کے لئے کی تھی۔ سچی بات یہ کہ اس وقت کشمیر کی تحریک آزادی’’اب یا کبھی نہیں‘‘کے فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکی ہے۔تحریک کی کامیابی اور مقبوضہ وادی کی آزادی کے ساتھ پاکستان کااستحکام وابستہ ہے۔لہذا ضروری ہے کہ پاکستان بھی فیصلہ کن کرداراداکرے۔

مقبوضہ وادی میں آزادی کی تحریک پوری قوت کے ساتھ جاری ہے اور اہل کشمیر آزادی کے حصول کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں۔ ان حالات میں دیکھنا یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہم کہاں کھڑے اور کیا کررہے ہیں۔۔۔ ؟قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو شہ رگ پاکستان کہہ کر اس کی اہمیت واضح کر دی تھی۔ اس کے بعد بانی پاکستان کی زندگی نے وفا نہ کی تو ہمارے حکمرانوں نے کشمیر سے وفا کرنا چھوڑ دی۔ اگر ہمارے حکمرانوں نے کشمیر کی حیثیت کو جانا ہوتا ۔۔۔ اس کی آزادی کو اپنی آزادی سمجھا جاتا تو کشمیر کب کا آزاد ہو چکا ہوتا۔ آج شہدا جموں کی قربانیوں میں ہمارے لئے یہ پیغام ہے کہ اگر ہم اپنی آزادی و خودمختاری کو برقرار رکھنا، ملک کے دفاع کو مضبوط و مستحکم کرناچاہتے ہیں تو ہمیں استقامت،اتحادواتفاق کا راستہ اختیار کرنا ہو گا اور کشمیر کی آزادی کو اولین ترجیح دینا ہو گی۔

مزید :

کالم -