اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 155

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 155

  

میں نے سوچا کہ اگر کوئی ڈاکو اس کیبن میں ہوتا تو بحری قزاق کی چیخ کی آواز سن کر ضرور باہر آجاتا۔ میں نے پاؤں کی ٹھوکر مار کر دروازہ کھول دیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ کیبن کے ایک ستون کے ساتھ چراغ دان روشن ہے۔ لکڑی کے فرش پر ناریل کی چھال بچھی ہے اور اس پر ایک عورت اور ایک بوڑھا آدمی اس طرح بیٹھے ہیں کہ دونوں کے منہ رومال سے بند ہیں اور ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہیں۔ میں ان کو اور وہ مجھے۔۔۔ حیرانی سے دیکھ رہے تھے۔ عورت نوجوان تھی۔ بال سیاہ اور لمبے تھے جو اس کے شانوں پر بھرے تھے۔ لباس مغربی طرز کا تھا اور آدمی کی عمر ساٹھ پینسٹھ کی ہوگی او راس کے بال لمبے پٹے تھے جن میں سفید لٹیں صاف نظر آرہی تھیں۔ چہرے پر نقاہت اور کمزوری تھی۔ میں نے پرتگالی زبان میں ان سے پوچھا کہ وہ کون ہیں، پھر میں نے آگے بڑھ کر ان کے منہ کھول دئیے۔ عورت خوبصورت تھی اور چہرے سے خاندانی شرافت اور نجابت ٹپکتی تھی۔ ادھیڑ عمر آدمی نے پرتگالی زبان میں ہی مجھ سے پوچھا کہ میں کون ہوں؟ کیونکہ میرا لباس بحری قزاقوں جیسا نہیں تھا۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 154 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

میں نے کہا ’’میں کون ہوں؟ اس سوال کا جواب کافی تفصیل طلب ہے۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ تم لوگ مجھے بتاؤ کہ تم کون ہو اور ڈاکوؤں نے تمہیں کس لئے باندھ رکھا ہے۔ تب بوڑھے نے مجھے بتایا ’’میر انام کاؤنٹ کارڈول ہے اور یہ میری بھانجی زابیلا ہے۔ پرتگال کی بندرگاہ لزبن سے تھوڑی دور سمندر میں ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے جو میری ملکی ہے۔ وہاں ہمارا ایک محل ہے۔ میری کوئی اولاد نہیں۔ میں اپنی بھانجی کے ساتھ اپنے محل میں رہتا تھا کہ چند روز پہلے ان بحری قزاقوں نے میرے جزیرے پر آکر محل پر دھاوا بول دیا۔ میرے نوکروں اور نوکرانیوں کو قتل کرکے ہمارے قیمتی جواہرات لوٹ لیے اور ہمیں قید کرکے اپنے ساتھ لے آئے۔ بس یہ ہماری کہانی ہے۔ مگر تم کون ہو۔ تم بحری قزاقوں کے ساتھی نہیں لگتے؟‘‘

میں نے انہیں بتایا کہ میں ایک سیاح ہوں۔ جڑی بوٹیوں کی تجارت بھی کرتا ہوں۔ اپنی سیاحت کے دوران ایک جہاز پر سفر کررہا تھا کہ جہاز سمندری طوفان میں گھر کر تباہ ہوگیا۔ میں کسی نہ کسی طرح جان بچا کر اس جزیرے پر پہنچنے میں کامیاب ہوگیا جب ان بحری قزاقوں کو جزیرے پر اترتے دیکھا تو ایک خاص جڑی بوٹی کی مدد سے تمام قزاقوں کو بے ہوش کردیا اور خود کشتی لے کر اس جہاز پر آگیا۔

عورت نے کہا ’’اور ابھی جس ڈاکو کی چیخ بلند ہوئی تھی۔ وہ ۔۔۔ وہ کہاں ہے؟‘‘

میں نے اسے بتای اکہ وہ راہ داری میں ایک طرف بے ہوش پڑا ہے۔ یا مجھ سے مقابلہ کرتے ہوئے مارا گیا ہے۔‘‘

بوڑھے کاؤنٹ نے کہا ’’ہمارے ہاتھ کھول دو۔ تم سے مل کر بڑی خوشی ہوئی۔‘‘

میں نے دونوں کی رسیاں کھول ڈالیں۔ عورت اپنی کلائیوں کو دبانے لگی۔ میں نے کاؤنٹ سے کہا

’’میرا منشا یہ ہے کہ اس جہاز کو یہاں سے اغوا کرکے اندلس یا پرتگال کی کسی قریبی بندرگاہ پہنچا جائے۔ میری منزل اندلس تھی۔ میں اندلس جانا چاہتا ہوں مگر کیا آپ جہاز کو ٹھیک ٹھیک سمندری راستے پر چلاسکتے ہیں؟‘‘

کاؤنٹ کارڈول بولا ’’میرا تعلق پرتگال کے شاہی خاندان سے ہے۔ ہمارے آباؤاجداد جنگی لڑائیاں لرتے رہے ہیں۔ جہاز رانی ہماری گھٹی میں پڑی ہے۔ اگر باہر ہوا چل رہی ہے تو میں قطبی ستارے اور سورج کی مدد سے جہاز کو یہاں سے نکال کر پرتگال کے ساحل تک لے جانے میں کامیاب ہوجاؤں گا۔‘‘میں نے اسے بتایا کہ باہر ہوا چل رہی ہے اور دن نکلنے میں ابھی ایک پہر باقی ہے اور سورج نکلنے تک بحری قزاق بھی ہوش میں آجائیں گے۔‘‘

’’اس کا مطلب ہے کہ ہمیں سورج طلوع ہونے سے پہلے پہلے یہاں سے جہاز نکال کر لے جانا ہوگا۔ میرے ساتھ آؤ۔‘‘ ازابیلا کو ہم نے وہیں کیبن میں رہنے کی ہدایت کی اور خود باہر راہ داری میں آگئے۔ بحری قزاق وہیں پڑا تھا کاؤنٹ جھک کر اس کے سینے پر ہاتھ رکا اور بولا ’’یہ وحشی درندہ مرچکا ہے۔ نہ جانے اس نے کتنے بے گناہوں کو قتل کیا ہوگا۔ میرے ساتھ عرشے پر آؤ۔‘‘

عرشے پر آئے تو مشرق کی طرف سے ہوا کے جھونکے چلے آرہے تھے۔ رات ڈھلنے لگی تھی۔ ہم نے بادبانوں کی رسیاں کھولنی شروع کردیں۔ جزیرے کی طرف وہی گہرا سناٹا طاری تھا۔ اس کا مطلب تھا کہ بحری قزاق ابھی تک ہوش میں نہیں آئے تھے صبح ہونے سے پہلے انہیں ہوش آبھی نہیں سکتا تھا۔

ہم نے بادبان کھول دئیے۔ بادبانوں کے کھلتے ہی ان میں ہوا بھر گئی، پھر ہم نے جہاز کا لنگر کھینچنا شروع کردیا۔ لنگر کے اٹھتے ہی جہاز چرچرایا اور پھولے ہوئے بادبان اسے آگے کی طرف سمندر میں دھکیلنے لگے۔ بوڑھا کاؤنٹ ایک ماہر جہاز رات کی طرح لکڑی کی چرخی کو پکڑے کھڑا تھا وہ اسے پوری طاقت سے ایک طرف گھمارہا تھا اور آنکھیں مغرب کی طرف آسمان پر نکلتے ہوئے قبطی ستارے پر جمی تھیں۔ اس جزیرے کی طرف دیکھا اور کہا

’’برخوردار! اگر ایک پہر تک بحری قزاقوں کو ہوش نہ آیا اور ہوا اسی طرح چلتی رہی تو ہم ان کی پہنچ سے بہت دور نکل جائیں گے۔ تم نے ان موذیوں کو بے ہوش کرکے بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔ میں حیران ہوں کہ تم نے اکیلے یہ کام کیسے کرلیا۔ ضرور تم جادوگر ہو یا بہت بہادر نوجوان!‘‘

میں خاموش کھڑا جزیرے کی طرف دیکھ رہا تھا جہاں درختوں کے جھنڈ پچھلے پہر کی دھند کی نیلی روشنی میں اب کسی قدر صاف دکھائی دینے لگے تھے۔ ہمارا جہاز سمندر میں مغرب کی طرف چل نکلا تھا۔ یہ بڑی خوش آئند بات تھی۔ یہ ہماری خوش قسمتی تھی کہ ہوا ساتھ دے رہی تھی۔ اگر ہوا نہ چل رہی ہوتی تو ہم جہاز کو ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھا سکتے تھے۔ جزیرے کا ساحل آہستہ آہستہ ہم سے دور ہونے لگا تھا۔ جس وقت سورج کی سنہری کرنوں نے مشرقی افاق سے طلوع ہوکر سمندر پر اپنا سونا بکھیرنا شروع کیا تو ہمارا بادبانی جہاز جزیرے سے کافی دور نکل کر کھلے سمندر میں آچکا تھا۔ کاؤنٹ نے جہاز کو صحیح سمت پر ڈلا کر چرخی کو باندھ دیا تھا۔ یں نے محسوس کیا کہ کاؤنٹ کی بھانجی ازابیلا کھل کر بات نہیں کرتی تھی۔ وہ چپ سی رہتی تھی اس کے چہرے پر اداسی کی ایک خاموش کیفیت تھی۔ کیا اسے بحری قزاقوں سے بچ نکلنے کی خوشی نہیں تھی؟

ہمیں سمندر میں سفر کرتے تیسرا دن جارہا تھا۔ اس عرصے میں مَیں نے ازابیلا کے دل کو ٹٹولنے کی کوشش بھی کی مگر کامیاب نہ ہوسکا۔

کاؤنٹ جہاز کو پرتگال کی جانب اپنے آبائی جزیرے کی طرف لے جارہا تھا۔ اس میں کوئی قباحت نہیں تھی۔ پرتگال کی سرحد اندلس سے ملی ہوئی تھی اور میں وہاں سے بڑی آسانی سے اندلس جاسکتا تھا۔ میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ بوڑھے کاؤنٹ نے ازابیلا کو اپنے رعب میں رکھا ہوا تھا اور وہ اس سے دبی ہوئی تھی بلکہ کسی حد تک خوف زدہ سی تھی۔

سمندر میں ہمارا سفر جاری رہا۔ بوڑھا کاؤنٹ واقعی بڑا مرہ جہاز راں تھا۔ وہ جہاز کو بالکل ٹھیک سمت پر چلارہا تھا۔ چھٹے روز ہمٰں دور درختوں کے جھنڈ نظر آئے۔ بوڑھے کاؤنٹ نے اپنا ہیٹ اتار کر ایک پرمسرت نعرہ لگا کر کہا

’’سینور! وہ دیکھو ہمارا جزیرہ!‘‘

میں نے درزدیدہ نظرں سے اس کی بھانجی ازابیلا کو دیکھا، ازابیلا کے چہرے پر اداسی کچھ گہری ہوگئی تھی۔ صاف معلوم ہورہا تھا کہ اسے اپنے آبائی جزیرے پر پہنچنے کی کوئی خوشی نہیں ہے۔ بہرحال یہ ان کا ذاتی معاملہ تھا۔ میں نے بوڑھے کاؤنٹ سے پوچھا کہ اس جزیرے سے پرتگال کی بندرگاہ لزبن کتنی دور ہوگی کیونکہ مجھے اندلس جانا ہے۔

کاؤنٹ بولا۔ میرے جزیرہ سے لزبن سے کشتی پر ایک دن اور اس قسم کے جہاز پر نصف دن کی مسافت پر ہے۔ تم فکر نہ کرو میرے بچے۔ میں تمہیں اپنی خاص کشتی پر لزبان پہنچا آؤں گا۔ تم نے ہمیں درندوں کی قید سے بچایا ہے اور ہمارے جواہرات بھی ہمیں واپس مل گئے ہیں۔ تمہارا یہ احسان میں کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔‘‘

یہ قیمتی جواہرات مخمل کی ایک تھیلی میں بند تھے جو سردا رکے کیبن میں ایک پلنگ کے نیچے سے ہمیں مل گئی تھی۔ کاؤنٹ کارڈول نے اسی وقت تھیلی کو اپنے کمر کے گرد باندھ کر اپنے قبضے میں کرلی تھی۔ ہمارا جہاز کاؤنٹ کے جزیرے پر پہنچ کر ساحل سے کچھ دور سمندر میں لنگر انداز ہوگیا۔ کاؤنٹ نے بتایا کہ وہ اس جہاز میں ضروری تبدیلیاں کرنے کے بعد اسے اپنے لئے محفوظ کرلے گا۔ میں نے جب اس خدشے کا اظہار کیا کہ بحری قزاق انتقام لینے اس کے جزیرے پر واپس بھی آسکتے ہیں تو اس نے میری طرف دیکھا اور کہا

’’میں لزبن سے کرائے کی فوج بھرتی کروں گا۔ اب میں اپنے محل میں اکیلا نہیں رہوں گا۔ میری فوج کے جوان بحری قزاقوں کے پرخچے اڑادیں گے۔‘‘

بوڑھے کاؤنٹ کا محل اس چھوٹے سے پرتگالی جزیرے کے وسط میں تھا۔ اس تین منزلہ دو سو سالہ پرانے محل کی دیواریں بارش اور دھوپ کی مار سہہ سہہ کر سیاہ پڑچکی تھیں۔ محل کے گیٹ پر دو ہٹے کٹے پرتگالی دربان نیزوں سے مسلح کھڑے تھے۔ اپنے مالک اور ازابیلا کو دیکھ کر وہ تعظیم کے انداز میں جھک گئے۔

کاؤنٹ کارڈول نے مجھے بھی تازہ دم ہونے کو کہا، ایک حبشی خادمہ مجھے میرے کمرے میں لے گئی جو دوسری منزل پر تھا اور اس کی کھڑکی باغ کی طرف کھلتی تھی۔(جاری ہے)

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 156 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -اہرام مصرسے فرار -