اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 154

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 154

  

اس بوٹی کی شاخوں میں چھوٹے چھوٹے گول پھول لگے تھے۔ جو نسواری رنگ کے بیجوں سے بھرے ہوئے تھے۔ مگر مجھے ان بیجوں کی ضرورت نہیں تھی۔ میں نے بوٹی کے سبز پتوں کو توڑ کر اپنے پاس جمع کیا، انہیں دونوں ہاتھوں سے مسل کر نرم کردیا۔ ان میں سے ہرے رنگ کا عرق ٹپکنے لگا تھا۔ اب میں خاموشی سے چھپ کر رات کا اندھیرا پھیلنے کا انتظار کرنے لگا۔ بحری ڈاکوؤں کے انداز بتارہے تھے کہ وہ اسی جزیرے پر رات بسر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جزیرے پر سورج غروب ہوتے ہی اندھیرے نے بڑھنا پھیلنا شروع کردیا۔ قبیلے والوں کے تقریباً سارے جانور بھون کر بحری قزاق ہڑپ کرچکے تھے اور اب ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے بے ہنگم رقص کررہے تھے۔ الاؤ کے گرد روشنی تھی جہاں انہوں نے پانی اور مشروب سے بھرے ہوئے دو بڑے مٹکے رکھے تھے وہاں جھونپڑی کی دیوار کا سایہ پڑ رہا تھا۔ مجھے اسی جگہ پہنچنا تھا۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 153 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

جب اندھیرا زیادہ گہرا ہوگیا تو میں نے بوٹی کے کچلے ہوئے سبز پتے چادر میں لپیٹے اور گھنی جھاڑیوں کی اوٹ میں ٹیلے سے نیچے اترنے لگا۔ رات کی تاریکی میری مدد کررہی تھی۔ ویسے بھی میں جزیرے کا ایک چکر کاٹ کر اندھیرے میں جھونپڑیوں کے عقب میں نکل آیا۔ میں پھونک پھونک کر قدم رکھتا اسی خاص جھونپڑی کی طرف بڑھ رہا تھا جہاں کھپریل کی دیوار کی اوٹ میں مشروب اور پانی کے دونوں بڑے مٹکے رکھے تھے۔ بحری قزاقوں کے قہقہوں اور اونچی آواز میں باتیں کرنے کی آواز مجھے صاف سنائی دے رہی تھیں یہ ڈاکو پرتگالی زبان میں باتیں کررہے تھے۔

جب مجھے درختوں کے بیچ میں سے الاؤ کی روشنی دکھائی دی تو میں نے گھاس پر اوندھے لیٹ کر آگے رینگنا شروع کردیا۔ خوش قسمتی سے اس طرف کوئی آدمی نہیں تھا۔ میں رینگ رینگ کر مشروب کے مٹکے کے پاس پہنچ گیا۔ چند قدم کے فاصلے پر دو ڈاکو میری طرف پیٹھ کئے گھاس پر لیٹے لکڑی کے پیالے سامنے رکھے باتیں کررہے تھے۔ دونوں مٹکوں کے ڈھکنے غائب تھے۔ بڑا سنہری موقع تھا۔ میں نے لیٹے ہی لیٹے جھولی میں سے کچلی کی ہوئی بوٹی کے سبز پتے نکالے او رباری باری دونوں مٹکوں میں ڈال دئیے۔

اس کام سے فارغ ہوتے ہی تیزی سے گھوما اور کہنیوں کے بل پیچھے درختوں اور گھنی اونچی گھاس کی طرف رینگنے لگا۔ ایک لمبا چکر کاٹ کر میں دوبارہ اسی ٹیلے پر آکر جھاڑیوں میں چھپ کر بیٹھ گیا۔ میری نظریں نیچے بحری قزاقون کو دیکھ رہی تھیں جو مدہوشی کے عالم میں رقص کررہے تھے۔ پھر ان میں سے ایک قزاق اٹھا اور مٹکے کے پاس جاکر لکڑی کا جگ مشروب سے بھر کر لے آیا۔ میں یہی چاہتا تھا۔ اس نے قزاقوں کے پیالے دوبارہ بھردئیے۔ آدھی رات تک یہ لوگ مٹکے میں سے مشراب بھر بھر کر لاتے اور پیتے رہے۔ مجھے خوب معلوم تھا کہ جنگلی بوٹی کبھی دھوکا نہیں دے گی اور وہ اپنا اثر ضرور دکھائے گی چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ آدھ گھنٹے بعد بحری قزاقوں کا شور مدہم پڑگیا۔ میں دیکھ رہا تھا کہ الاؤ کے گرد جو ڈاکو لیٹا ہے وہ دوبارہ نہیں اٹھ رہا اور جو بیٹھا ہے وہ لیٹ گیا ہے۔ رات کا آخری پہر گزررہا تھا کہ جزیرے پر گہری خاموشی چھاگئی۔ سارے کے سارے بحری قزاق سردار سمیت زمین پر جگہ جگہ بے ہوش پڑے تھے۔

میں ٹیلے سے اتر کر ان کے قریب آیا۔ وہ سب بے ہوش ہوچکے تھے۔ میں ساحل پر آگیا۔ یہاں ان قزاقوں کی دونوں کشتیاں خالی پڑی تھیں۔ مجھے معلوم تھا کہ یہ لوگ صبح ہونے تک بے ہوش رہیں گے۔ میں ایک کشتی میں بیٹھا اور اسے لے کر جہاز کی سمت چل پڑا۔ بحری قزاقوں کا جہاز وہاں سے ڈیڑھ فرلانگ کے فاصلے پر سمندر میں خاموش کھڑا تھا۔ جہاز کے بادبان لپٹے ہوئے تھے۔

اگرچہ سارے بحری قزاق جزیرے پر آگئے تھے۔ پھر بھی اس بات کا اندیشہ تھا کہ جہاز پر دو تین قزاق ضرور پہرہ دے رہے ہوں گے۔ مجھے ان سے چوکس رہنے کی ضرورت تھی۔ میں سمندر میں اس طرح چپو چلا رہا تھا کہ ان کی آواز پیدا نہیں ہورہی تھی، جہاز کے اس حصے کی جانب جدھر اندھیرا تھا میں کشتی کو لے کر آگے بڑھا۔ اب میں نے چپو کشتی میں رکھ دئیے تھے اور ہاتھ کی مدد سے کشتی کو جہاز کے پہلو میں لے آیا۔ یہ جہاز زیادہ بڑا نہیں تھا۔ بحری ڈاکو زیادہ بڑے جہاز نہیں رکھا کرتے تھے۔ ان کے جہاز چھوٹے اور ہلکے پھلکے ہوتے اور وہ دشمن کے بھاری بھرکم جہاز کو بڑی پھرتی سے حرکت کرکے تباہ کردیا کرتے تھے۔

جہاز کی دیوار کے عین وسط میں دو تین موٹے رسے لٹک رہے تھے۔ میں نے ایک رسے کو آہستہ سے تھام کر کھینچا۔ میری کشتی جہاز کی دیوار کے ساتھ لگ گئی۔ میں رسے کی مدد سے جہاز کے عرشے کی جانب چڑھنے لگا۔ میں نے جنگلے میں سے سرنکال کر جہاز کے عرشے پر ایک نگاہ ڈالی۔ جہاز کا عرشہ بالکل خالی تھا۔ کچھ لکڑی کے ڈرم اور موٹے رسوں کے کچے وسط میں پڑے تھے اور چرخی سے بادبان کی رسیاں لپٹی ہوئی تھیں۔ یہاں کوئی نہ کوء ی پہرے دار ضرور تھا لیکن وہ مجھے نظر نہیں آرہا تھا۔ میں خاموشی سے جہاز کے عرشے پر چڑھ آیا۔ چند سیکنڈ تک میں وہیں جنگلے پر عرشے کے تختے پر لیٹا حالات کا جائزہ لیتا رہا۔ رات خاموش اور سنسان تھی۔ آسمان پر چاند نہیں تھا مگر ستارے خوب چمک رہے تھے جن کی دھندلی پھیکی پھیکی روشنی کا غبار سا چاروں طرف پھیلا ہوا تھا۔ جہاز لنگر انداز تھا مگر سمندر کی دھیمی دھیمی موجوں میں وہ آہستہ آہستہ ڈول رہا تھا۔ شروع رات میں ہوا بند تھی لیکن جوں جوں رات ڈھل رہی تھی ہوا کا چلتے رہنا بہت ضروری تھا۔ دوسری صورت میں میری اسکیم دھری کی دھری رہ جاتی۔ چند لمحے عرشے کے تختے پر بے حس و حرکت پڑے رہنے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ چوکیدار اگر کوئی ہے تو وہ عرشے پر نہیں ہے بلکہ جہاز کے اندر کسی جگہ ہوگا۔

میں آہستہ سے اٹھا او رجھک کر چلتا لکڑی کے اس محرابی دروازے تک آیا جو بند تھا۔ میں جانتا تھا کہ یہاں سے ایک سیڑھی نیچے جاتی ہے۔ اس قسم کے سینکڑوں جہازوں میں سفر کرچکا تھا۔ اس زمانے میں سبھی جہاز ایک سے ہوا کرتے تھے۔ میں نے دروازے کے ایک پٹ کو آہستہ سے دھکیلا۔ وہ ایک ہلکی سی چرچراہٹ کے ساتھ کھل گیا۔ رات کے سناٹے میں دروازے کی چرچراہٹ کافی پریشان تھی۔ میں ایک پل کے لئے ایک بار پھر ساکت ہوگیا۔ میں نے سر اندر ڈال کر دیکھا۔ لکڑی کی چھوٹی سی سیڑھی نیچے چلی گئی تھی۔ نیچے کسی چراغ کی دھیمی روشنی پڑرہی تھی۔ میں سانپ کی طرح رینگ کر دروازے کے ادھ کھلے پٹ میں سے دوسری طرف چلا گیا اور الٹے رُخ سیڑھیاں اترنے لگا۔ چھ سات سیڑھیاں تھیں۔ آگے سر نکال کر دیکھا۔ چھوٹی سی تنگ راہداری تھی جس کی چھت پر ایک جگہ شمع دان میں چراغ روشن تھا۔ راہ داری بالکل خالی تھی۔ میں دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑاہوگیااور ہمہ تن گوش ہوگیا۔ مجھے آہٹ سی سنائی دی۔ پھر جیسے کوئی دروازہ کھلا اور دوبارہ بند کردیا گیا۔ میں اندھیرے میں پیچھے ہٹ گیا اور سانس روک لیا۔ کوئی بھاری قدم اٹھاتا راہداری میں میری جانب چلا آرہا تھا۔ میں اندھیرے میں تھا مگر قریب سے مجھے بڑی آسانی کے ساتھ دیکھا جاسکتا تھا۔ میں چوکس ہوگیا۔ اچانک ایک بحری قزاق جس کے کانوں میں تانبے کی بالیاں تھیں۔ سر پر رومال بندھا تھا۔ کمر میں خنجر لٹکائے ہاتھ میں بالٹی لئے میرے سامنے آگیا۔ اس نے مجھے دیکھتے ہی چیخ ماری اور خنجر نکال کر مجھ پر جھپٹا۔ میں غافل نہیں تھا، اس کے حملے کا انتظار کررہا تھا۔ اس کا خنجر والا ہاتھ اٹھا ہی تھا کہ میں نے اس کی گردن دبوچ لی۔ اس کے خنجر کا بھرپور وار میری گردن پر پڑا اور خنجر میری گردن سے ٹکرا کر چٹ گیا۔ اس سے پہلے کہ بحری قزاق دوسری آواز نکالتا اس کی آنکھیں باہر کو ابل آئیں میں نے اس کے سر پر ایک مکا مارا، وہ راہداری کے فرش پر گرپڑا اور مجھے ایسا لگا جیسے اس کی گردن اندر کو دھنس گئی ہے۔ وہ بے ہوش ہوچکا تھا یا مرچکا تھا۔ میں نے اس کے سر سے رومال اتار کر اس کے دونوں بازوؤں کو پیچھے کرکے باندھا اور راہداری سے گزرکر آگے آگیا۔ وہاں ایک چھوٹا سا کیبن تھا جس کا دروازہ تھوڑا سا کھلا تھا اور اندر سے روشنی کی ایک لکیر سی باہر آرہی تھی۔(جاری ہے)

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 155 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -اہرام مصرسے فرار -