حکمران آلو پیاز ٹماٹر کی تجارت اور کرکٹ ڈپلومیسی کی باتیں چھوڑ کر مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف توجہ دیں : سراج الحق

حکمران آلو پیاز ٹماٹر کی تجارت اور کرکٹ ڈپلومیسی کی باتیں چھوڑ کر مسئلہ ...
حکمران آلو پیاز ٹماٹر کی تجارت اور کرکٹ ڈپلومیسی کی باتیں چھوڑ کر مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف توجہ دیں : سراج الحق

  

کوٹلی (نیوز ڈیسک)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکمرانوں کو   آلو ، پیاز ،  ٹماٹر  ، کی تجارت اور فنکاروں اور اداکاروں کے طائفوں اور کرکٹ ڈپلومیسی کی باتیں چھوڑ کر سنجیدگی سے مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف توجہ دینی چاہئے،  پاکستانی حکمران مودی جیسے قاتل سے ہاتھ ملاتے ہیں تو کشمیر ی شہداءکے والدین کے سینے چھلنی ہوجاتے ہیں ،بھارت کو پسندیدہ ملک قراردیکراور دوستی کی پینگیں بڑھاکرحکمران کشمیر یوں کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہیں، کوٹلی آزاد کشمیر میں بڑے عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ آزادی کشمیر کے حوالے سے حکمرانوں کا رویہ انتہائی غیر سنجیدہ ہے۔پاکستان کی سلامتی اور بقا کی ضمانت صرف آزادی کشمیر سے دی جاسکتی ہے۔وزیر اعظم بیرونی سرمائے کے حصول کیلئے روزانہ بیرونی دوروں پر ہوتے ہیںاگر اتنی تگ و دو کشمیر کے مسئلہ کو عالمی سطح پراجاگر کرنے کیلئے کرتے توآج ملک کو کسی بیرونی امداد اور سرمائے کی ضرورت نہ ہوتی۔وزیر اعظم جس طرح جہاز بھر کر سرمایہ ڈھونڈنے جاتے ہیں کبھی اوآئی سی اور اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو بھی ساتھ بٹھا کر اقوام متحدہ میں جائیں اور کشمیر اور فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی آواز بنیں۔لاکھوں کشمیری پاکستان پر قربان ہوچکے ہیں مگر ہمارے حکمرانوں نے ان کی قربانیوں کو ضائع کرکے مودی کی گود میں بیٹھنے کیلئے بے چین ہیں۔خطے میں قیام امن کیلئے مسئلہ کا فوری حل ہونا ضروری ہے ،بھارت میں بڑھتی ہوئی انتہاپسندی خطے کے امن پر لٹکتی تلوار ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوٹلی آزاد کشمیر میں بڑے عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ خطے میں اس وقت تک امن کے قیام کی ضمانت نہیں دی جاسکتی جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا ،پاکستان اور بھارت کے درمیان اصل تنازعہ کشمیر کا مسئلہ ہے ،جسے حل کئے بغیر تعلقات کی بحالی کے مصنوعی اقدامات سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی ختم نہیں ہوسکتی۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کی آزادی قومی ایجنڈا ہے جس سے انحراف کرنے والے کو قوم ایک لمحہ کیلئے برداشت نہیں کرے گی اس لئے حکمرانون کو چاہئے کہ آلو پیاز ٹماٹر کی تجارت اور فنکاروں اور اداکاروں کے طائفوں اور کرکٹ ڈپلومیسی کی باتیں چھوڑ کر سنجیدگی سے اس مسئلہ کے حل کی طرف توجہ دینی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ جب پاکستانی حکمران مودی جیسے قاتل سے ہاتھ ملاتے ہیں تو کشمیر ی شہداءکے والدین کے سینے چھلنی ہوجاتے ہیں ،بھارت کو پسندیدہ ملک قراردیکراور دوستی کی پینگیں بڑھاکرحکمران کشمیر یوں کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہیں۔

مزید : کوٹلی